ولی خان کی پیش گوئیاں اور موجودہ حالات

ولی خان کی پیش گوئیاں اور موجودہ حالات

  روخان یوسف زئی

 صاحب سیف و قلم خوش حال خان خٹک کا ایک شعرہے 
چہ دستار تڑی ہزار دی
د دستار سڑی پہ شمار دی
یعنی ''دستار باندھنے والے ہزاروں میں سے ہیں مگر دستارکی لاج رکھنے والے گنتی کے ہیں۔'' اس بات سے وہ لوگ بھی اتفاق کریں گے جنہوں نے اپنی زندگی میں برصغیر کے نام ور قوم پرست اور ترقی پسند رہنمائ، اصول پرست سیاست دان اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہبر تحریک خان عبدالولی خان کے نظریات کی برملامخالفت کی کہ خان عبدالولی خان ایک دوراندیش، اصول پرست، جمہوریت پسند، وطن دوست اور اپنے نظریات پر قائم رہنے والی شخصیت تھے۔ 
آج پورے خطے میں بدامنی اور دہشت گردی کا جوطوفان چل رہا ہے اس کی نشاندہی ولی خان اپنی زندگی میں بارہا کر چکے تھے۔ وہ اپنی ہر تقریر اور پریس کانفرس میں ان جنگ پرست قوتوں کو خبردارکیا کرتے تھے جو پاکستان کی سرزمین سے اپنے پڑوسی برادر اور اسلامی ملک افغانستان میں مداخلت کیا کرتی تھیں۔ انہیں بار بار ولی خان کہا کرتے تھے کہ جو آگ آپ لوگ افغانستان میں لگانا چاہتے ہو، وہ آپ کے گھروں تک پہنچ آئے گی۔ شاید اس وقت ان قوتوں کو ولی خان کے اس قسم کے بیانات پر یقین نہیں آتا تھا، یقین کیا وہ تو ولی خان کی نیت پر بھی شک کیا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ خان صاحب ہندوستان، افغانستان اور روس کے ایجنٹ ہیں اور ان ہی کی زبان بول رہے ہیں۔
آج ان کی وفات کو سولہ سال بیت چکے ہیں۔ اس عرصہ میں جوکچھ رونما ہوا یا ہو رہا ہے اس کی پیش گوئی خان عبدالولی خان بہت پہلے کر چکے تھے۔ ولی خان نے 89 سال اس دارفانی میں بسر کیے اور سیاسی طور پر ایک ہنگامہ خیز اور پرشور زندگی گزاری اور بقول خوش خال خان خٹک کہ ''اب ایک شور تھما نہیں کہ دوسرا چلا آ جاتا ہے مگر میں شوروشر کے دن ہی پیدا ہوا ہوں۔'' اسی شعر کی روشنی میں اگر ہم خان عبدالولی خان کی پوری زندگی پر نظردوڑائیں تو اس سے بھی یہی تصویر بنتی ہے جس کا ذکر خوش حال خان نے اپنے شعر میں کیا ہے۔
26 جنوری 2006ء کو، جمعرات کی صبح اس دنیا سے عظیم قوم پرست اور مدبر سیاست دان ولی خان کے کوچ کر جانے سے پاکستانی عوام ایک جمہوریت پسند اور صاف گو سیاست دان اور پختون قوم ایک عظیم رہنماء اور مخلص قیادت سے محروم ہو گئی۔  وہ زندگی بھر اپنے والد باچا خان کے نقش قدم پرچ لتے رہے بالکل اس شعر کے مصداق کہ
نیا ہے یا پرانا راستہ ہے
یہ جیسا بھی ہے میرا راستہ ہے
انہوں نے اپنی جوانی کے شب و روز جنگ آزادی کے ہنگامہ خیز دور میں گزارے، ساری عمر ملک میں جمہوریت، آئین، قانون کی بالادستی، انصاف، باہمی اتحاد اور انسانی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کرتے رہے اور اس کی پاداش میں انہیں اپنی زندگی کا بیش تر حصہ صرف انگریز ہی نہیں اپنوں کے ہاتھوں بھی قید و بند میں بسر کرنا پڑا۔ انہوں نے کبھی بھی اپنے اصولوں اور نظریات پر سودا بازی نہیں کی۔ وہ  اپنی صاف گوئی کی بناء پر پورے ملک میں جانے اور پہچانے جاتے تھے۔ 
عوامی نیشنل پارٹی کے رہبر تحریک خان عبدالولی خان دسمبر 1915ء میں خان عبدالغفار خان کے ہاں پیدا ہوئے اور انہوں نے باچا خان کے قائم کئے ہوئے آزاد ہائی سکول اتمان زئی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ 1929ء میں انہوں نے خدائی خدمت گار تحریک میں حصہ لینا شروع کیا۔ میٹرک کے بعد انہیں ڈیرہ دون (یو پی) پبلک سکول میں داخل کرایا گیا۔ ولی خان نے یہاں سے سینئر کیمبرج کی ڈگری حاصل کی جس کے بعد 1942ء میں سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ 
اس حقیقت سے کوئی بھی انکارنہیں کر سکتا کہ ولی خان کی ہر بات اور قول ملک کے اجتماعی مفاد میں ہوتا تھا، وہ جوحقوق اپنی پختون قوم کے لیے مانگ رہے تھے وہ ملک کی دیگر قوموں کے لیے بھی مانگتے رہے کیوں کہ وہ ایک لبرل، جمہوریت پسند اور روشن خیال قوم پرست اور شاون ازم کے سخت خلاف تھے۔ انہوں نے نوجوانی میں ہی باچا خان کے ہم راہ خدائی خدمت گار تحریک کے پلیٹ فارم سے سیاست میں حصہ لینا شروع کیا اور آزادی کے لیے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی جس کی پاداش میں پہلی بار 1943ء میں فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز (40 ایف سی آر) کے تحت گرفتار ہوئے اور انہیں تین سال قید کی سزا ملی جب کہ برصغیر کی تقسیم تک وہ آل انڈیا کانگریس کے رکن رہے۔
1947ء میں ولی خان کی اپنی خالہ کی بیٹی سے شادی ہوئی۔ پندرہ جون 1948ء کو ولی خان کو پاکستان بننے کی مخالفت اور پختونستان بنانے کے الزام میں اپنے والد باچا خان اور دوسرے ہزاروں خدائی خدمت گاروں کے ساتھ گرفتار کیا گیا، جائیدادیں ضبط کی گئیں اور غیرمعینہ مدت کے لیے جیل میں ڈال دیئے گئے۔ 14 فروری 49ء کو خان عبدالولی خان کی پہلی بیوی وفات پا گئیں جن کی دو صاحب زادیاں، اور ایک صاحب زادہ آج کل اے این پی کے مرکزی صدر اور قومی اسمبلی کے سابق ممبر اسفندیار ولی خان ہیں۔
مئی 1949ء میں ولی خان کو ہری پور جیل سے مچھ جیل بلوچستان منتقل کیا گیا۔ نومبر 1950ء میں ولی خان اور قاضی عطاء اللہ کو سبی جیل منتقل کیا گیا۔ 1951ء میں ولی خان کو کوئٹہ جیل منتقل کیا گیا۔ 1952ء میں کوئٹہ جیل میں زیادہ گرمی کی وجہ سے ولی خان بیمار ہوئے اور انہیں ڈیرہ اسماعیل خان جیل منتقل کرنا پڑا۔ 8 دسمبر 52ء کو خان عبدالولی خان کی سزا ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں ختم ہوئی۔ کمشنر نے مزید سزا نہیں بڑھائی۔ ولی خان نے فیڈرل کورٹ (سپریم کورٹ) کو رہائی کی درخواست بھیج دی کیوں کہ حکومت نے ان کو بغیر کسی مقدمے اور متعین وقت  کے جیل میں بند کر رکھا تھا۔ اس قید و بند کے دوران بہت سارے خدائی خدمت گار وفات پا گئے جن میں باچا خان کے بہت قریبی دوست قاضی عطاء اللہ بھی شامل تھے۔ 14 نومبر 53ء کو خان عبدالولی خان پانچ سال، پانچ مہینے اور پانچ دن قید کاٹنے کے بعد رہا کر دیئے گئے۔
1954ء میں خان عبدالولی خان کی خدائی خدمت گار تحریک کے اہم رہنماء امیر محمد خان ہوتی (خان لالہ) کی بیٹی بیگم نسیم سے  شادی ہوئی۔ 1954ء کو پاکستان میں ون یونٹ سسٹم بنایا گیا جس کو ختم کرنے کے لیے باچا خان نے عملی جدوجہد کی، انہی کوششوں میں ولی خان نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ 1956ء میں انہوں نے اپنے والد اور دوسرے قوم پرست لیڈروں کی بنائی ہوئی نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) میں شمولیت اختیار کی۔ 1961/62ء میں ون یونٹ کے خلاف باچا خان اور ان کے پیروکاروں نے تحریک شروع کی۔ یہ صدر جنرل محمد ایوب خان کا مارشل لاء کا دور تھا۔ باچا خان اور ان کی پارٹی کے پانچ ہزار ساتھیوں کو مارشل لاء کی مختلف دفعات میں گرفتار کیا گیا، ان گرفتاریوں کے خلاف خان عبدالولی خان نے احتجاجی جلسے جلوس صوبے بھر میں شروع کئے، پارٹی کے تمام سرکردہ رہنماؤں کو کڑی سزائیں دی گئیں اور مختلف دفعات میں سپیشل ملٹری کورٹ سے دس سے چوبیس سال قید بامشقت اور جائیداد منقولہ غیرمنقولہ کی ضبطی کی سزائیں بھی دی گئیں مگر ولی خان اور ان کے ساتھی بھی الولعزم، نڈر، نظریات کے پکے اور مضبوط ارادوں کے مالک تھے اور حقوق کے حصول کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانے والے تھے۔ ان سزاؤں کے خلاف کسی بھی رہنماء نے کمی کی اپیل نہیں کی، اور اس کے خلاف خان عبدالولی خان نے حکومت کے خلاف تحریک کو منظم کیا اور عوام میں بیداری پیدا کی جس سے حکومت بوکھلا گئی اور حکمرانوں نے متزلزل ہو کر از خود سزاؤں میں تخفیف کی اور خود قیدیوں کی رہائی شروع کر دی۔
1970ء کے عام انتخابات میں ولی خان اپنے آبائی حلقے چارسدہ سے بھاری اکثریت سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے اور قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر قائد حزب اختلاف بھی چنے گئے، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے بھرپور کردار ادا کیا جس سے اس وقت کے حکمران سخت نالاں تھے۔ مخالفین نے ہر حربہ ان کے خلاف استعمال کیا وزارتوں اور دیگر مراعات کی بھی پیش  کش کی مگر تمام حربے ناکام ہو گئے۔ خان عبدالولی خان اصولوں پر سودے بازی کرنے والے نہیں تھے۔ ان پر کئی بار قاتلانہ حملے بھی کیے گئے مگر  ولی خان نہ بکنے والے تھے اور نہ جھکنے والے۔ 1973ء کے آئین کی تشکیل اور منظوری میں ان کا کردار نہایت اہم اور کلیدی رہا، ولی خان کے مطابق وفاقی جمہوری نظام ہی پاکستان کی بقاء اور استحکام کا ضامن ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس آئین کے ذریعے صوبوں کے حقوق کا تعین ہوا تھا لیکن اب وہ آئین کدھر ہے؟ آج کل آٹھویں ترمیم سے پہلے جو سات ترامیم ہو چکی ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ولی خان کہتے تھے کہ 1973ء کے آئین کی مکمل بحالی سے ہی صوبوں کو ان کے حقوق مل سکتے ہیں اور سیاست میں قلابازیوں اور فلور کراسنگ روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔ وہ کالا باغ ڈیم کے منصوبے کو سیاسی اور فنی نہیں بل کہ انسانی مسئلہ سمجھ کر اس کی مخالفت کیا کرتے تھے۔ انہوں نے ایک اخباری انٹرویو میں کہا تھا کہ کالا باغ کا مسئلہ اس وقت تک فنی تھا جب تک یہ واپڈا کے دفاتر تک محدود تھا لیکن جب یہ مسئلہ دفتر سے نکل کر میدان میں آیا اور مختلف علاقوں میں اس کی حدود کے تعین کے لیے ستون کھڑے کئے گئے تو اس سے یہ بات سامنے آئی کہ نوے دیہات زیر آب آ جائیں گے۔ ولی خان کے مطابق اگرچہ اسمبلی میں بعض ارکان نے اسے پاکستان کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے اسے مکمل کرنے پر زور دیا لیکن ان کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ یہ مسئلہ بجلی کا نہیں بنیادی طور پر پانی کا منصوبہ ہے لہٰذا اسی آڑ میں منصوبے کے بعض بڑے حمایتیوں نے چولستان میں بڑی بڑی زمینیں خرید لیں لیکن جب عالمی بینک نے آب پاشی کے لیے پیسے دینے سے انکار کر دیا تو پھر انہوں نے اس منصوبے کے ساتھ بجلی نتھی کر دی تھی۔ 
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ خان عبدالولی خان نے جن مختلف مگر اہم ترین مسائل پر کئی برس پہلے جو اظہارخیال کیا تھا وہ آج حقیقت بن کر سامنے آ رہا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ ہر مسئلہ اپنی مرضی سے نہیں بل کہ افہام و تفہیم سے حل کیا جانا چاہئے کیوں کہ افہام و تفہیم سے حل ہونے والا مسئلہ ہی پائیدار ہوتا ہے اور ملک کے لیے استحکام کا باعث بنتا ہے۔ وہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بارے میں اسی رائے کا اظہار کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی پاکستان کو ایک یونٹ بنا کر پہلے تو چھوٹے صوبوں کی حق تلفی کی گئی جس سے مشرقی پاکستان کے عوام بھی ناراض ہوئے پھر عام انتخابات کے بعد ان کے نتائج کو ہی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور پھر اس مسئلے کو جو ایک بڑا سیاسی مسئلہ تھا حل کرنے کے لیے بھی گولی کا سہارا لیا گیا۔ وہ کہاکرتے تھے کہ سیاسی مسائل کو سیاسی طور پر حل کرنے سے بات بنتی ہے زبردستی سے مسائل حل نہیں ہوتے بل کہ نفرت بڑھتی ہے اور حالات مزید خراب ہوتے ہیں۔ خان عبدالولی خان کو یہ افسوس رہا کہ ایک آزاد ملک کہلانے کے باوجود پاکستان کی خارجہ پالیسی کبھی اپنی نہیں رہی جس کے نتیجے میں اسے بین الاقوامی طور پر اہمیت حاصل نہیں ہو سکی۔ وہ افغانستان کے معاملات میں کسی بھی ملک کی مداخلت کے سخت خلاف تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی جنگ روس اور امریکا کی جنگ ہے جس میں امریکی خواہش پر ہماری مداخلت نے خود ہمارے لیے مسائل کھڑے کر دیئے ہیں اور امریکا روس کی شکست کے بعد اس بات میں دلچسپی رکھتا ہے کہ چین کے مقابلے میں بھارت کو مستحکم دیکھے وہ اب پاکستان کو بھارت کے خلاف کوئی اقدام کرنے کی اجازت نہیں دے گا بل کہ پاکستان پر بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنے اور بنانے پر زور دیتا رہے گا۔ ولی خان نے کئی ایک کتابیں لکھیں جن میں ''باچا خان اور خدائی خدمت گاری'' خاصی مقبول ہوئی۔ 
خان عبدالولی خان بیک وقت سیاست دان، ادیب، دانشور اور بین الاقوامی امور کے ماہر تجزیہ کار تھے ان کو بین الاقوامی ملکی اور علاقائی سیاست پر مکمل عبور حاصل تھا۔ دراز قد، سرخ و سفید، خوب صورت، دیو قامت شخصیت، بناوٹ، مصنوعیت اور فیشن پرستی سے بے نیاز حقیقی معنوں میں پختون خوا کے مرد درویش خان عبدالولی خان جن سے ملک کے بڑے بڑے زور آور حکمران خائف رہے اور ایوان سیاست جن سے لرزہ براندام تھے۔ ولی خان، جن پر ہر دور کے حکمرانوں، سول اور فوجی طاقتوں نے علیحدگی پسند، غدار، ملک دشمن، ہندوستان، افغانستان اور روس کے ایجنٹ جیسے الزامات لگائے، جن کا ساتھ دینا نہ دائیں بازو کے لوگوں کا کام تھا اور نہ بائیں بازو کی جماعتیں انہیں چاہتی تھیں۔ اس ملک میں جمہوریت، انصاف، آئین و قانون کی بالادستی اور ایک اصولی سیاسی کلچر کو پروان چڑھانے میں خان عبدالولی خان کی جدوجہد سے ان کے سخت مخالفین بھی انکار نہیں کر سکتے۔ پاکستان کی وہ کون سی جیل ہے جس کی ہوا ولی خان نے نہیں کھائی ہو مگر وہ ایک ایسے بابا کے فرزند تھے جن کے عدم تشدد کے فلسفے نے برطانوی سام راج کوشکست سے دوچار کیا تھا اور اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خان عبدالولی کو بھی مرتے دم تک کوئی طاقت اپنے اصولوں اور نظریات سے ایک انچ بھی ادھر اُدھر نہیں کر سکی۔ 
ویسے تو ان کی تقریباً ہرگفت پتھر پر لکیر کے مترادف ہے تاہم موجودہ دور میں ہمارے ہاں جس قسم کی سیاست چل رہی ہے یا جو صورت حال بنتی جا رہی ہے ان حالات میں ہمیں ولی خان کے افکار کی روشنی میں قدم اٹھانا ہو گا۔ ان کی برسی کے موقع پر لمبی لمبی جذباتی تقریروں یا نعرہ بازی کی بجائے ان کے افکار سے حقیقی معنوں میں سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے جو وہ ہمیشہ کہاکرتے تھے کہ ''شخصیت پرستی نے اس قوم کو تباہ کر دیا ہے ضروری ہے کہ ان بتوں کو توڑا جائے۔ ''ہیرو ازم'' کو ختم کیا جائے، صحت مند روایت قائم کی جائے، اصل مسئلہ کرسی کے حصول کا بنا ہوا ہے کوئی سیاسی جماعت یا حکومت جسے ایک بار کرسی مل جائے پھر وہ اٹھنے کا نام بھی نہیں لیتی یہی چیز غلط ہے۔ ''میں چاہتا ہوں کہ نوجوانوں کو آگے لایا جائے، جماعتیں اداروں کی حثیت اختیار کریں اور وہاں بھی شخصیت پرستی کے رحجانات کو ختم کیا جائے، ہم چاہتے ہیں کہ نئے آنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اب یہ لوگوں کی اپنی مرضی ہے کہ وہ میری اس بات کو کیا معنی پہناتے ہیں، اس ملک کی فلاح اور ترقی کے لیے ہم ہر صلاح و مشورے کے لیے ہر وقت موجود ہیں، لوگ عموماً ہماری بات کو اپنے معنی پہنا دیتے ہیں ہم کہتے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اس پر ہم سب کا اتفاق ہے مگر کیا وجہ ہے کہ آج تک پاکستان میں اسلام نافذ نہیں ہو سکا ؟ صاف ظاہر ہے کہ اسلام کا نام لینے والوں نے اخلاص کے ساتھ اسے نافذ کرنے کی کوشش ہی نہیں کی، ادھر دیگر نعروں اور نظریات کے نام پر کیا کچھ ہوتا رہا؟ ہم ان لوگوں کی طرح قوم کو دھوکا دینا نہیں چاہتے ہم انتہاپسند نہیں یہی ہمارا ''لبرل ازم'' ہے، ہم انقلابی نہیں ، ارتقائی ہیں ''ہم ریوولیوشن'' نہیں ''ایوولیوشن'' کی سیاست چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ میانہ روی اور اعتدال کی راہ کو اپنایا جائے، اسلام نے بھی میانہ روی کی تعلیم دی ہے ہم سب اسلام، قرآن، حدیث اور حیات مصطفیٰ سے واقف ہیں مگر ہم نے اپنی زندگیوں پر اسے نافذ کر رکھا ہے؟ نشستوں اور ٹکٹوں کی خاطر لڑنے والے کیا نظام مصطفیٰ لائیں گے؟ ہمیں ان سے صرف یہی اختلاف ہے اور جواب میں وہ ہمیں اشتراکی اور ترقی پسند کہتے ہیں، ادھر اشتراکی ہمیں رجعت پسند سمجھتے ہیں ہم صرف انصاف چاہتے ہیں استحصال نہیں۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ حضرت محمدۖ کے وصال کے بعد جب صحابی کھانا لائے تو انہوں نے کہا آج ہم نے پہلی بار پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہے، اللہ اللہ کیا شان تھی سرکار دو عالم کی، وہ تھا نظام مصطفیٰ وہ تھا اسلام۔ چٹائیوں پر سونے اور بھوک کاٹنے والے اس عظیم پیغمبر کی بات چھوڑیں ہم اس مرتبے اور مقام پر فائر نہیں ہو سکتے لیکن ایک صحابی کی زندگی تو یقیناً اپنا سکتے ہیں، حضرت عمر کے نقش قدم پر تو چل سکتے ہیں ہم کم از کم اپنی زندگیوں کو انہی کے مقام پر لے جائیں، اسوة رسولۖ پر عمل کرنا تو بہت دور کی بات ہے مگر عملاً ہمارے ہاں کیا ہو رہا ہے؟، آپ خود ہی اندازہ لگائیں۔''