گھومتی ڈیلیوریز سے بیٹرز کو پریشان کرنیوالے ''یاسر شاہ'' 

گھومتی ڈیلیوریز سے بیٹرز کو پریشان کرنیوالے ''یاسر شاہ'' 

پشاور(حیدر عباس رضوی)گال ٹیسٹ میں عبدالقادر کا ریکارڈ توڑنے کے ساتھ لیگ سپنر نے شین وارن کی بال آف سنچری کی بھی یاد تازہ کر دی جس میں بلے باز چکرا کر رہ گیا اور باہر جاتی گیند سپن ہو کر بلز اڑا گئی اور سری لنکن بلے باز قطعی طو رپر بال کو سمجھنے میں ہی ناکام ہو گئے۔  

 

کم وقت میں دنیا بھر میں شائقین کے جم غفیر کو مداح بنانے والے یاسر شاہ سابق کینگرو آنجہانی جادوگر سپنر شین وارن کو بھی اپنا گرویدہ بنا گئے تھے جو اکثر اوقات گرائونڈ میں خود لیگ سپنر سے ملنے آ جایا کرتے اور مزید سے مزید بہترین بائولنگ ٹپس دیا کرتے تھے۔  

کرکٹ کے حوالے سے پاکستان کی سرزمین ہمیشہ سے زرخیز رہی ہے، چاہے وہ بائولنگ ہو، بیٹنگ ہو یا پھر فیلڈنگ یا کیپنگ ہر شعبہ میں طاق و ماہر کھلاڑی ہی ملک کی نمائندگی کیلئے پیش پیش رہے ہیں، ماجد خان، عمران خان، جاوید میانداد، ظہیر عباس ، رمیز راجہ، وسیم باری، انضمام الحق ، وسیم اکرم، شعیب اختر ، وقار یونس، محمد یوسف اور یونس خان ایسے کھلاڑی ہیں جنہوں نے اپنی لازوال کارکردگی کی وجہ سے دنیا بھر میں نہ صرف اپنے مداح اور چاہنے والوں کا حلقہ احباب بڑھایا بلکہ آئی سی سی ریکادڑ بک میں کئی ریکارڈز بھی اپنے نام کئے ہیں جنہیں آج نوجوان کھلاڑی  عبور کرنا اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں، ہر مخالف ٹیم پر ان کھلاڑیوں کا ایک دبائو بھی ہوتا تھا، شعیب اختر جیسی بائولنگ آج تک ایک ریکارڈ ہی ہے جن کا سامنا کرتے ہوئے کئی نامور بلے باز گھبراتے تھے، یونس خان کی تکنیک ہی کی بدولت ٹیم میں بائولنگ  سپرٹ پیدا ہوئی ہے  کیونکہ بیٹنگ میں انہیں خاص مہارت حاصل رہی ہے۔ ان قومی کھلاڑیوں میں ہر ایک اپنی اپنی لائن میں ماہر تھا کوئی تیز ترین بائولنگ میں ثانی نہیں رکھتا، کوئی رنز بنانے میں سرفہرست جبکہ کوئی وکٹ کیپنگ میں دیوار کی مانند ہر بال کور کر جاتا تھا، ان بے شمار صلاحیتوں کے مالک کھلاڑیوں میں خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے یاسر شاہ بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں جو لیگ سپنز بائولنگ میں طاق ہیں، اس کے ساتھ دائیں ہاتھ کے بلے باز بھی ہیں اور انتہائی قلیل وقت میں آئی سی سی رنکنگ میں بھی نام سجا گئے تھے۔ 

سابق قومی سپنر سعید اجمل کے ایکشن کے مشکوک ہو جانے کے بعد ٹیم میں ایک سپیشلسٹ سپنر کی جگہ پر کرنے یاسر شاہ کا انتخاب کیا گیا اور نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کیخلاف ان کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آنے لگیں اور دبئی کے میدانوں پر انہوں نے مدمقابل بلے بازوں کو خوب تگنی کا ناچ نچایا،  ان ٹیموں کے خلاف ہونیوالی ٹیسٹ سیریز میں یاسر شاہ نے مجموعی طور پر 27 وکٹیں لیں۔ 

2 مئی 1986کو صوابی میں پیدا ہونیوالے تاریخ ساز لیگ سپنر یاسر شاہ 2015 کے کرکٹ عالمی کپ میں شرکت کرنے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم میں بھی شریک تھے یہ ان کا ابتدائی ٹینور تھا جس میں وہ کھل کر سامنے نہ آ سکے تھے، اس کے بعد انہوں نے اپنی بہترین صلاحیتوں کی بدولت عالمی رینکنگ میں نمبر ون پوزیشن بھی حاصل کی جبکہ دنیا بھر میں کئی مداحوں میں بلے بازوں کو پریشان کرنے والے شین وارن  کو بھی اپنا گروید بنا لیا جو اکثر  اوقات ان کے مچیز دیکھنے گرائونڈ بھی آیا کرتے تھے جبکہ ایک آدھ مرتبہ تو وہ خود یاسر شاہ کو اپنے سے بڑا بائولر بھی قرار دے چکے ہیں۔ 

ریکارڈ بک میں اپنی جگہ بنانے والے یاسر شاہ نے  دسمبر 2018 میں نیوزی لینڈ کیخلاف ٹیسٹ سیریز کے آخری میچ کے دوران تیز ترین 200 وکٹیں حاصل کر کے 82 سالہ پرانہ ریکارڈ توڑ دیا جبکہ یہ ابھی ان کا 33  واں ٹیسٹ میچ تھا۔ کبھی ٹیم کے اندر او رکبھی باہر رہنے کے باوجود یاسر نے گال ٹیسٹ میں کم بیک کرتے ہوئے اپنا انتخاب درست ثابت کر دکھایا اور لیجنڈ سپنر عبدالقادر کا ریکارڈ توڑ دیا اور ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے دوسرے پاکستانی لیگ سپنر بن گئے، انہوں نے 240 ٹیسٹ وکٹیں 47 ٹیسٹ میچز کی 87 اننگز میں حاصل کیں، یاسر شاہ نے عظیم گگلی ماسٹر عبدالقادر کا ریکارڈ سری لنکا کے بلے باز انجلیو میتھوز کو آئوٹ کرکے حاصل کیا۔ 2014 میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے یاسر شاہ نے 47 ٹیسٹ میچز میں یہ کارنامہ سرانجام دیا جبکہ لیجنڈ سپنر عبدالقادر نے 67  ٹیسٹ میچوں میں 236 وکٹیں اپنے نام کی تھیں۔  گال ٹیسٹ میچ میں یاسر شاہ نے ایسی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس کی کمنٹیٹرز بھی تعریف کرتے رہے اور ان کی   میچ میں کارکردگی نے شین وارن کی بال آف سنچری کی یاد تازہ کردی جو انہوں نے 4 جون 1993 میں مائیک گیٹنگ کو کرائی جسے سمجھنے میں گیٹنگ بے بس رہے اور وکٹ گنوا بیٹھے اسی بال کو بال آف سنچری بھی قرار دیا گیا تھا۔ ان کی اس لاجواب کارکردگی سے بڑھ کر یاسر شاہ نے پرفارمنس دکھائی، سری لنکا میں جاری ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ میں قومی لیگ سپنر نے ایسی گھومتی بائولنگ کرائی کہ سب چکرا کر رہ گئے، گال ٹیسٹ میں کم بیک کرنے والے لیگ سپنر نے پچ کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی گھومتی گیندیں کرائیں جو ہمیشہ یاد رکھی جائینگی، پاکستانی بائولرز کے سامنے دیوار بنے رہنے والے کوشل مینڈس کو یاسر شاہ کی ایک گیند لیگ سے باہر پڑنے کے بعد اتنی سپن ہوئی کہ آف سٹمپ اڑا گئی، دنیا کا کوئی بھی بیٹر ہوتا شاید اسے سمجھنے میں ناکام رہتا۔ مبصرین اس گیند کا موازنہ شین وارن کی بال آف سنچری سے کرتے رہے کیونکہ وہ بھی سیم کیس تھا۔ اس میں بھی بلے باز بے بس ہو گیا تھا اور نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ کس طرح کھیلے اور اسی چکر میں بلز اڑ گئیں۔ 

ریکارڈ بک کے مندرجات کے مطابق یاسر شاہ کا بہترین بائولنگ ریٹ 41 رنز کے عوض 8 وکٹیں حاصل کرنا ہے، اس کے علاوہ ٹیسٹ میچز میں دس وکٹیں 3 بار، 16 مرتبہ 5،5 وکٹیں اور 9 مرتبہ 4،4 وکٹیں لینا بھی انہی کے کارناموں کی فہرست کا حصہ ہیں۔ یاسر شاہ نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ اگست 2021 میں ویسٹ انڈیز کیخلاف کھیلا تھا جس کے بعد وہ انگوٹھے کی انجری کا شکار ہوئے تھے اور کافی عرصہ کیلئے کرکٹ کے میدانوں سے دور رہے ، یہ بھی حقیقت ہے کہ حیرت انگیز طور پر یاسر شاہ نے سری لنکا میں ہی 50 ٹیسٹ وکٹیں مکمل کیں تھیں جبکہ تیز ترین وکٹوں کا ریکارڈ بھی یہیں تکمیل کو پہنچا۔ یاسر شاہ کی بہترین بائولنگ صرف ٹیسٹ ہی نہیں ایک روزہ میچز اور ٹی 20 فارمیٹ میں بھی بام عروج پر رہی، جس کی بدولت انہیں ٹیسٹ نمبر ون سمیت ایک روزہ و ٹی 20 کے بہترین بائولرز کی فہرست میں ٹاپ ٹین میں رکھا گیا۔ گال ٹیسٹ میں بہترین بائولنگ کی بدولت سوشل میڈیا پر بال آف سنچری کے مقابل بال کو سوشل میڈیا پر کافی بار شیئر کیا گیا اور اس وائرل ہونے والی ویڈیو پر بھی صارفین نے دلچسپ تبصرے کرتے ہوئے یاسر شاہ کی صلاحیتوں کو دل کھول کر داد دی لیکن  بورڈ کا رویہ عظیم لیگ سپنر سے سمجھ سے بالا تر ہے کہ کیوں اس گوہر نایاب کو کھلانے سے دور رکھا گیا اور ٹی 20 اور ایک روزہ میچز میں نہ کھلا  کر ان کے ریکارڈز کو بریک لگائی گئی ہے، اسی وجہ سے ان کا ایک روزہ میچز میں وکٹیں لینے کا ریکارڈ 25 میچز میں 24 وکٹیں ہیں، اس کے علاوہ بلے بازی کرتے ہوئے بھی 47 ٹیسٹ میچز میں یاسرشاہ  865 رنز بنا چکے ہیں۔ فرسٹ کلاس میں یاسر شاہ کی کارکردگی شاندار ہے اس طرز کرکٹ میں انہوں نے نہ صرف 617 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں بلکہ 3115 رنز بھی بنا رکھے ہیں۔ 

یاسر شاہ جیسے بہترین کرکٹر کو ٹیم سے باہر رکھنے اور صرف ٹیسٹ تک ان کو محدود رکھنے کی وجوہات چاہے جو بھی ہوں لیکن ان کی پرفارمنس کو دیکھ کر مداح یہ سوچنے پو مجبور ہیں کہ کہیں ٹیم میں مخصوص گروپنگ تو نہیں ہو رہی، یا پھر یہ  بھی کہا جا سکتا ہے کہ کسی خاص کھلاڑی کو جگہ دینے کیلئے ٹیلنٹ ضایع کیا جا رہا ہے وغیرہ وغیرہ ، یہ سب وہ شکوک ہیں جو اس اہم ترین اور باصلاحیت لیگ سپنر کو باہر رکھنے سے پیدا جنم لے رہے ہیں، آج ہر ٹیم میں ایک پروفیشنل سپنر ضرور موجود ہوتا ہے  جس سے پیس بیٹری پر بوجھ کم پڑ سکے اور پاور پلے کے بعد سپن جادو سے بلے باز کا شکار کر سکے، یہ سب ایسا ہی ہے جیسا کہ ٹیم میں ایک سپیشلسٹ فاسٹ بائولر موجود رہتا ہے، تو کیوں آل رائونڈر کے چکر میں لیگ سپنر کو ضائع کیا جا رہا ہے ایسے میں پی سی بی کو ضرور ایکشن لینا ہوگا کہ ٹیم کا بیلنس بھی برقرار رہے اور ایک عظیم بائولر بھی ٹیم کا حصہ رہے۔ 2017 میں جب مکی آرتھر اور اظہر محمود ٹیم کے کوچ ہوا کرتے تھے تب جوان ٹیم بنانے اور جارحانہ کرکٹ کھیلنے کا خمار اس قدر سر پہ سوار تھا کہ ابوظہبی میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میں قومی ٹیم نے تین سیمرز کے ساتھ میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا جبکہ اس کے برعکس مہمان ٹیم سری لنکا نے سپن کا کوٹہ رکھا اور نتیجہ یہ نکلا کہ رنگنا ہیرتھ نے جھاڑو پھیر ڈالی اور پاکستان اپنے تجربات کی رو میں بہتے بہتے پہلی بار عرب امارات میں کوئی سیریز ہار گیا۔ اس سے کسی بھی ٹیم میں سپنرز کا کردار واضح ہوتا ہے لیکن ہماری سلیکشن کمیٹی پر آل رائونڈرز اور فاسٹ بائولرز کا بھوت سوار رہتا ہے، ٹیم سلیکٹرز اور پی سی بی چیئرمین کو چاہئے کہ پچ کی مناسبت سے ٹیم کا انتخاب کرایا جائے نہ کہ کسی غیب کے فیصلوں پر ٹیم میدان میں اتاری جائے۔ اب بھی پی سی بی کے پاس وقت ہے کہ ہوش کے ناخن لیتے ہوئے یاسر شاہ اور فواد عالم سے مزید تجربات کی خاطر قربانی کی ڈیمانڈ نہ کی جائے اور ٹیم کو بہترین ملکی مفاد مین منتخب کیا جائے تاکہ عالمی سطح پر ملک کا نام روشن ہو سکے۔ 

یاسر شاہ کو صرف ٹیسٹ فارمیٹ تک محدود کرنا زیادتی ہے کیونکہ ان کی بائولنگ کوالٹی دیکھی جائے تو افسوس ہوتا ہے کہ اس گوہر نایاب کو صرف ایک فارمیٹ تک کیوں محدود رکھا گیا۔ پی سی بی کو اس جانب بھرپور توجہ دینا ہوگی کہ بورڈ کی جانب سے جو سلیکشن کمیٹی مقرر کی گئی ہے جو کھلاڑیوں کا ملکی و غیر ملکی مقابلوں کیلئے ٹیم کا انتخاب کرتی ہے وہ کسی بھی سوچ سے بالا تر ہو کر تمام فیصلے ٹیم کی خاطر کرے نہ کہ صوبائی سوچ رکھتے ہوئے کھلاڑیوں کا انتخاب کرے، جب ٹیم کی ویٹنگ لسٹ پر جنید خان اور یاسر شاہ جیسے نامور بائولرز موجود ہوں تو تجربات کی غرض سے کیوں ان کا کیریئر دائو پر لگایا جا رہا ہے، ٹیلنٹ ہنٹ جیسے اہم منصوبوں کا پروان چڑھانا بہترین آئیڈیا ہے لیکن اس سے ہیروز کو کنارے لگانا کہاں کا انصاف ہے، تمام انٹرنیشنل کرکٹ ٹیموں پر نظر دوڑائی جائے تو ان میں ایک سپیشلسٹ سپنر ضرور ہوتا ہے یہ لازمی نہیں کہ وہ بیٹسمین بھی ہو لیکن اسے کسی بھی فن میں بہترین ہونا چاہیے، سو یاسر شاہ اس کیٹگری میں فٹ آتا ہے پھر اسے گرائونڈ سے باہر بٹھا دینا یہ کہہ کر کہ نوجوانوں کو آزمایا جا رہا ہے درست اقدام نہیں، سلیکشن کمیٹی کا یہ رویہ کھلاڑیوں کو بدظن کرتے ہوئے انہیں کھیل سے دور لے جا رہا ہے، پی سی بی و سلیکشن کمیٹی کو چاہئے کہ کارکردگی کی بنیاد پر سلیکشن کرے نہ کہ سفارشی کلچر پروان چڑھایا جائے۔ یاسر شاہ کو بھی اپنے جادو میں مزید نکھار لاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ وکٹیں لینا ہونگی کیونکہ یہی وہ پوائنٹ ہے جس سے وہ نہ صرف سلیکٹرز بلکہ کرکٹ کی عالمی باڈی آئی سی سی اور مداحوں کو بھی اپنی جانب متوجہ کر سکتے ہیں پھر چاہے جو بھی چیئرمین پی سی بی ہو انتخاب ان کا ہی ہونا مقدر ٹھرے گا۔