تاج محل کو مندر میں تبدیل کرنے کی گھناونی سازش

تاج محل کو مندر میں تبدیل کرنے کی گھناونی سازش

تحریر: ڈاکٹر جمشید نظر

شہور برطانوی سیاح ایڈورڈ لیئر کا 1874 میں کہنا تھا کہ''دنیا کے باشندوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے،ایک وہ جنھوں نے تاج محل کا دیدارکیااور دوسرے وہ جو اس کے دیدار سے محروم رہے۔سنگ مَرمَر سے بنی عظیم الشان عمارت ''تاج محل ''مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے اپنی ملکہ ارجمند بانو جسے ممتاز محل بھی کہا جاتا ہے ، سے لازوال محبت کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھنے کے لئے بنوایا تھا۔ ایک مرتبہ امریکی صدر کینڈی کی اہلیہ جیکی کینڈی انڈیا میں تاج محل دیکھنے آئی تو اس نے بین الاقوامی اخباری نمائندوں کواپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہاکہ ''میں یہ عمارت اس لئے دیکھنے آئی ہوں کہ کیا واقعی کوئی مرد کسی عورت سے اس قدر پیار کرسکتا ہے۔''دنیا کا عجوبہ کہلانے والے تاج محل کو دیکھنے کے لئے دنیا بھر سے ہر سال تیس لاکھ سے زائد سیاح اور محبت کے دیوانے انڈیا جاتے ہیں جس کی وجہ سے انڈیا کو دیگر سیاحتی مقامات کی نسبت سب سے زیادہ آمدنی تاج محل سے حاصل ہوتی ہے اس کے باوجود انڈیا کے بجٹ میںتاج محل کا ذکر تک نہیں کیا جاتا جس کی بنیادی وجہ انتہا پسند ہندو تنظیموں کا مذہبی تعصب ہے جو محبت کی یادمیں بنائے گئے اس محل کوایک مندر میں تبدیل کرنا چاہتی ہیں۔ 
ہندوستان ٹائمز کی ایک حالیہ سنسنی خیزرپورٹ کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے میڈیا انچارج ڈاکٹر رجنیش نے الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنؤ بنچ میں ایک پٹیشن دائر کی ہے کہ تاج محل کے اندربند بیس کمروں کو ہندووں کے لئے کھولا جائے کیونکہ تاج محل کے کمروں میں ہندو دیوتاؤں کی مورتیاں ہیںاس لئے ہندوتنظیموں کو مورتیوں کی کھوج لگانے کی اجازت دی جائے۔اس پٹیشن سے یہ بات بالکل صاف ہے کہ جس طرح انتہا پسندہندو تنظیم شیو سینا اورحکمران جماعت بی جے پی نے مل کر رام جنم بھومی کا بہانہ بنا کرکے بابری مسجد کو شہید کروادیا تھا اسی طرح اب وہ تاج محل کو بھی مندر بنانا چاہتے ہیں اسی لئے ہندو تاج محل کو کبھی شیو کی عبادت گاہ تو کبھی تیجو مہلایاکا مندرکہنے لگے ہیں۔حالیہ دائرکردہ پٹیشن سے قبل 2015 میںبھی چھ ہندو وکلاء نے مقدمات دائر کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ تاج محل اصل میں شیو(ہندووں کے بھگوان) کی عبادت گاہ ہے اس کے بعد 2017 میں بی جے پی لیڈر'' ونے کٹیار'' نے اسی دعوے کو دہرایاتھا یہاں تک کے جنوری 2019 میں بی جے پی کے ایک اور لیڈر'' اننت کمار ہیگڑے ''نے  ایک انوکھادعویٰ کردیا کہ تاج محل مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے بنوایا ہی نہیںتھا بلکہ اس نے ہندوبادشاہ جے سمہا سے بنابنایا خریدا تھا۔ ہندووں کے ایک مذہبی رہنمانے یہ اعلان تک کررکھا ہے کہ وہ اپنے بھگتوں کے ہمراہ تاج محل میں اپنے بھگوان شیو کی مورتی نصب کرکے رہے گا۔ 
اُدھر بنارس میںمغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کی تعمیرکردہ مسجد ''گیان واپی مسجد'' کو بھی مندر میں تبدیل کرنے کا عدالتی کیس شدت اختیار کررہا ہے۔ اس کیس میں بھی ہندووںکی جانب سے دعوی کیا جارہا ہے کہ گیان واپی مسجد کی جگہ پر ''کاشی وشواناتھ'' کا مندر تھا۔ حقیقت یہی ہے کہ مودی حکومت نے انڈیا میں تمام تاریخی اور بڑی مساجد کو مندر میںتبدیل کرنے کا خفیہ منصوبہ بنارکھاہے اسی منصوبے کے تحت مساجد کے لاوڈ سپیکرز پر اذان دینے کی پابندی بھی لگائی گئی ہے۔ انڈیا میں مسلمانوں کی نسل کشی اورمساجد کو شہید کرکے مندر بنانے جیسے واقعات پر پوری مسلم اُمہ کو یکجا ہوکر فوری ایکشن لینا ہوگااس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ اورعالمی برادری کو بھی چاہئے کہ وہ خطہ کا امن برقرار رکھنے کے لئے انڈیا میں مسلمانوں پر بربریت کے واقعات کی روک تھام کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔