انوکھا لاڈلا

انوکھا لاڈلا

تحریر: محمد سہیل مونس

کل پرسوں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم صاحب کا قوم سے خطاب ذرا سا سنا تو جی گھبرانے لگا جلدی سے ٹی وی کا چینل بدل کر مائیکل جے فوکس کی ایک پرانی مووی ''بیک ٹو دی فیو چر'' دیکھنے لگا، ذرا سی طبیعت سنبھلی تو رات گئے وزیر اعظم صاحب کی گن گرج پھر سے کانوں میں گونجنے لگی، خیر بتیاں بجھا کر سو گیا۔ صبح اٹھ کر عمران خان صاحب پھر آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی طرح گھومتے پھرتے دکھائی دیئے، بالآخر سوچا کہ آج کی تحریر چاہے جیسے بھی ہو اسی شخص پہ لکھنی چاہئے اور لکھنے بیٹھ گیا۔ پہلے تو ان کی تقریر کا لب لباب ملاحظہ ہو تو قارئین کو آسانی ہو گی، تو صاحب نے یہ کہا کہ مہنگائی تو ساری دنیا میں ہے۔

 

دوسری بات یہ بتائی کہ پاکستان میں ٹیکس دینے کا کلچر نہیں ہے لہٰذا امور مملکت چلیں گے کیسے؟ پھر ملکی حالات کا رونا روتے ہوئے کہنے لگے کہ مغربی ممالک میں قانون کی بالادستی ہے اور یہاں طاقتور قانون سے بالاتر ہے اور بچارا کمزور پھنستا رہتا ہے بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ اگر اتنے بڑے چور ڈاکو نہیں پکڑے جاتے تو بچارے غریب اور چھوٹے موٹے مجرموں سے جیلیں کیوں بھری ہیں ان کو بھی چھوڑ دیا جائے۔ انھوں نے اس موقع پر اسلامی نظام کے بارے میں بات بھی کی اور ایک آدھ مثال بھی تاریخ سے دی  پھر کہنے لگے کہ جن زریں اصولوں پر ہمیں عمل کرنا چاہیے تھا اس پہ دیگر اقوام نے عمل کیا دیکھیے آج وہ کہاں ہیں اور ہم کس پستی میں میں پڑے ہیں۔ پھر تقریر کے دوران ایک ایسا موڑ آیا کہ جس طرح میں حیران رہ گیا اسی طرح دیکھنے والوں کی کافی ساری تعداد دم بہ خود ہوئی ہو گی، صاحب نے اچانک سے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ''میں آپ کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ اگر مجھے ہٹانے کی کوشش کی گئی تو اپوزیشن میں آ کر اور سڑکوں پہ نکل کر میں مزید خطرناک ہو جاؤں گا۔'' اب اس بات کا مطلب ہر ناظر اپنے ذہن کے مطابق لینے لگا۔

 

کئی ایک نے اس دھمکی کو حزب اختلاف کے لئے سمجھا اور کئی ایک نے سیدھا سیدھا فوج کے لئے لیکن بہرحال اس کے منہ سے جو بھی بات نکلی نہایت ہی حیران کن اور معنی خیز تھی۔ میرے خیال میں سمجھنے والے سمجھ گئے ہوں گے کیونکہ انھوں نے جو بھی کہا شوگر کوٹڈ قطعی طور پر نہیں تھا اب یہ وہ بہتر بتا سکتے ہیں کہ ان کا اشارہ کس جانب تھا۔ ہم تو بحیثیت جنتا صرف جان کی امان پا کر سب کچھ سن اور سہہ سکتے ہیں کسی بات کا مطلب پوچھنا اور سوال کرنا تو مملکت خداداد میں ویسے بھی ممنوع ہے، اویں جان جھوکوں میں کیوں ڈالیں۔ لیکن اتنا ہم کہہ ہی سکتے ہیں کہ ہمیں اس بندے کی کھک بھی سمجھ نہیں آئی، یہ تو بلقیس خانم جی کا وہی انوکھا لاڈلا ہے جو کھیلن کو بھی چاند مانگتا ہے، چھوٹے موٹے کھلونے سے اس کا دل بھی نہیں بہلتا۔ ہم فی الوقت ان کی یہی تقریر ہی لے لیتے ہیں اور مان لیتے ہیں کہ ملک کا نظام ٹھیک نہیں ہے تو بھائی آپ کو عوام نے ووٹ کس خوشی میں دیا تھا، اس واسطے کہ آپ نظام کو درست کریں آپ اس کا رونا پچھلے ساڑھے تین سال سے رو رہے ہیں۔ پھر یہ قانون کی بالادستی کی بات کرتا ہے اور ساتھ میں یورپی ممالک کی مثالیں بھی دیتا ہے جیسے اپنی حالیہ تقریر میں کسی ملک کے اعلٰی عہدیدار کی مثال دی کہ اس نے بدعنوانی کی تھی تو بے عزتی کی وجہ سے اس کے بیٹے نے خودکشی کر لی اور وہ خود بھی روپوش ہو گیا۔ یہ مثالیں اپنی جگہ لیکن عمران خان صاحب آپ کی حکومت ہے اور آپ وزیر اعظم ہیں قانون کو حرکت میں لائیں اور عدالتوں سے انصاف کا کہہ کر گل مکائیں، جب خفیہ معاہدے ہو رہے تھے تو نواز شریف کو بوگس میڈیکل رپورٹس پر ملک سے باہر کیوں بھیجا؟ اب تو خیر سے اسد عمر نے بھی نواز شریف کے لندن جانے کا سارا ملبہ آپ پر ڈال دیا ہے۔ اس تقریر سے قبل بھی بلکہ تب سے جب یہ حزب اختلاف میں تھے تو سب کو چور اور ڈاکو کہتے تھے اور ان کا احتساب چاہتے تھے۔

 

پہلا نکتہ یہ کہ حکومت آپ کی ہے تو احتساب کریں ناں آپ کو روکا کس نے ہے اور دوسرا یہ کہ آپ پر آپ کی کے خاندان، مشیروں وزیروں اور یہاں تک کہ آپ کی پارٹی فنڈنگ میں گڑ بڑ کے انکشافات کے علاوہ کھلے ثبوت ملے ہیں تو پہلے خود تو احتساب کے لئے پیش ہوں۔ یہ کوئی عجیب سا شخص تخت شاہی پہ براجمان ہے جو صرف اور صرف باتوں سے امور سلطنت چلانے کی کوشش کر رہا ہے جس کی تصدیق وہ خود کر چکے ہیں کہ بعض دفعہ تو مجھے میری بیوی بتا دیتی ہے کہ آپ اس ملک کے وزیر اعظم ہیں آپ اس مسئلے پہ ایکشن کیوں نہیں لیتے۔ جہاں تک پاکستان کی اکانومی کی بات ہے تو یہ شخص مثالیں تو یورپ اور امریکہ کی دیتا ہے لیکن اپنے پاس پڑوس میں نہیں دیکھتا کہ بھارت دنیا کی بڑی اکانومی بن گیا ہے جبکہ بنگلہ دیش کا ٹکہ بھی ہم پہ بھاری پڑ گیا ہے، ہماری بیس فیصد آبادی سو روپے روز کے کمانے کے قابل بھی نہیں رہی، آٹھ فیصد بھوکا سونے والوں کی تعداد بھی اوپر جانے کو ہے۔ اگر آج بھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر عمران خان گورننس پہ توجہ دے اور بھرپور قسم کا سٹینڈ لے کر ملکی حقائق جنتا کو بتا کر آگے بڑھے، فوج کو بیرک یا بارڈر تک محیط کر لے، عدالتوں کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کا حکم دے، اپنے اور پرائے تمام قسم کے چوروں کیفرکردار تک پہنچانے کی کوشش کرے اور حکومتی اداروں سمیت عوامی نمائندوں کی شاہانہ طرز زندگی پہ روک لگائے تو باقی کے ڈیڑھ دو سال میں بھی وہ اپنی گرتی ہوئی ساکھ بچا سکتے ہیں۔ اگر حالات مزید ابتر ہوئے تو آخر میں نہ بچے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری جس کی تمام کی تمام ذمہ داری اس انوکھے لاڈلے اور اس کے لانے والوں پر ہو گی جو آج کے دن اس شخص کا ٹھیک قسم کا علاج کرنے سے قاصر ہیں۔