حکومت اور ریاست کی رٹ کہاں ہے؟

حکومت اور ریاست کی رٹ کہاں ہے؟

پاکستان تحریک انصاف، اس کی قیادت اور خیبر پختونخوا میں اس کی حکومت نے وفاق کے خلاف اعلانِ بغاوت کر دیا ہے۔ پیر کو نشتر ہال پشاور میں انصاف لائرز فورم کی تقریب اور بعدازاں ایک نجی ٹی وی شو میں تحریک انصاف کی مرکزی اور صوبائی قیادت کی جانب سے جس قسم کے خیالات کا اظہار کیا گیا، وہ وفاق یا وفاقی حکومت ہی نہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ اس ریاست، اس ملک اور اس قوم کے خلاف اعلانِ بغاوت کے سوا اور کچھ نہیں۔ حیرت ہے کہ عالمی قوتوں کو امن میں ساتھ دینے اور برابری کی سطح پر تعلقات کا پیغام دینے والے سابق وزیر اعظم خود اپنے ملک، اپنے ہی ملک کے اداروں اور اپنی قوم میں سے کسی کو بھی اپنا برابر نہیں سمجھتے، وہ کسی کے ساتھ مفاہمت یا سمجھوتے کے لئے تیار نہیں بلکہ خود ہی کھیل کی شرائط طے کر کے انہی کے مطابق کھیل جاری رکھنا چاہتے ہیں، بصورت دیگر ملک انارکی اور خانہ جنگی کی طرف جا سکتا ہے، یعنی وہ مطالبات تسلیم نہ ہونے پر ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ اک طرف خود تحریک انصاف کے قائد اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے لانگ مارچ میں مسلح کارکن یا لوگ بھی شامل تھے، اور اس کے ساتھ یہ تاثر بھی دے رہے ہیں کہ اسلام آباد سے پسپائی اختیار کر کے انہوں نے ملک و قوم پر بڑا احسان کیا ہے، بہ الفاظ دیگر مقتدر حلقوں کو ایک اور چانس دیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عدم تیاری کی وجہ سے وہ مارچ میں پھنس کر رہ گئے۔ جبکہ صوبے میں ان کے اپنے وزیر اعلیٰ اسی تقریب سے اپنے خطاب میں یہ دھمکی دیتے ہیں کہ وہ پچھلی دفعہ لانگ مارچ میں غیرمسلح گئے تھے لیکن اس دفعہ وہ صوبے کی اپنی فورس ساتھ لے کر جائیں گے، وفاقی حکومت کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی درج کریں گے حالانکہ ان کا پہلا کرکن کنٹینر سے گر کر جاں بحق ہوا تھا۔ دیکھا جائے تو اس قتل کا مقدمہ خود تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف درج ہونا چاہئے۔ لاہور میں بوری بند لاشوں کا سلسلہ شروع کرنے کی دھمکی دینے والوں کو اس قسم کے اقدامات سے گریز ہی کرنا چاہئے۔ علاوہ ازیں اس موقع پر  وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اپوزیشن رہنماؤں کو حسب سابق جن القابات اور جس انداز سے یاد کیا، وہ کسی قائد، رہنماء یا حکمران کے شایان شان ہرگز نہیں۔ صرف یہی نہیں پاکستان تحریک انصاف نے ایک اور ایم کیو ایم بننے کی دھمکی بھی دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور اس کے ترجمانوں کے لب و لہجے اور بیانات کو سن کر اس ملک خصوصاً اس صوبے کے ہر ذی شعور شہری کے ذہن میں ایک نہیں ایک ساتھ کئی سوالات جنم لیتے ہیں جن میں بنیادی سوال یہی ہے کہ اس وقت ریاست کی رٹ کہاں ہے، بصد احترام لیکن سپریم کورٹ ان بیانات اور ان حالات پر سوموٹو ایکشن لینے کی بجائے الٹا تحریک انصاف کو ایک کور کیوں فراہم کر رہی ہے، حکومت کو پاؤں سے کیوں باندھا جا رہا ہے،اور سب سے بڑھ کر حکومت اور ادارے ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جانے والوں کے خلاف کوئی ایکشن کیوں نہیں لیتے؟ جبکہ اِدھر حال یہ ہے کہ ملک میں امن و امان کی مخدوش تر ہوتی صورتحال، مہنگائی اور بے روزگاری کے طوفان اور عوام کو درپیش دیگر مسائل میں کمی کی بجائے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تحریک انساف کو کھل کھیلنے کی اجازت دی گئی تو محولہ بالا صورتحال بہتری کی بجائے ابتری کا ہی شکار ہو گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ملک اور اس قوم کا درد رکھنے والے ہر فرد کو، خصوصاً پاکستان تحریک انصاف کے کارکن، حمایتی اور ووٹر کو خود سے یہ سوال ضرور کرنا چاہئے کہ کیا وہ اپنے ملک، اپنی قوم کو خانہ جنگی کا شکار ہوتا دیکھنا چاہتا ہے؟ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو اسے واپس اپنے گھر کی راہ لینی چاہئے۔ کہ ان حالات میں انفرادی طور پر یہی ایک صائب اور حقیقی معنوں میں ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں ایک بہترین فیصلہ ہو سکتا ہے۔