چارسدہ، پولیس اسٹیشن کو آگ لگانے پر سینکڑوں کے خلاف مقدمہ درج

چارسدہ، پولیس اسٹیشن کو آگ لگانے پر سینکڑوں کے خلاف مقدمہ درج

خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ  کے علاقے مندنی میں میں ایک روز قبل ایک شخص کی مبینہ طور پر قرآن نذر آتش کرنے واقعے کے بعد پولیس اسٹیشن پر حملے اور اسے نذر آتش کرنے کے الزام میں سینکڑوں مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

 

حکام کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں 30 افراد کو نامزد کیا گیا ہے، اس کے علاوہ 300 سے 400 نامعلوم ملزمان کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے، پولیس نے ملزمان میں آئندہ بلدیاتی انتخابات میں تحصیل ناظم کے لیے دو امیدواروں کو بھی نامزد کیا ہے۔

 

یہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 324، 353، 345، 436، 427، 120، 148، 149 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت درج کیا گیا ہے۔

 

تنگی پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ایک مشتعل ہجوم مندنی پولیس اسٹیشن کے سامنے جمع ہوا اور حکام سے قرآن پاک کی بے حرمتی کے الزام میں گرفتار ایک شخص کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔

 

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ہجوم پرتشدد ہو گیا اور پولیس چوکی پر حملہ کرنے کے ساتھ ساتھ فائرنگ بھی کردی، ہجوم پولیس چوکی میں داخل ہوا اور اس نے ہتھیار اور دیگر قیمتی اشیا پر قبضہ کر لیا۔

 

ایف آئی آر کے مطابق ہجوم نے 22 گاڑیوں کو آگ لگا دی جس میں 3 پولیس وین بھی شامل ہیں اور 12 سب مشین گنیں اور گولہ بارود بھی ساتھ لے گئے، پولیس نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پرتشدد مظاہرے کے دوران مندنی پولیس اسٹیشن اور چار چوکیوں کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں آگ بھی لگا دی گئی۔

 

پولیس نے ابھی تک اس معاملے میں کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی تاہم علاقے میں اسکول اور دیگر تعلیمی ادارے بند رہے، عوام نے نذر آتش کیے گئے تھانے کے سامنے جمع ہو کر احتجاج بھی کیا۔

 

پیر کو علاقے میں حالات کشیدہ رہے، مقامی رہنماؤں اور عمائدین نے بھی مظاہرین سے بات چیت کی اور انہیں پرامن رہنے اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہنگامہ آرائی اور تصادم سے گریز کرنے کی اپیل کی۔

 

اتوار کے روز ایک ہجوم نے چارسدہ میں پولیس اسٹیشن پر حملہ کر کے آگ لگا دی تھی اور حکام سے قرآن پاک کی بے حرمتی کے الزام میں گرفتار ایک شخص کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

 

چارسدہ سے تعلق رکھنے والے خیبر پختونخوا کے وزیر قانون فضل شکور خان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ پولیس نے اتوار کے روز ایک شخص کو مبینہ طور پر قرآن کی بے حرمتی کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور اسے ضلع تنگی کی تحصیل مندانی تھانے میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

 

بعد میں ایک ہجوم تھانے کے باہر جمع ہوا اور حکام سے اس شخص کو ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا، جب پولیس نے ان کا مطالبہ ماننے سے انکار کیا تو ہجوم مشتعل ہو گیا اور پولیس اسٹیشن پر حملہ کر کے اسے آگ لگا دی۔

 

صوبائی وزیر کے مطابق مشتعل مظاہرین نے تھانے میں کھڑی گاڑیوں کے ساتھ توڑ پھوڑ کی تھی لیکن پولیس نے مشتبہ شخص کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا تھا۔

 

انہوں نے کہا کہ حکومت کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دے گی اور گرفتار ملزم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔