کیا ابوالاعلی مودودی  تحریک پاکستان کا حصہ تھے؟

کیا ابوالاعلی مودودی  تحریک پاکستان کا حصہ تھے؟

تحریر: مولانا خانزیب 

جماعت اسلامی کے اکابرین اور ان کے کچھ دوسرے مقامی لوگ برصغیر کی آزادی کی تحریک کے حوالے سے اپنے قائدین کے کردار کو تاریخ سے توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، حالانکہ تاریخ کسی کی رائے اور عقیدت کا نام نہیں بلکہ ماضی کے ان حقائق کا نام ہے جن کو کبھی بھی نہیں جھٹلایا جا سکتا۔ میرے خیال میں تاریخ کو تاریخ کی نظر سے دیکھنا چاہئے اور اسے اسی معروضی صورتحال کے تناظر میں بیان کرنا چاہئے جس میں اس کی واقعیت اور حقیقت محصور ہو، اپنی سوچ و عقیدت کو کبھی بھی تاریخ کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ مرحوم سید ابو الاعلی مودودی کو باچا خان یا علمائے دیوبند کی تحریک پاکستان کا پرچارک اور حامی پیش کرنا ان عظیم لوگوں کے ساتھ تاریخی بددیانتی ہے۔ تحریک پاکستان کا حامی نہ ہونا کوئی طعنہ نہیں کیونکہ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ یہ لوگ آزادی کے متوالے نہیں تھے بلکہ درحقیقت یہ عظیم لوگ تحریک پاکستان سے بڑھ کر اس خطے کے تاریخی وجغرافیائی محل وقوع کو مد نظر رکھتے ہوئے مستقبل کی سیاست کے پیامبر تھے اور تحریک پاکستان سے بڑھ کر یہ لوگ اس وقت کی آزادی کی تاریخی جدوجہد کے راہرو و سرخیل تھے، ان لوگوں کا آزادی کے حوالے سے اس خطے کی خیر کی خاطر اپنا حقیقت پسندانہ موقف تھا جو آج بھی سچ ثابت ہو رہا ہے، اس پر اگر کوئی شرمندہ ہوتا ہے تو وہ درحقیقت حقائق کا سامنا کرنے کی اہلیت سے محروم ہیں، شرمندہ ان عظیم لوگوں کے پیروکاروں کو نہیں ہونا چاہئے بلکہ ان لوگوں کو ہونا چاہئے جنہوں نے اس خطے کے مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے اکابرین میاں طفیل احمد سے لے کر منور حسن تک اسی تگ و دو میں رہتے تھے کہ ابو الاعلی مودودی تحریک پاکستان کے حامی و حصہ تھے۔ میرے خیال میں پاکستان کے حوالے سے بہت سے لوگوں کو ایڈجسٹ ہونے میں مسائل رہے ہیں مگر اس حوالے سے باچا خان انتہائی کلیئر رہے، جنہوں نے قیام پاکستان کے ساتھ اصولی اختلاف کے باوجود1948  میں کراچی جا کر پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کا حلف اٹھا کر اپنے آپ اور اپنے ساتھیوں کو مستقبل کے فکری کنفیوژن سے نکالا جبکہ جماعت اسلامی کے اکابرین آج تک اس فکری تشکیک کے ساتھ معلق ہیں مگر اس سے نکلنے کیلئے کم از کم تاریخی حقائق کو ٹھکرانا انتہائی تاریخ دشمن رویہ ہے۔ مرحوم سید ابو الاعلی مودودی تحریک آزادی میں تاریخی حقیقت کی روشنی میں کبھی بھی تحریک پاکستان کا آزادی سے قبل حصہ نہیں رہے ہیں بلکہ جمیعت علمائے ہند جو آزادی کے بعد پاکستان میں جمعیت علمائے اسلام بنی اور خدائی خدمت گاروں کی طرح آزادی کے بعد پاکستان میں آنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے تاریخی سیاسی فکر کو اس خطے کی خیر کی خاطر بعد میں تبدیل کیا جبکہ ابو الاعلی مودودی نے پاکستان کے قیام کا یقین ہوتے وقت اسے معجزہ اور ارادہ الہی کہا جبکہ اس سے پہلے اس تقسیم کے وہ شدومد سے مخالف تھے۔ اس معاملے پر ایک دلچسپ تبصرہ ڈاکٹر اسرار احمد (جو قیام پاکستان کے بعد جماعت اسلامی کی تحریک سے عملاً منسلک رہے ہیں) اس طرح کرتے ہیں کہ جماعت اسلامی کا تحریک پاکستان سے تعلق ایک اختلافی اور نزاعی مسئلہ ہے اور اگرچہ جماعت کے زعما و عمائدین بہت زور دے کر کہتے ہیں کہ جماعت کبھی بھی پاکستان کی مخالف نہیں رہی بلکہ بعض سادہ لوح لوگ تو اس سے بڑھ کر یہ دعوی بھی کر گزرتے ہیں کہ قیام پاکستان کے ضمن میں قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد سب سے بڑھ کر حصہ مولانا مودودی کا ہے۔ لیکن عام طور پر یہ بات تسلیم نہیں کی جاتی اور ان دعوؤں کی یا تو شدت کے ساتھ تردید کی جاتی ہے یا کم از کم انہیں مسکرا کر یا ہنس کر ٹال دیا جاتا ہے۔ قیام پاکستان سے قبل مولانا مودودی ہندوستان کے مسلمانوں کے سیاسی مسائل کا حل تبلیغی سرگرمیوں میں دیکھتے تھے اور دعوت اقامت دین کے ذریعے نظام زندگی میں اسلامی طرز کا انقلاب برپا کرنے کے خواہاں تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ مسلمانوں کی مذہبی اور اخلاقی تربیت کیے بغیر ہندوستانی مسلمانوں کی آزادی کے لئے کی گئی کوئی بھی کوشش ثمر آور ثابت نہ ہو گی۔ وہ چاہتے تھے کہ پہلے مسلمان اپنی تمام تنظیمی قوتیں اور عملی کاوشیں اسلام اور شریعت کی نشر و تبلیغ اور مسلمانوں کو عملاً اسلامی احکامات کا تابع بنانے کے لیے استعمال کریں۔ ابو الاعلی مودودی دو نہایت اہم، نازک اور غور طلب سوال قیام پاکستان کے حوالے سے رکھتے تھے۔ پہلا سوال یہ تھاکہ اگر مسلمان تقسیم ملک کے لیے اپنا پورا زور لگا دینے کے بعد خدانخواستہ اس کوشش میں ناکام ہو جائیں تو اس قومی شکست کے اثرات و نتائج سے اسلام، اسلامی تہذیب اور مسلمانوں کی اسلامی انفرادیت کو بچانے کی کیا شکل ہو گی؟ دوسرا سوال یہ تھا کہ اگر ملک تقسیم ہوا تو ہندوستان کے بڑے حصے میں جو کروڑوں مسلمان رہ جائیں گے ان کے اندر اسلام کی شمع روشن رکھنے اور اس کے نور کو پھیلانے کی کیا صورت ہو گی؟ اور پاکستانی تحریک کی رہنمائی جس قسم کے لیڈر کر رہے ہیں اگر انہی کی رہنمائی میں پاکستان قائم ہوا تو اس کو  ترکی کی طرح ایک لادینی ریاست بننے سے بچانے اور ایک حقیقی اسلامی ریاست بنانے کے لیے کیا تدبیر کی جا سکتی ہے؟ ابو الاعلی مودودی کے بیٹے فاروق مودودی اپنے والد کے برصغیر کے حوالے سے سیاسی وژن کی وضاحت کچھ اس طرح کرتے ہیں جس سے پوری طرح حقیقت واضح ہو جاتی ہے: ''دو یا زائد قوموں کے ملک میں ایک جمہوری ریاست بنانے کی صحیح اور منصفانہ صورت یہ ہے کہ اولاً وہ بین الاقوامی وفاق (INTERNATIONAL FEDERATION) کے اصول پر مبنی ہو یا دوسرے الفاظ میں وہ ایک قوم کی ریاست نہیں بلکہ متوافق قوموں کی ایک ریاست(A STATE OF FEDERATED NATIONS)  ہو۔ ثانیاً اس وفاق میں شریک ہونے والی ہر قوم کو تہذیبی خود اختیاری (CULTURAL AUTONOMY) حاصل ہو یعنی ہر قوم اپنے مخصوص دائرہ زندگی میں اپنے گھر کی تنظیم و اصلاح کے لئے حکومت کے اختیارات استعمال کر سکے۔ ثالثاً مشترک وطنی معاملات کیلئے اس کا نظامِ عمل مساویانہ حصہ داری(EQUAL PARTNERSHIP)  پر تعمیر کیا جائے۔ تقسیم ہند سے ماقبل دور میں جماعت اسلامی نظریاتی اور عملی طور پر تبلیغی دائرہ کار تک محدود رہی۔ سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھنے اور سیاست پر مفصل قلم آزمائی کرنے کے باوجود مولانا مودودی جماعت کے مخصوص تبلیغی کلچر سے باہر نکل کر عملی سیاست میں حصہ لینے سے گریزاں تھے۔ مولانا سیاست کو مذہب کا جزو لاینفک سمجھتے تھے، لیکن ان کا خیال تھا کہ سیاسی جنگ میں حصہ لینے سے پہلے مسلمانوں میں علم و عمل، اتحاد و اتفاق اور نظم اجتماعی کے شعور کو ایک خاص سطح تک بلند کرنا ناگزیر ہے۔  اگست1941  میں جماعت اسلامی کے تاسیسی اجلاس سے لے کر اگست1947  میں تقسیم ہند کے وقوع پذیر ہونے تک مودودی صاحب نے جماعت کی سرگرمیوں کو تبلیغی دائرہ کار سے باہر نہیں نکلنے دیا۔ 1946 کے فیصلہ کن انتخابات کے موقع پر بھی کہ جب ہندوستان کی مسلم کمیونٹی کی غالب اکثریت حصول پاکستان کے لیے سیاسی میدان میں انتہائی جوش و ولولہ کے ساتھ سرگرم عمل تھی، مولانا ہوا کے مخالف سمت چلتے ہوئے، شد و مد کے ساتھ مسلمانوں کو سیاسی عمل سے علیحدگی اختیار کرنے پر آمادہ کرتے رہے۔ تحریک پاکستان کے اس عروج کے دور میں مولانا نے انتخابات میں شرکت کو اس اصولی موقف کی بنیاد پر حرام قرار دیا کہ نظام دنیوی (ہندوستان کا سیاسی)، لادینی ریاست کے نظریہ پر مبنی ہے۔ اس بنا پر یہ پورا نظام دراصل ایک کافرانہ نظام ہے، اس کی بنیاد اسلام کی بنیاد سے متصادم ہے اور اس اصول کو تسلیم کرتے ہوئے اس میں داخل ہونا قطعاً ایمان کے خلاف ہے۔ مولانا مودودی سمجھتے تھے کہ ہندوستانی مسلمانوں کا اصل مسئلہ ان کے سیاسی یا معاشی حقوق کا تحفظ نہیں بلکہ ان کے منفرد تشخص کی بقا اور ان کی تہذیبی شناخت کی حفاظت ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے دعوت دین ہی وہ واحد راہ عمل ہے جس کے ذریعے معاشرے میں اسلامی فکر و عمل کو فروغ دے کر وہ اپنا اور اپنی تہذیب کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ اس اعتبار سے مولانا کے نزدیک ہندوستانی مسلمانوں کی رہنمائی کے دعویدار دونوں گروہ، یعنی آزاد پاکستان کے طلب گار لیگی مسلمان اور متحدہ ہندوستانی قومیت کے داعی کانگریسی نیشنلسٹ مسلمان، دونوں غلطی پر تھے۔ پاکستان کا مطالبہ بھی مودودی صاحب کی نظر میں حماقت پر مبنی تھا۔ آپ کا موقف تھا کہ مطالبہ پاکستان کی بنیاد قوم پرستی ہے جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ آپ سمجھتے تھے کہ اگر مسلمان مسلم قوم پرستی کی موجودہ روش پر بدستور چلتے رہے تو مٹ جائیں گے۔ برصغیر کی تقسیم کا حتمی فیصلہ ہو جانے کے بعد بھی آپ اپنے ناکام موقف کی درستگی پر مصر رہتے ہوئے مسلمانان ہند کو تلقین کرتے رہے کہ مسلمان اپنے قومی اغراض کے لئے سعی و جدوجہد کرنے کی بجائے اپنی تمام کوششوں کو صرف اسلام کی اصولی دعوت پر مرکوز کر دیں۔