مشترکہ اجلاس میں حکومت نے یکطرفہ قانون سازی کرکے جمہوریت کی توہین کی، میاں افتخارحسین

مشترکہ اجلاس میں حکومت نے یکطرفہ قانون سازی کرکے جمہوریت کی توہین کی، میاں افتخارحسین

ملاکنڈ۔۔۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل میاں ا فتخارحسین نے کہا ہے کہ پشتون خطے میں ایک بار پھر دہشتگرد منظم ہورہے ہیںلیکن حکومت کی سطح پر سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی نے جانوں پر کھیل کر ملاکنڈ ڈویژن سمیت پورے ملک میں امن کا قیام ممکن بنایا۔ ہم اپنے کارکنان اور رہنمائوں کی قربانیاں رائیگاں جانے نہیں دیں گے۔

 

سخاکوٹ ملاکنڈ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخارحسین نے کہا کہ حکومت نے جس طریقے سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قانون سازی کی، وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔سپیکر قومی اسمبلی نے جس جانبداری کا مظاہرہ کیا اس پر مزید اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور اخلاقی طور پر مزید اس کرسی پر رہنے کا جواز باقی نہیں رہا۔ ملک کا سب سے بڑا جھوٹا شخص آج وزیراعظم کی کرسی پر براجمان ہے اور جھوٹے طریقے سے گذشتہ روز غیرجمہوری انداز میں قانون سازی کی گئی۔

 

افتخارحسین نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین دھاندلی کا نیا اور جدید ترین طریقہ ہے جس میں مخصوص اور پسندیدہ سیاسی جماعت کو مسلط کیا جائیگا۔ آر ٹی ایس ایک فلاپ طریقہ تھا جس نے عمران خان کو اس ملک پر مسلط کیا لیکن آج ایک بار پھر انکے لئے پہلے سے منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ای وی ایم مسترد کیا جاچکا ہے لیکن پاکستان آج اسے کسی کی خواہش پر اپنارہا ہے۔

 

بلدیاتی انتخابات بارے ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنے ہی انتخابی نشان سے بھاگ رہی ہے کیونکہ عوام اب انکے انتخابی نشان اور پی ٹی آئی کے نام کو برداشت نہیں کرسکتے۔ مہنگائی نے ملک کا بیڑا غرق کردیا ہے اور غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے عوام خودکشیوں پر مجبور ہوچکے ہیں۔ بین الاقوامی مہنگائی کی مثالیں دینے والے ان ممالک کے کم از کم اجرت بھی عوام کو بتائے کہ وہاں ایک گھنٹہ مزدوری پر کتنی رقم دی جاتی ہے۔ روپے کی قدر میں ہر روز کمی ہوتی چلی جارہی ہے۔ ملک کو آئی ایم ایف کے حوالہ کردیاگیا اور اب یہ مصنوعی مہنگائی ان معاہدوں کی وجہ سے ہے جو سخت ترین شرائط پر یہ حکومت کرچکی ہے۔  ان تمام مسائل کا واحد حل نئے شفاف، غیرجانبدار اور بغیر کسی مداخلت کے انتخابات ہیں اور عوامی نیشنل پارٹی اس مطالبے پر روز اول سے قائم ہے۔