بٹوارے میں اہم کردار

بٹوارے میں اہم کردار


                                                         نواب علی یوسفزی
18 فروری 1947 کو جب پہلی بار چرچل ھندوستان آیا تھا تو فوج کی ایک رجمنٹ اس کی ماتحت تھی، اس نے ھندوستان کے میدانوں میں پولو کھیلا تھا، سؤر اور شیر اور ہرن کے شکار کا بہت شوقین تھا، یہ شوق اس نے ھندوستان میں پورا کیا، اس کا آمنا سامنا درہ خیبر، دیر، باجوڑ اور بونیر کے پہاڑوں میں غیور پختونوں سے ہوا تھا۔ ھندوستان سے چرچل کی امنگوں بھری جوانی کی یادیں وابستہ تھیں اور یہ بات اس کو بہت پسند تھی کہ اتنے بڑے ملک کی بھاگ ڈور انگریز نے کس طرح مضبوطی سے سنبھالی ہوتی اس وقت تک دنیا میں انگریزوں کی ساکھ پر آنچ نہیں آ سکتا۔ 1910 سے ہی چرچل نے ہر ممکن کوشش کہ کسی طرح سے آزادی کی راہ پر ہندستانیوں کی پیش قدمی کو روکا جا سکے۔ گاندھی اور ان کے ساتھیوں کو وہ ھمیشہ غیرضروری سمجھتا تھا مشکل یہ تھی کہ1945  کے انتخابات میں چرچل اور اس کی پارٹی کنزرویٹو کو شکست ہوئی تھی اس کے باوجود ہاؤس آف لارڈز میں چرچل کی کنزرویٹو پارٹی کی اکثریت تھی، اگر وہ چاھتے تو ھندوستان کی آزادی میں دو سال تک مزید دیر ہو سکتی تھی۔ اس روز ہاؤس آف کامن میں ونسٹن چرچل سب سے زیادہ غمگین تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اس کا جانشین وہ تجویز رکھنے والا ہے جس پر غور کرنے سے ھمیشہ انکار کیا تھا یعنی برطانوی سامراج کا خاتمہ اور ھندوستان سے انگریزوں کی روانگی، جب وزیر اعظم کی حیثیت سے کلیمنٹ ایٹلی تقریر کرنے کھڑا ہوا تو چرچل نے اپنے منہ کا مزہ بگڑتا ھوا محسوس کیا۔ ایٹلی کے ہاتھ میں جو مختصر تجویز تھی اس کا بیشتر حصہ اس ایڈمرل کا مرتب کیا ہوا تھا جو بہت جلد ھندوستان کے آخری وائسرائے کی حیثیت سے دہلی جانے والا تھا تاکہ وہ ھندوستان چھوڑنے کا ایک ایسا طریقہ تلاش کرے جو کم از کم تکلیف دہ ہو۔ تجویز میں جو اھم باتیں تھیں ان پر کم از کم ایک ہفتہ ایٹلی سے بحث و مباحثہ ہوا تھا اب وہی تجویز  ایوان کے سامنے رکھی جانے والی تھی۔ چرچل نے گہری سانس لی؛ ایٹلی نے یہ تاریخی اعلان پڑھ کر سنایا کہ برطانوی حکومت نے یہ فیصلہ کر لیا ھے کہ وہ تمام ضروری اقدامات کرے گی جن کے زریعے جون 1948 تک تمام اختیارت ھندوستان کو سونپ دیئے جائیں گے۔ ایوان میں سناٹا چھا گیا۔ مشکل سے14  مہینے باقی تھے اور اس کے بعد صدیوں پرانے رشتے ٹوٹیں گے اور سونے کی چڑیا آزاد ھو جائے گی اور انگریزوں کی زندگی کا ایک دور ختم ہوئے جائے گا۔ ایوان میں مخالف پارٹی کی طرف سے چرچل نے اس تجویز کی مخالفت میں کہا کہ سامراج کو ہر صورت میں بر قرار رکھنا چاہیے لیکن اس کی زوردار تقریر کے باوجود آخر میں جب ایوان کی رائے لی گئی تو جون1948  تک ھندوستان کو آزاد کرنے کی وہ تجویز بڑی اکثریت سے منظور ہو گئی۔