ہم سب بری الذمہ ہیں!

ہم سب بری الذمہ ہیں!

تحریر: نوید سید

شہر کے مرکزی چوک سے آدھے گھنٹے کی مسافت پر واقع یونائیٹڈ کالونی گلی نمبر2  شریف آباد جہاں میرا غریب خانہ واقع ہے، ہماری کالونی میں ہر طرح کے لوگ رہائش پذیر ہیں۔ یہاں ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد موجود ہیں۔ افسر، چوکیدار، مزدور، بینک منیجر، سیاستدان، استاد، شاگرد، دکاندار وغیرہ وغیرہ۔ روزانہ رات کے وقت ایک مخصوص جگہ پر یہ تمام حضرات اپنی روزمرہ کی مصروفیات سے متعلق تفصیلی گفتگو کرتے ہیں۔ چونکہ وہ پورے دن تھکا دینے والی مصروفیات سے جڑے رہتے ہیں، یہ اجتماعی بیٹھک لگانے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ سکون کے کچھ لمحات گزار سکیں۔ عموماً یہ لوگ ہنسی مذاق میں مشغول رہنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن کبھی کبھار سینسٹیو ایشوز(sensitive issues)  پر بھی اپنے نظریے پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ اور اتفاقاً جس رات ان احباب کے مابین میری آمد واقع ہوئی، اسی رات یہ لوگ کچھ معاشرتی مسائل پر گہری نگاہ ڈالنے میں مشغول تھے۔ اور میں ساکت و جامد بیٹھا ان سب کی باتوں کو بغور سننے میں مگن تھا۔ اتنے میں طارق صاحب، جو کہ ایک بینک منیجر ہیں، ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے ''آج کسی کام سے ایک دفتر جانا ہوا۔ چونکہ افسر اپنے کاموں میں مصروف تھا، اس نے مجھے اشارتاً تشریف رکھنے کو کہا، اور میں بیٹھ گیا۔ کافی دیر گزرنے کے بعد جب میں نے ان سے مخاطب ہونے کی جتن کی تو اس نے اپنی زبان سے وار کرتے ہوئے کہا بھئی کیا جلدی ہے آپ کو، تھوڑا انتظار کریں۔ یہ سن کر میں اپنی لاچاری محسوس کرتے ہوئے فوراً بیٹھ گیا۔ اور وہ افسر اپنے واقف کاروں کے کاموں میں مصروف ہو گیا۔ طویل انتظار کے بعد بالآخر مایوسی کی حالت میں وہاں سے لوٹ آیا۔'' اسی مجمع میں بیٹھے ایک شخص کی دھیمی آواز میرے کانوں تک آن پہنچی۔ پلٹ کر دیکھا تو مسلم، جس کا پیشہ چوکیداری ہے، معصومانہ لہجے میں عرض کرنے لگا، ''آج مجھے اپنے بھائی کے اکاؤنٹ میں کچھ پیسے جمع کرانے تھے، اسی غرض سے میرا بینک جانا ہوا۔ بھیڑ کی صورت میں مجھے اپنی باری کے انتظار میں تادیر لائن میں کھڑا ہونا پڑا۔ مگر میں اس بات سے لا علم تھا کہ یہ لائن تو صرف غریبوں کے لئے ہے، بڑے اور امیر آدمی تو پہلی فرصت میں سیدھا اندر جا کر اپنا کام کر کے فوراً نکل لیتے ہیں۔ اور ہمیں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔'' ''یہ صرف بینک اور دفاتر کا مسئلہ نہیں، آج کل دکاندار بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔'' مجمعے کی زینت بنے یہ الفاظ حاتم کے تھے، جو پیشے کے لحاظ سے اک مزدور ہے۔ ''میرے ساتھ اکثر و بیشتر ایسا ہوتا رہا ہے کہ جب میں کسی دکان میں سامان خریدنے جاتا ہوں تو مجھے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے کیونکہ میں سخت الفاظ کے استعمال میں یقین نہیں رکھتا، اور نرمی سے بات کرنے کا صلہ یہ ملتا ہے کہ میں وہ آخری فرد ہوتا ہوں جسے دکان سے فارغ کیا جاتا ہے۔ دکاندار تو اپنے تعلقات کی خاطر ایسا کرتے ہیں یہ کوئی بڑی بات نہیں۔'' یہ کہہ کر سہیل جو کہ ایک طالب علم ہے، وہ اس گہری گفتگو میں شامل ہو گیا۔ ''اساتذہ جنہیں قوم کا معمار تصور کیا جاتا ہے وہ بھی یہ غیرمہذب کام کرنے والوں کی صف میں کھڑے ہیں۔ دور حاضر کے اساتذہ ان طالب علموں کو زیادہ اہمیت کے حامل سمجھتے ہیں جو زبان کے استعمال کا سلیقہ جانتے ہیں۔ اور جو خوشامد کا سہارا لے کر اساتذہ کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں اور اساتذہ بھی اپنے عظیم فرض سے ناآشنا ہو کر غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں حالانکہ یہ اساتذہ کا فرض اول ہے کہ ان طالب علموں پر اپنی توجہ زیادہ مبذول کریں جو پڑھائی کے عمل میں تھوڑا کمزور ہیں تاکہ ان کے سیکھنے کے عمل میں بتدریج بہتری آئے۔ لیکن مجھے بڑے افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے کے اساتذہ اپنے فرائض کو بخوبی سرانجام دینے سے کوسوں دور ہیں۔'' اتنی دیر سے اپنی نشست پر براجمان جناب عمر ان سب کی باتیں بغور سن رہے تھے۔ محترم جناب عمر، جن کا تعلق ایک سیاسی پارٹی سے ہے اسی مدعے پر وہ بھی اپنے خیالات کا اظہار کرنے میدان میں آن پڑے۔ ''جناب! سیاستدانوں اور سیاسی پارٹیوں کی اولین ترجیح یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے عوام کے مفادات کو مدنظر رکھ کر اپنا کردار بخوبی ادا کریں مگر آج کل جو بھی پارٹی اقتدار میں ہوتی ہے، وہ اپنی پارٹی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کرتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے باقی لوگوں کا اس شہر سے کوئی تعلق ہی نہیں۔'' 
دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے
چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے
میں چونکہ کافی دیر سے بیٹھے ان حضرات کے خیالات و نظریات کو اپنے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش میں لگا تھا۔ میری نیت تو یہی تھی کہ اپنی خاموشی توڑوں۔ مگر دل سے آواز آئی کہ کوئی فائدہ نہیں۔ جس بینک منیجر نے اپنی داستان ہمارے سامنے پیش کی اسی کے بینک میں اس چوکیدار کو، جس کو پیسے جمع کرنے ہوتے ہیں، بلاوجہ انتظار کروایا جاتا ہے تاکہ امیر اور واسطے والوں کے کام پہلے کیے جائیں۔ اور یہی منیجر اپنے اوپر ہونے والی ناانصافی کا دکھڑا ہمارے سامنے روتا ہے جو خود ایک چوکیدار سے ہونے والی ناانصافی میں برابر کا شریک ہے۔ اور یہ چوکیدار ہرگز یہ نہ سمجھے کہ وہ اس منیجر سے بہتر ہے۔ نہیں بالکل نہیں! کیونکہ جب یہ اپنے دفتر میں اپنا کام سرانجام دے رہا ہوتا ہے تو یہ بھی کبھی غریب کو امیر سے پہلے اندر نہیں بھیجتا بلکہ جس طرح اسے انتظار کروایا گیا تھا بالکل اسی طرح یہ غریبوں کو بھی انتظار کروانے میں اپنا کردار بخوبی نبھاتا ہے۔ وہ مزدور جو کچھ لمحے پہلے کسی دکاندار سے متعلق اپنا دکھڑا رو رہا تھا وہ بھی کوئی دودھ کا دھلا نہیں۔ جب وہ اپنی مزدوری پر ہوتا ہے تو اس غرض سے کام میں سستی کا مظاہرہ کرتا ہے تاکہ کام کچھ دن اور چلے اور اسے پیسے ملتے رہیں۔ عمر جو کافی عرصے سے سیاست سے منسلک ہیں، میں انہیں بھی یہی کہنا چاہتا ہوں۔ کیونکہ آج تم صاحب اقتدار نہیں ہو، اسی لیے تم دوسروں کو دوش دے رہے ہو۔ میں ہرگز یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ صحیح ہیں، مگر جب آپ کے پاس اقتدار ہو گا تو آپ بھی اسی رنگ میں رنگے نظر آہیں گے، جس رنگ میں آج اقتدار والے ہیں۔ اس ملک یا معاشرے کے عام آدمی سے لے کر خاص تک، جس کے بھی ہاتھ میں کوئی ناجائز یا غلط کام ہو سکتا ہو، جس سے کوئی منافع ملتا ہو، تو اسے انجام دینے میں کوئی بھی ایک لمحے کے لیے ہچکچاتا نہیں۔ اور بدقسمتی سے کوئی بھی ایسا نہیں جو اس حالت زار کی ذمہ داری قبول کرے۔ دراصل یہاں ہر کوئی اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دے کر دوسروں کی جانب انگلی اٹھائے ہوئے ہے۔ ''یہ دنیا بہت خراب ہے'' یہ الفاظ تو آپ نے روزمرہ کی بنیاد پر سنے ہی ہوں گے، دور حاضر میں یہ الفاظ ہر کسی کے منہ کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ آخر دنیا کیوں خراب ہے؟ کیا کسی نے اس بارے میں سوچنے کی زحمت کی ہے؟ نہیں! ہم نے خدا کی تخلیق کی گئی خوبصورت دنیا کو شہر خموشاں بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہم انسان نما آدمیوں کے توسط سے ہی اس نظام دہر کی بربادی رونما ہوئی ہے۔ عالم جہاں کی بہتری ہم انسانوں سے منسوب ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم انفرادی طور پر اپنے آپ کو راہ راست پر لانے کی کوشش کریں۔ اگر ہم منفی رجحانات سے اجتناب کریں تو اس سے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے جس سے آنے والے وقتوں میں نسل نو میں نمایاں تبدیلی رونما ہو سکتی ہے۔
 اپنے کردار پہ ڈال کہ پردہ اقبال
ہر شخص کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے