فیصلہ آپ نے کرنا ہے

 فیصلہ آپ نے کرنا ہے

 تحریر: ایمل خان یوسفزئی

سقراط نے جب زہر کا پیالہ پیا تو ایتھنز کے حکمرانوں نے سکھ کا سانس لیا کہ ان کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے والا جہنم رسید ہوا، یونان کی اشرافیہ جیت گئی، سقراط کی دانش ہار گئی۔ وقت گزرتا  گیا۔ اسکاٹ لینڈ کی جنگ آزادی لڑنے والے دلاور ولیم والس کو جب انگلینڈ کے بادشاہ ایڈورڈ اول نے گرفتار کیا تو اس پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا۔ اسے بر ہنہ کر کے گھوڑوں کی  صفوں کے ساتھ باندھ کر لندن کی گلیوں میں گھسیٹا گیا اور پھر ناقابل بیان تشدد کے بعد اسے پھانسی دے کر لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے۔ اس وقت کا بادشاہ جیت گیا، ولیم والس ہار گیا۔ وقت گزرتا  گیا۔ مسلمان سائنس دان زکریہ الرازی، عظیم فلسفی، کیمیا دان، فلکیات دان اور طبیب کو جھوٹا، ملحد اورکافر قرار دیا گیا۔ حاکم وقت نے حکم سنایا کہ رازی کی کتاب اس وقت تک اس کے سر پر ماری جائے جب تک یا تو کتاب نہیں پھٹ جاتی یا رازی کا سر۔ اس طرح بار بار کتابیں سر پر مارے جانے کی وجہ سے رازی اندھا ہو گیا اور اس کے بعد موت تک کبھی نہ دیکھ سکا۔ جسے مغربی دنیا کے لوگ Father Of Chemistry کہتے ہیں۔ جس نے کیمیا، طب، فلسفہ اور فلکیات پر کام کیا۔ جس کی کتاب الکیمیا اور کتاب السابعین صرف مغرب کی لائبریریوں میں ملتی ہے۔ جابر بن حیان سے حاکم وقت کا سلوک ملاحظہ ہو۔ حکومت وقت نے جابر کی  والدہ کو کوڑے مار مار کر شہید کر دیا۔ جابر شہر بصرہ چلا گیا۔ حاکم بصرہ کو بھی اس کی شہرت برداشت نہ ہوئی۔ حاکم کے درباری جابر کی بڑھتی ہوئی علمی شہرت اور مسلکی اختلاف کو حکومت کے لیئے خطرہ سمجھنے لگے۔ ایک دن جابر کو الزامات کی زد میں لا کر قاضی بصرہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ قاضی نے حاکم کی ایماء پر جابر کو سزائے موت سنا دی۔ اور یوں جس جابر بن حیان کو آج مغرب بابائے کیمیا Father of Chemistry کہتا ہے اس کی کیمیا گری، علم اور سائنسی ایجادات کو اس کے اپنے ھم مذھبوں نے جادوگری، کذب اور کفر قرار دے دیا۔ اور حاکم وقت جیت گیا لیکن آج لوگ جابر بن حیان کو ایک اعظیم سائنسدان کے نام سے جانتے ہیں جبکہ اس قاضی اور حاکم وقت کو ظالم اور جابر کے نام سے تاریخ یاد رکھتی ہے۔ گلیلیو نے ثابت کیا کہ زمین اور دیگر سیارے سورج کے گرد گھومتے ہیں تو یہ کیتھولک عقائد کی خلاف ورزی تھی، چرچ نے گلیلیو پر کفر کا فتوی لگایا اور اسے غیرمعینہ مدت تک قید کی سزا سنا دی، یہ سزا 1633 میں سنائی گئی، گلیلیو اپنے گھر میں ہی قید رہا اور1642  میں وہیں اس کی وفات ہوئی۔ پادری جیت گئے سائنس ہار گئی۔ وقت گزر گیا۔ جیورڈانو برونو پر بھی چرچ کے عقائد سے انحراف کرنے کا مقدمہ بنایا گیا، برونو نے اپنے دفاع میں کہا کہ اس کی تحقیق عیسائیت کے عقیدہ خدا اور اس کی تخلیق سے متصادم نہیں مگر اس کی بات نہیں سنی گئی اور اسے اپنے نظریات سے مکمل طور پر تائب ہونے کے لئے کہا گیا، برونو نے انکار کر دیا، پوپ نے برونو کو کافر قرار دے دیا، 8 فروری 1600 کو جب اسے فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا تو برونو نے تاریخی جملہ کہا ''میں یہ فیصلہ سنتے ہوئے اتنا خوفزدہ نہیں ہوں جتنا تم یہ فیصلہ سناتے ہوئے خوفزدہ ہو۔'' برونو کی زبان کاٹ دی گئی اور اسے زندہ جلا دیا گیا۔ پوپ جیت گیا، برونو ہار گیا۔ وقت گزرتا گیا۔ حجاج بن یوسف جب خانہ کعبہ پر آگ کے گولے پھینک رہا تھا تو اس وقت ابن زبیر نے جوانمردی کی تاریخ رقم کی، انہیں مسلسل ہتھیار پھینکنے کے پیغامات موصول ہوئے مگر آپ  نے انکار کر دیا، اپنی والدہ حضرت اسما سے مشورہ کیا، انہوں نے کہا کہ اہل حق اس بات کی فکر نہیں کیا کرتے کہ ان کے پاس کتنے مددگار اور ساتھی ہیں، جاؤ تنہا لڑو اور اطاعت کا تصور بھی ذہن میں نہ لانا۔ ابن زبیر  نے سفاک حجاج بن یوسف کا مقابلہ کیا اور شہادت نوش فرمائی۔ حجاج نے آپ کا سر کاٹ کر خلیفہ عبد المالک کو بھجوا دیا اور لاش لٹکا دی، خود حضرت اسما کے پاس پہنچا اور کہا تم نے بیٹے کا انجام دیکھ لیا، آپ نے جواب دیا ہاں تو نے اس کی دنیا خراب کر دی اور اس نے تیری عقبی بگاڑ دی۔ حجاج جیت گیا، ابن زبیر  ہار گئے۔ وقت گزرتا گیا۔ ابو جعفر منصور نے کئی مرتبہ امام ابوحنیفہ کو قاضی القضا بننے کی پیشکش کی مگر آپ نے ہر مرتبہ انکار کیا، ایک موقع پر دونوں کے درمیان تلخی اس قدر بڑھ گئی کہ منصور کھلم کھلا ظلم کرنے پر اتر آیا، اس نے انہیں بغداد میں دیواریں بنانے کے کام کی نگرانی اور اینٹیں گننے پر مامور کر دیا، مقصد ان کی ہتک کرنا تھا، بعد ازاں منصور نے امام ابوحنیفہ کو کوڑے مارے اور اذیت ناک قید میں رکھا، بالآخر قید میں ہی انہیں زہر دے کر مروا دیا گیا، سجدے کی حالت میں آپ کا انتقال ہوا، نماز جنازہ میں مجمع کا حال یہ تھا کہ پچاس ہزار لوگ امڈ آئے، چھ مرتبہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔ منصور جیت گیا، امام ابو حنیفہ ہار گئے۔ وقت گزرتا گیا۔ حکومت وقت  نے  اعلان کیا کہ کوئی  بھی قرآن شریف کو کلام اللہ نہیں کہے گا۔ بہت سے علماء کو شہید کیا گیا اور بہت سوں کو ملک بدر کیا گیا۔ تب امام محمد بن حنبل نے کہا کے جاؤ ہارون  رشید کو بتا دو کہ میں محمد بن حنبل قرآن شریف کو کلام اللہ کہتا ہوں  اور اس وجہ سے ان کو اسی کوڑے مارے گئے۔ اور ان کی وفات بھی بڑی مشکل حالات میں ہوئی۔ بظاہر تو ہارون رشید جیت گیا اور امام ہار گئے لیکن تاریخ میں ہار جیت کا فیصلہ طاقت کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ یونان کی اشرافیہ سقراط سے زیادہ طاقتور تھی مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ سقراط کا سچ زیادہ طاقتور تھا۔ ولیم والس کی دردناک موت کے بعد اس کا نام لیوا بھی نہیں ہونا چاہئے تھا مگر آج ابیرڈین سے لے کر ایڈنبرا تک ولیم والس کے مجسمے اور یادگاریں ہیں، تاریخ میں ولیم والس امر ہو چکا ہے۔ گلیلیو پر کفر کے فتوے لگانے والی چرچ اپنے تمام فتوے واپس لے چکی ہے، رومن کیتھولک چرچ نے ساڑھے تین سو سال بعد تسلیم کیا کہ گلیلیو درست تھا اور اس وقت کے پادری غلط۔ برونو کو زندہ جلانے والے بھی آج یہ بات مانتے ہیں کہ برونو کا علم اور نظریہ درست تھا اور اسے اذیت ناک موت دینے والے تاریخ کے غلط دوراہے پر کھڑے تھے۔ تاریخ میں حجاج بن یوسف کو آج ایک ظالم اور جابر حکمران کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس کی گردن پر ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کا خون ہے جبکہ حضرت عبداللہ ابن زبیر شجاعت اور دلیری کا استعارہ ہیں، حجاج کو شکست ہو چکی ہے ابن زبیر فاتح ہیں۔ جس ابوجعفر منصور نے امام ابوحنیفہ کو قید میں زہر دے کر مروایا اس کے مرنے کے بعد ایک جیسی سو قبریں کھودی گئیں اور کسی ایک قبر میں اسے دفن کر دیا گیا تاکہ لوگوں کو یہ پتہ نہ چل سکے کہ وہ کس قبر میں دفن ہے۔ یہ اہتمام اس خوف کی وجہ سے کیا گیا کہ کہیں لوگ اس کی قبر کی بے حرمتی نہ کریں۔ آج اتنے صدیوں بعد بھی ہم جابر بن حیان اور زکریہ المنصوری کو کتابوں میں پڑھتے ہیں۔ گویا تاریخ کا فیصلہ بہت جلد آ گیا۔ وقت گزرا اور  ٹیپو سلطان اور  سراج دولہ کا زمانہ آیا۔ دونوں نے وطن اور مٹی کی خاطر تکلیفیں سہیں، اپنوں کو کھویا اپنی بادشاہت ختم کر دی اور اپنا جاہ و جلال خاک میں ملا دیا لیکن وہ انگریز کا مقابلہ نہ کر سکے اور اپنے وطن کی خاطر جان دے دی اور ہار گئے۔ دوسری طرف میر جعفر اور میر صادق جیت گئے لیکن تاریخ میں ان دونوں کا سب سے برا حشر ہوا۔ (جاری ہے)