کیا ابوالاعلی مودودی  تحریک پاکستان کا حصہ تھے؟ (آخری حصہ)

کیا ابوالاعلی مودودی  تحریک پاکستان کا حصہ تھے؟ (آخری حصہ)

تحریر: مولانا خانزیب 

مطالبہ پاکستان کی قبولیت پر مولانا ہندوستانی مسلمانوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ دراصل انہوں نے دوہری حماقت کا ارتکاب کیا ہے کہ ایک طرف تو نظام حکومت کے لیے مغرب کے جمہوری اصولوں پر راضی ہو گئے اور دوسری طرف خود اپنی طرف سے تقسیم ملک کا یہ اصول پیش کیا کہ جہاں ہم اکثریت میں ہیں وہاں ہم حاکم اور تم محکوم ہو، اور جہاں تم اکثریت میں ہوں وہاں تم حاکم اور ہم محکوم ہوں۔ کئی سال کی تلخ اور خونریز کشمکش کے بعد اب یہ مرکب حماقت کامیابی کے مرحلے میں پہنچ گئی ہے۔ فروری1946  میں ترجمان القرآن میں شائع ہونے والے مضمون بعنوان1946  کے انتخابات اور جماعت اسلامی میں مولانا مودودی نیشنلسٹ اور لیگی مسلمان رہنماؤں کی سیاسی تدابیر کو لاحاصل قرار دیتے ہوئے مسلمانان ہند کے لیے ایک نسبتاً وسیع البنیاد اور طویل المدتی پروگرام تجویز کرتے ہیں۔ اپنے مجوزہ پروگرام کی مختصراً وضاحت مولانا یوں کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے انبوہ میں سے صالح اہل ایمان کے عنصر کو چھانٹ کر اعلی درجے کی اخلاقی تربیت کے ساتھ منظم کیا جائے اور ان کو اس کام کے لیے تیار کیا جائے کہ وہ مسلم قومیت کی بجائے خود اسلام کو ایک اصولی تحریک کی حیثیت سے لے کر اٹھ سکیں، اور پھر اس کے بعد اس گروہ کے ذریعے عام مسلمانوں میں اسلامی اقدار کا شعور اور اسلامی نظام کے قیام کا مضبوط ارادہ پیدا کیا جائے اور ان کی رائے عامہ کو اس حد تک تیار کیا جائے کہ وہ جمہوری یا غیرجمہوری طریقوں سے اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لئے سردھڑ کی بازی لگانے پر آمادہ ہو جائیں۔ پاکستان کا قیام نوشتہ دیوار تھا۔ مودودی صاحب سمجھ چکے تھے کہ ان کا اور ان کی تحریک کا مستقبل پاکستان سے وابستہ ہے۔ مئی1947  میں جماعت کی شوری نے مودودی صاحب کے مشورے پر فیصلہ کیا کہ مرکز جماعت اسلامی پاکستان میں ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ مودودی صاحب نے تقسیم ہند سے متعلق جاری سیاسی عمل میں آل انڈیا مسلم لیگ کے موقف کی مخالفت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ صوبہ سرحد کے ریفرنڈم میں شرکت کے حوالے سے جماعت اسلامی کے کچھ کارکنان کا خیال تھا کہ کافرانہ سیاسی نظام سے لاتعلقی کے جس اصول کی بنیاد پر مودودی صاحب نے1946  کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا، اسی اصول کی بنیاد پر ریفرنڈم کا بھی بائیکاٹ کیا جانا چاہیے ورنہ ہم پاکستان کے حق میں اگر ووٹ دیں گے تو یہ ووٹ آپ سے اس نظام حکومت کے حق میں شمار ہو گا جس کی بنیاد پر پاکستان قائم ہو رہا ہے۔ اس معاملے پر مودودی صاحب سے ہدایت طلب کی گئی تو ان کا جواب یہ تھا کہ استصواب رائے کا معاملہ مجالس قانون ساز کے انتخابات کے معاملے سے اصولاً مختلف ہے۔ اس معاملے میں رائے دینا بالکل جائز ہے اور اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں۔ اور اگرچہ مولانا نے جماعت کے ارکان کو پابند نہیں کیا کہ وہ لازماً پاکستان کے حق میں ووٹ دیں لیکن انہوں نے اپنی شخصی رائے کا اظہار ضرور کیا کہ اگر وہ صوبہ سرحد کے رہنے والے ہوتے تو ان کا ووٹ پاکستان کے حق میں پڑتا۔ 12 ستمبر1940  کو علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں پڑھے گئے ایک مقالے بعنوان ''اسلامی ریاست کیسے قائم ہوتی ہے'' میں مولانا فرماتے ہیں کہ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ایک دفعہ غیراسلامی طرز ہی کا سہی، مسلمانوں کا قومی سٹیٹ قائم تو ہو جائے، پھر رفتہ رفتہ تعلیم و تربیت اور اخلاقی اصلاح کے ذریعہ سے اس کو اسلامی سٹیٹ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مگر میں نے تاریخ، سیاسیات اور اجتماعیات کا جو تھوڑا بہت مطالعہ کیا ہے اس کی بنا پر میں اس کو ناممکن سمجھتا ہوں، اور اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جائے تو میں اس کو ایک معجزہ سمجھوں گا۔ ابو الاعلی مودودی صاحب نے جماعت اسلامی (لاہور) کے اجتماع میں فرمایا۔ ہماری قوم نے اپنے لیڈروں کے انتخاب میں غلطی کی تھی اور اب یہ غلطی نمایاں ہو کر سامنے آ گئی ہے۔ ہم چھ سال سے چیخ رہے تھے کہ محض نعروں کو نہ دیکھو بلکہ سیرت اور اخلاق کو بھی دیکھو۔ اس وقت لوگوں نے پرواہ نہ کی لیکن اب زمام کار ان لیڈروں کو سونپنے کے بعد ہر شخص پچھتا رہا ہے کہ واہگہ سے دہلی تک کا علاقہ اسلام کے نام سے خالی ہو چکا ہے۔ (بحوالہ روزنامہ انقلاب9  اپریل 1948) ترجمان القرآن نے جون 1948 کے اداریے میں لکھا: یہ عین وہی لوگ ہیں جو اپنی پوری سیاسی تحریک میں اپنی غلط سے غلط سرگرمیوں میں اسلام کو ساتھ ساتھ گھسیٹتے پھرے ہیں۔ انہوں نے قرآن کی آیتوں اور حدیث کی روایتوں کو اپنی قوم پرستانہ کشمکش کے ہر مرحلے میں استعمال کیا ہے، کسی ملک و قوم کی انتہائی بدقسمتی یہی ہو سکتی ہے کہ نااہل اور اخلاق باختہ قیادت اس کے اقتدار پر قابض ہو جائے۔ اسی شمارے میں مزید فرمایا: جونہی انگریز اور کانگرس کی باہمی کشمکش ختم ہوئی۔ تو اس قیادت عظمی نے اپنے آپ کو ایسی حالت میں پایا جیسے اس کے پاؤں تلے زمین نہ ہو۔ اب وہ مجبور ہو گئی کہ جو کچھ جن شرائط پر بھی طے ہو اسے غنیمت سمجھ کر قبول کر لیں۔ بنگال و پنجاب کی تقسیم اسے بے چون و چرا ماننی پڑی۔ سرحدوں کے تعین جیسے نازک مسئلے کو اس نے صرف ایک شخص کے فیصلے پر چھوڑ دیا۔ انتقال اختیارات کا وقت اور طریقہ بھی بلاتامل مان لیا۔ حالانکہ یہ تینوں امور صریح طور پر مسلمانوں کے حق میں مہلک تھے۔ انہی کی وجہ سے ایک کروڑ مسلمانوں پر تباہی نازل ہوئی اور انہی کی وجہ سے پاکستان کی عمارت روز اول ہی سے متزلزل بنیادوں پر اٹھی۔ حمید نظامی نے4  جولائی 1948 کو نوائے وقت میں اداریہ لکھا: ہم ان لوگوں کے حامی نہیں جو محض اپنی لیڈری چمکانے کے لیے شریعت کا نعرہ بلند کر رہے ہیں۔ بہتر ہو گا کہ شہر بہ شہر جلسوں میں قائداعظم کو گالیاں دینے اور سوقیانہ تقریروں میں وقت ضائع کرنے کی بجائے اسلامی نظام حکومت کا ایک خاکہ مرتب کیا جائے۔ مولانا مودودی نے ترجمان القرآن کے شمارہ جولائی 1948 میں لکھا: مسلمانوں نے اپنی ساری قومی طاقت، ذرائع اور جملہ معاملات اس قیادت کے سپرد کر دیے جو ان  کے قومی مسئلہ کو اس طرح حل کرنا چاہتی تھی۔ دس برس بعد اس کا پورا کارنامہ ہمارے سامنے ہے۔ جو کچھ ہو چکا وہ تو ان مٹ ہے البتہ اس پر بحث کرنا ضروری ہے کہ جو مسائل اب ہمیں درپیش ہیں کیا ان کے حل کے لیے بھی وہی قیادت موزوں ہے جو اس سے پہلے ہمارے قومی مسئلے کو اسی طرح حل کر چکی ہے۔ کیا اس کا کارنامہ یہی سفارش کرتا ہے کہ جو نازک مسائل ہمارے سر پر آن پڑے ہیں، جن کا بیشتر حصہ خود اسی قیادت کی کارفرمائیوں کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، انہیں حل کرنے کے لیے ہم اس پر اعتماد کریں۔ اس کے جواب میں حمید نظامی نے 31 جولائی1948  کو اداریہ لکھا: حضرت مولانا نے دس سال کے عرصے میں پہلی مرتبہ دل کی بات کھل کر کہی اور صاف لفظوں میں مسلمانوں سے کہا کہ محمد علی جناح کی جگہ مجھے قائداعظم مانا جائے۔ اب صرف اتنا کرم فرمائیں کہ مسلمانوں کو یہ بتا دیں کہ آپ کا ٹھوس سیاسی پروگرام کیا ہے؟ اپنا پروگرام نہ بتانا اور نعروں سے مسلمانوں کا دل بہلانا یا قائداعظم کو احمق، غلط کار اور دین میں ہلکا ثابت کرنے کی کوششوں میں لگے رہنا ہرگز آپ کے شایان شان نہیں۔ قائداعظم کا ریکارڈ قوم کے سامنے ہے۔ آپ کو ابھی قوم نے آزمانا ہے۔ آپ قائداعظم کو ہزار گالیاں دیجئے، مسلمان آپ کے دست مبارک پر بیعت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ مولانا ابو اعلی مودودی نے9  اگست 1948 کو جھنگ میں لکھا: ''لیگ کی جنگ کفر و اسلام کی جنگ نہیں تھی۔ مسلم لیگ نے اب تک یہ نہیں کہا کہ پاکستان کا خطہ اس لیے حاصل کیا جا رہا ہے کہ وہاں پر اسلامی خلافت چلائی جائے گی بلکہ یہ قومیت کی جنگ تھی۔ قومیت کی جنگ کو اسلام کی جنگ سے کوئی واسطہ نہیں۔ لیگ کی قراردادوں کا جائزہ لیجئے۔ لیگ نے آج تک تسلیم نہیں کیا کہ پاکستان میں شریعت کا نفاذ ہو گا۔'' اس کے جواب میں نوائے وقت نے 18 اگست 1948 کو اداریہ سپرد قلم کیا: ''پاکستان میں آپ کو ایسے لوگ بھی مل جائیں گے جن کی تقریر و تحریر کا زور یہ ثابت کرنے پر صرف ہو رہا ہے کہ (مسلمانوں) کی اس مصیبت کی ذمہ داری قائداعظم کی لیڈرشپ پر عائد ہوتی ہے۔ قائداعظم نے پے در پے مہلک غلطیاں کیں اور مسلمانوں کو تباہی و بربادی کے اس غار میں لا پھینکا جس کا نام پاکستان ہے۔'' ایک ہفتے بعد 25 اگست 1948 کو نوائے وقت کے اداریے میں حمید نظامی نے لکھا: ''بظاہریہ جماعت کہتی ہے کہ ہم قائداعظم کے خلاف پراپیگنڈہ نہیں کر رہے لیکن معاف کیجئے یہ بیان صحیح نہیں ہے۔ مسلمانوں کی موجودہ قیادت کو مسلمانوں کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرانا دراصل قائداعظم اور صرف قائداعظم کی ذات ہی پر حملہ ہے۔''