بدامنی اور دہشت گردی، اے این پی نے مذاکرات پر سوالات اٹھادیئے

بدامنی اور دہشت گردی، اے این پی نے مذاکرات پر سوالات اٹھادیئے

چارسدہ(شہباز نیوز) عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صدر و نامزد امیدوار این اے 24 چارسدہ ایمل ولی خان نے پختونخوا میں جاری بدامنی، دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات اور دہشت گردی کے جاری واقعات پر سوالات اٹھادیے۔

 

 انتخابی مہم کے دوران ایم سی ٹو چارسدہ میں مختلف اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ جو ہمیں گالیاں دے رہے ہیں، بے شک دیں لیکن جو سوالات ہم نے اٹھائے ہیں، پہلے انکے جوابات دیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی حکومت اور جنرل فیض کی سربراہی میں دہشت گردوں سے جو معاہدے ہوئے ہیں، قوم کے سامنے لائے جائے کیونکہ ان جرگوں کے نتیجے میں بڑے بڑے دہشت گرد جیلوں سے رہا کئے گئے، سرحد پار سے لوگ بلائے گئے۔

 

انہوں نے دوسرا سوال اٹھایا کہ وزیراعلی، وزرا، گورنر، پی ٹی آئی کے اراکین دہشت گردوں کو بھتہ دے چکے ہیں، بلکہ یہ بھتہ بھی نہیں فنڈنگ ہے جس کی تازہ ترین مثال گذشتہ ہفتہ وزیراعلیٰ کے بھائی کے اغواء کے بدلے تین کروڑ کی ادائیگی ہے جو دہشت گردوں کو ہوچکی ہے۔ 

 

انہوں نے کہا کہ جس شخص نے مجھے گالی دی ہے، پہلے وہ اپنی حیثیت بتائے کہ کون ہے اور اسکے آبا اجداد کون ہیں؟ اپنے آپ کو پشتون کہنے والا پہلے الطاف حسین کا پیروکار تھا، پھر مشرف کا ترجمان بنا اور آج مداری کا دفاع کررہا ہے۔

 

ایمل ولی خان نے کہا کہ 96اراکین میں پی ٹی آئی کے ساتھ ایک اہل شخص نہیں جو اس صوبے کی ترجمانی کرسکیں۔

 

نااہل افراد کا یہ ٹولہ مسلط شدہ ٹولہ ہے جس سے عوام کو نجات دلانا ہی ہمارا ہدف ہے۔16اکتوبر کو اس نااہل ٹولے سے نجات اور جمہوریت پسند جماعتوں کی جیت کا آغاز ہوگا۔