کیا یہ تھی تعلیمی ایمرجنسی؟

کیا یہ تھی تعلیمی ایمرجنسی؟

تحریر: ڈاکٹر سردار جمال

ایک لفظ  کے دو معنی لئے جاتے ہیں، ایک لغوی معنی جبکہ دوسرے اصطلاحی معنی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر زمیندار کے لغوی معنی کافر کے ہیں کیونکہ زمیندار کا کام چھپانا ہی ہوتا ہے یعنی وہ بیج کو مٹی میں چھپاتا ہے بالکل اسی طرح کافر بھی چھپا رہا ہے مگر کافر حق کو چھپا رہا ہے اور زمیندا بیج کو، زمیندار کے اصطلاحی معنی ہیں 'کروندہ گر' یعنی کھیتی باڑی کرنے والا۔ سب جانتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے تعلیمی ایمرجنسی کا نعرہ لگایا ہوا تھا مگر بدقسمتی سے عوام نے ایمرجنسی سے اصطلاحی معنی اخذ کئے یعنی عوام کا خیال تھا کہ تعلیم کو اوپر لے جانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے لیکن اس نعرے سے مراد لغوی ایمرجنسی تھی یعنی تعلیمی حادثہ، کیونکہ اس دور حکومت میں تعلیم کا جو حشر کیا گیا تو اللہ مزید اس ایمرجنسی سے امان ہی دے تو بہتر ہے۔ ویسے تو مملکت خداداد بے شمار قسم کے تجربات سے گزر رہا ہے مگر میں بات صرف تعلیم کے حوالے سے محدود رکھوں گا۔ یہ ہم سب کو معلوم ہے کہ بحیثیت قوم ہمارا حافظہ بہت کمزور ہے اور ہم بہت جلد بھول جاتے ہیں، پھر بھی اگر حافظہ پر تھوڑا بہت زور ڈالیں تو یہ بات یاد آئے گی کہ ہم زمانہ دراز سے یکساں نظام تعلیم کے جھوٹے دعوے کرتے آ رہے ہیں جو کہ خیالی پلاؤ کے سوا اور کچھ نہیں ہیں۔ چلو ان باتوں کو چند لمحوں کے لئے ایک طرف رکھ دیتے ہیں اور جاتے ہیں بچوں کے بیگ یعنی کتابوں کے بستے کی لمبائی، چوڑائی اور وزن کی طرف، جو ایک معمہ تھا مگر اللہ کے فضل و کرم سے وہ منصوبہ بھی سرد خانے کی نذر ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ کبھی کبھار یونیفارم کا مسئلہ سر اٹھا رہا ہے یعنی کئی مہینے وزرا صاحبان اور افسران صاحبان سر جوڑ کر بچوں کے لئے کبھی کالے تو کبھی سفید کپڑے بطور یونیفارم تجویز کرتے رہتے ہیں جو کہ معمولی نہیں بلکہ سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے اس لئے اللہ کے شکر گزار ہیں کہ آخر کار مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ نئی حکومت بنتے ہی سیاہ یونیفارم کو سفید اور  سفید یونیفارم کو کالا کر دیا جاتا ہے۔ اور یہ تو معمولی بات ہے کہ تعلیمی ایمرجنسی کی بدولت بچے ڈسک سے ٹاٹ پر اتر آئے اور ٹاٹ سے فرش پر، آگے اللہ نگہبان! اس وقت قوم کے ہونہار بچے اور معاران قوم ایک نئے مسئلے سے دوچار تھے لیکن ہوشیار حکومتی مشینری اور افسرانِ بالا کی بہت زیادہ تگ و دو کے بعد آخرکار یہ مسئلہ حل ہو گیا اور وہ تھا سکول میں بچوں اور سٹاف کی نماز ظہر باجماعت ادائیگی کا مسئلہ، اس بارے کل محکمانہ طور پر نوٹیفیکیشن ہو چکا ہے کہ تمام سکولز کے ہیڈ ماسٹرز صاحبان اور پرنسپلز صاحبان سکول کے اوقات کار میں نماز ظہر کے لئے وقت مختص کریں۔ وہ الگ بات ہے کہ پرانے وقتوں میں بالکل اسی طرح کیا جاتا تھا مگر پتہ نہیں کہ اس کے بعد کون سا اجتہاد کیا گیا کہ ظہر کی نماز کی سکول میں باجماعت ادائیگی روک دی گئی، چلو یہ بھی تجربات کا کوئی حصہ ہو گا۔ اور اللہ نہ کرے اگر کسی بچے نے لڑکیوں کی نماز ظہر کے بارے میں پوچھ لیا تو پتہ نہیں اس سوال کا جواب کون اور کیسے دے گا کیونکہ لڑکیاں، لڑکوں ہی کی طرح طلبا ہیں، اچھا تو اب دوبارہ یہ نئی خبر سن کر میری حیرانی کی حد نہ رہی اور اپنے آپ سے پوچھ رہا تھا کہ کل سے بچے سکول میں باجماعت نماز ظہر ادا کریں گے جو کہ اچھی بات ہے لیکن اس بارے بے بس رہا کہ اگر کل کسی بچے نے استاد محترم یا پرنسپل صاحب سے پوچھا کہ سر نماز تو ساڑھے چودہ سو سال سے فرض چلی آ رہی ہے ہمارے بااختیار طبقے کو اتنی دیر سے نماز باجماعت ادا کرنے کا خیال کیوں آیا؟ ساتھ یہ بھی اگر پوچھ لیں کہ سر جو نمازیں ہم نے سکول کے اوقات کار کی وجہ سے قضا کر دی ہیں تو ان کا کفارہ کتنا ہو گا اور یہ دے گا کون؟ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک بچہ یہ سوال بھی اٹھائے کہ سر اس سے پہلے نماز ظہر باجماعت ادا نہ کرنے کی وجہ کیا تھی اور اب باجماعت ادا کرنے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے ؟ بے شک اگر بچے مادری زبان میں تعلیم حاصل کرتے تو وہ بچے تخلیق کار بن سکتے تھے اور تخلیق کار بچے سوالات اٹھاتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارا نظام تعلیم ہمیں صرف اور صرف معلومات دے سکتا ہے علم بالکل بھی نہیں دے سکتا، اگر ہم اذہان کے مالک تھے تو ادھر ڈرامے کے اوپر ڈرامہ نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ہم اپنے بچوں اور جوانوں کو جواب دِہ ہوتے تھے۔ وہ الگ بات ہے کہ آلودہ پانی کی مچھلیاں اندھی ہوتی ہیں۔