نیوز کاسٹر......خسرہ سے کھسرا اور کھسرا سے خواجہ سرا بن گیا

نیوز کاسٹر......خسرہ سے کھسرا اور کھسرا سے خواجہ سرا بن گیا

تحریر: ماخام خٹک

ہر پروفیشن کے اپنے اپنے لطیفے ہوتے ہیں اور وہ لطیفے کسی غلط فہمی، کم علمی، ناسمجھی یا پھر کسی افرط و تفریط سے سرزد ہو جاتے ہیں اور وہ پھر لوگوں میں مقبول عام بھی ہو جاتے ہیں۔ حال ہی میں ایک پرائیویٹ چینل کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے اور وہ ویڈیو بھی کسی فوری خبر کی تھرلنگ ویڈیو ہے جس میں ایک خاتون نیوز کاسٹر خبر دے رہی ہوتی ہیں کہ چمن میں کلی فلاں میں خواجہ سراء کی وباء پھیل گئی ہے اور خواجہ سراء کی وباء سے پانچ بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اور یہ خبر وہ نیوز کاسٹر فوری خبر ہو نے کی وجہ سے دہرا کر بول رہی ہوتی ہیں۔ جب کہ اصل ایشو یہ ہے کہ نیوز کاسٹر کو خسرہ کی وباء کی فوری خبر کا کہا گیا ہے اور وہ خسرہ کو کھسرا سمجھ کر کھسرا لفظ اچھا نہ لگنے کی وجہ سے خواجہ سرا کا لفظ اپنے فوری خبر کی زینت بنا دیتی ہے۔ اسی طرح ہمارے پشتو ادب کے ایک ادیب تھے جناب عبدالکافی ادیب جو اب بچارے مرحوم ہیں، وہ کافی ادیب سے مشہور تھے، اردو پشتو دونوں میں لکھتے تھے، لاہور کسی رسالے کے دفتر آئے ہوئے تھے تو رسالے کے ایڈیٹر یا مالک نے کسی دوست لکھاری کو بلایا کہ کافی ادیب آئے ہوئے ہیں۔ جب وہ آئے تو ایک ہی شخص کو موجود پایا جس پر وہ رسالے کے مالک سے کہنے لگے آپ تو کہہ رہے تھے کافی ادیب آئے ہوئے ہیں یہاں تو ایک ہی بندہ نظر آ رہا ہے۔

 

اسی طرح ہمارے بار روم میں یہ بات لطیفے کے طور پر سینئر وکلا دہراتے ہیں کہ ایک جونیئر وکیل پہلے پہل کسی کیس میں بیل ایپلیکیشن پر آرگو کرنے یعنی کسی ضمانت کی درخواست پر بحث کرنے کسی عدالت میں پیش ہوئے تو جج نے کیس کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے وکیل کو سنے بغیر بیل گرانٹ کر دی اور کہا 'بیل از گرانٹڈ' جس پر فریش اور جونیئر وکیل جذباتی ہو کر کہنے لگے مجھے سنے بغیر کیسے بیل گرانٹ کر دی؟ جس پر جج نے بولا ''جی سناؤ!'' وکیل نے جب بیل پر دلائل پیش کئے تو جج نے بولا ''بیل از ڈسمسڈ'' جس پر وکیل بولا ''تھینک یو سر! مچ اوبلائجڈ۔'' اسی طرح ہماری بار کے ایک سفید ریش سینئر وکیل ہیں، ان کی بیل یا ضمانت کی درخواست کسی سیشن جج نے ڈسمس کر دی، لازمی ہے اب ان کے پاس دوسرا راستہ ہائی کورٹ جانے کا بچا تھا۔ اور دوسری جانب کلائنٹ کورٹ کے باہر ضمانت کی درخواست منظور ہونے کی خوش خبری سننے کے لئے بے تابی سے  کھڑے انتظار  کر رہے تھے جس پر وکیل صاحب نے موقعے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے ان سے بڑی برجستگی سے کہا ''چلو بابا چلو چھوٹے سائیں نے بڑے سائیں کے پاس جانے کی اجازت دے دی۔'' اسی طرح کسی گاؤں میں نئے نئے پرانے چوتھی پاس کسی کو چٹھی پڑھ کر سنا رہا تھا، خط پڑھتے پڑھتے تیزی سے پڑھ لیا اور عزیز چھیاسٹھ کو بھی سلام! جس پر خط سننے والے چونک گئے کہ عزیز چھیاسٹھ تو ہمارے اپنوں میں کیا دور کے رشتہ داروں میں بھی نہیں ہیں تو تصحیح پر پتہ چلا کہ لکھنے والے نے عزیز ماما لکھا تھا جو جلدی جلدی میں دو بار چھ سمجھ کر چھیاسٹھ پڑھ گیا تھا۔ اسی طرح ایک نیا نیا ہاؤس جاب ڈاکٹر پہلی بار او پی ڈی میں کسی مریض کا چیک اپ کر رہا تھا تو جوں ہی مریض کے دل ہر سٹیتھوسکوپ رکھا تو فٹ سے سٹیتھو سکوپ ہٹایا اور مریض سے کہنے لگے تمہارے دل سے تو ہارن اور گاڑیوں جیسی شورشرابے کی آوازیں آ رہی ہیں جس پر مریض بولا ڈاکٹر صاحب سٹیتھو سکوپ تو کانوں میں لگائیں آپ کے گلے میں لٹکا ہوا ہے، یہ شورشرابہ اور ہارن کی آوازیں باہر سے آ رہی ہیں۔

 

اسی طرح ہماری بار کے ایک وکیل کا نام ناہید افضال ہے، وہ کسی جج کے سامنے پیش ہوا اور ساتھ ہی ساتھ پٹے والے نے ناہید افضال ایڈوکیٹ کی بھی باہر کورٹ کے دروازے پر آواز لگائی، اب ڈائس ہر ناہید افضال کھڑے رہے کہ اب جج صاحب ان سے مخاطب ہو کر پوچھ لیں گے کہ جی وکیل صاحب آپ کا کیا ایشو ہے یا آپ کے کیس میں کیا ہے تو کچھ وقت کے بعد خود ناہید افضال نے گلا تازہ کر کے بولا ''جناب اس کیس میں میرے آرگومنٹس ہیں۔۔'' جس پر جج اوپر سے بولا وکیل صاحب ذرہ صبر کریں اس کیس میں کوئی خاتون ناہید افضال وکیل بھی پیروی کر رہی ہے جس پر ناہید افضال نے کہا جناب وہ ناہید افضال ایڈوکیٹ میں ہوں۔ اسی طرح نیٹو کنٹینر کیس کے دنوں میں نیب کا کیس ہونے کی وجہ سے نیب میں اس کیس کی ضمانت کی درخواست دائر نہیں ہو سکتی تھی اور قانون ہے کہ جب کسی بھی لاء میں کوئی ریمیڈی دستیاب نہ ہو تو آپ آئین کے آرٹیکل ایک سو ننانوے میں ہائی کورٹ میں وہ ریمیڈی مانگ سکتے ہیں، عام قانون میں یا ضابطہ فوجداری میں دفعہ چار سو ستانوے میں ضمانت کی درخواست دی جاتی ہے لیکن نیب میں آئین کے آرٹیکل ایک سو ننانوے میں دینا پڑتی ہے جو بنیادی حقوق کے حوالے سے مشہور ہے۔ تو ہماری ایک خاتون کولیگ وکیل نے بیل یا ضمانت کی پیٹیشن ہائی کورٹ میں نیب کے خلاف لگائی تو آرگومنٹس کے دوران جب جج صاحب نے وکیل صاحبہ سے کہا ''جی  وکیل صاحبہ! آپ کا کیا ہے؟'' تو اس نے جواباً کہا ''جج صاحب! بیل اپلیکیشن یا ضمانت کی درخواست ہے۔۔'' جس پر جج صاحب بولے ''اس میں تو چارسو ستانوے ضابطہ فوجداری کی درخواست نہیں ہے؟'' جس پر وکیل صاحبہ بولیں ''جج صاحب! نیب لاء میں آئین کی دفعہ ایک سو نناوے میں ضمانت کی درخواست دی جاتی ہے۔'' اسی طرح کراچی ہائی کورٹ میں ایک سینئر وکیل کسی کریمینل اپیل میں پیش ہوئے۔ جج صاحب نے بولا ''آپ کا کیا ہے؟'' وکیل صاحب بولے ''سر! میری کریمینل اپیل ہے اور میرے ملزم کو سات سال کی سزا ہوئی ہے، سیشن جج کے اس فیصلے کے خلاف آپ کی عدالت میں پیش ہوا ہوں۔۔'' جس پر جج صاحب برجستہ بولے ''ملزم جیل میں ہے؟'' اس طرح مختلف پروفیشن کے مختلف لطیفے ہیں لیکن کسی بیماری کا میں نے جنس تبدیل ہوتے نہیں دیکھا جس طرح اوپر بیان کئے ہوئے ایک نجی چینل کی نیوز کاسٹر نے خسرہ سے کھسرا اور پھر کھسرا سے ازراہ احترام خواجہ سرا بنا دیا ہے۔