ذکر تجاوزات کا

ذکر تجاوزات کا

تحریر: ڈاکٹر محمد ہمایون ہما

آج تجاوزات کے موضوع پر بات کرنے کو جی چاہتا ہے۔ یہ تحریک کیوں ہوئی اور تجاوزات کا خیال ذہن میں کیوں آیا؟ اس کی وجہ بھی بیان کروں گا پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ تجاوزات کی بے شمار اقسام اور صورتیں ہوتی ہیں۔ تنخواہ لینا اور کام چوری کرنا، بہن بیٹی کو جائیداد میں حصہ دینے سے انکار کرنا، راستہ تنگ کر کے مسجد کھڑی کر دینا، ہم تو ان سب کاموں کو تجاوزات ہی کا نام دیتے ہیں۔ مگر ہمارے ایک دوست صحافی ہیں سعید احمد باچا ان کو اور مجھے شہر کے مسائل کی بڑی فکر ہوتی ہے۔ قاضی سے کسی نے پوچھا دبلے کیوں ہوئے؟ بولا شہر کی فکر میں۔ ہم تو خیر نہ قاضی ہیں اور نہ کوتوال، ہمارے سعید باچا تو ایک بے باک قسم کے صحافی ہیں۔ اپنی بے باکی کے جرم میں ان پر عدالتوں میں مقدمے بھی دائر کیے گئے ہیں چنانچہ اپنی صحافتی ذمہ داریوں کی وجہ سے وہ شہر کے مسائل کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں۔ ابھی کل پرسوں انہوں نے کتاب چہرے پر سوال اٹھایا ''مردان شہر میں غیرقانونی تجاوزات ختم کرنے کی ذمہ داری کن لوگوں پر عائد ہوتی ہے۔ میونسپل کمیٹی کے کرتا دھرتا، ٹی ایم او پر یا پھر ضلعی انتظامیہ کا یہ فریضہ ہے۔'' جانے انہیں اس سوال کا جواب ملا یا نہیں ہمیں البتہ یہ ضرور معلوم ہے کہ بگٹ گنج بازار سے لے کر ہوتی پل پار ہوتی اور بغدادہ تک تجاوزات کا میلا لگا ہوا ہے۔ سچ پوچھئے ہم تو ہمیشہ سے یہ سنتے چلے آ رہے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ نے شہر کے تجاوزات کو ختم کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ مہینہ میں ایک دو بار تین چار لوگ بیلچے اور کدالوں سے شہر کے کسی حصے میں دکانوں کے شٹرز اکھاڑنے لگتے ہیں، ریڑھیوں کا سامان سڑک پر الٹ دیتے ہیں اور فٹ پاتھ پر بنی دکانوں کو اجاڑ دیتے ہیں۔ ہم نے نوٹ کیا ہے یہ صرف ایک دن کی کارروائی ہوتی ہے، دوسرے دن وہ تجاوزات ایک بار پھر قائم و دائم نظر آتے ہیں۔ ان تجاوزات کو بنتے اور اجڑتے دیکھ کر جانے ہمیں سد سکندری کی حکایت کیوں یاد آ جاتی ہے جس کو ختم کرنے کے لیے یاجوج ماجوج کی فوج اسے چاٹ چاٹ کر ختم کر دیتی ہے مگر دیوار کا کچھ حصہ دوسرے روز کے لئے چھوڑ دیتی ہے۔ صبح جب وہ آتے ہیں تو سد سکندری پھر جوں کا توں کا کھڑا نظر آتا ہے۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ ضلعی انتظامیہ یا ٹی ایم او کے عملے کی تجاوزات ختم کرنے کی یہ مہم جس جوش وخروش سے شروع کی جاتی ہے اگر اسے کچھ عرصے تک جاری رکھا جائے تو تجاوزات  نام کی کوئی چیز شہر میں باقی نہ رہتی۔ ہم کو معلوم نہیں کہ ان لوگوں کے جوش و جذبے کو ختم کرنے کے لئے کون سے گنڈے تعویذ ان کو گھول کر پلا دیئے جاتے ہیں کہ ان کی تجاوزات ختم کرو تحریک دیرپا ثابت نہیں ہوتی۔ ان تجاوزات کے پس منظر میں وہ کون سا مافیا کارفرما ہے جن کے سامنے ٹی ایم او یا پھر ضلعی انتظامیہ کے یاجوج ماجوج کی ایک نہیں چلتی۔ ہم یہ بھی بتاتے چلیں کہ تجاوزات صرف مردان شہر کا مسئلہ نہیں۔ یقین جانیے ہم کو پشاور کے خیبر بازار میں فٹ پاتھوں پر لگی دکانوں کی وجہ سے اپنی ضرورت کی کسی دکان کو ڈھونڈنے میں ہمیشہ دقت کا سامنا رہتا ہے۔ ہم نے ہمیشہ پوچھا ہے کہ روزنامہ وحدت کے دفتر کا راستہ کون سا ہے۔ اور یونیورسٹی بک ایجنسی اب کہاں شفٹ ہو گئی ہے۔ اس سے آگے بڑھیں تو قصہ خوانی بازار میں بھی گاڑی تو دور کی بات ہے پیدل چلنا بھی دشوار ہوتا ہے اور ان راستوں پر تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی جہاں لوگ گھنٹوں ایک دوسرے کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ''جوڑ تازہ'' میں مصروف ہوتے ہیں۔ یہی حال لاہور کا بھی ہے۔ آپ کو اپنی ضرورت کی دکان کے سامنے گاڑی کھڑی کرنے کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ملک کے ہر بڑے شہر کی یہی صورت حال ہو گی۔ ہم مانتے ہیں کہ آبادی میں بے تحاشہ اضافہ بھی اس کی ایک بہت بڑی وجہ ہے مگر حکومت کی شہروں کو منظم رکھنے کی منصوبہ بندی کا فقدان بھی ہے۔ بے ہنگم ٹریفک اور پھر بازاروں میں تجاوزات کی بھرمار نے شہریوں کو اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ہماری سعید باچا سے یہی استدعا ہے کہ انہیں جب مردان میں تجاوزات پر چشم پوشی، اس کے پس منظر میں کارفرما مافیا اور ان کے خاتمے کی مہم کو ناکام بنانے والوں کا پتہ لگ جائے تو ہمیں ضرور بتائیں تاکہ ہم ایک دو رکعت نفل شکرانے کے ادا کریں اور ذمہ داروں کی خدمت میں مٹھائی کا ایک ڈبہ پیش کریں۔