ٹرانس جینڈر بل، دعوے اور حقائق

ٹرانس جینڈر بل، دعوے اور حقائق

مظہر علی
سوچتا ہوں پاکستانی حکمرانوں اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کا المیہ کہاں سے شروع کروں۔ آئے روز برسر اقتدار حکمران طبقے کی طرف سے نت نئے غیرفطری اور غیراسلامی قوانین، اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے اس مملکت خداداد میں پاس کئے جا رہے ہیں۔ ان خودساختہ بلز اور قوانین کا اسلام، پاکستانی معاشرے، ہماری ثقافت، اخلاقی اقدار، مشرقی روایات اور ہماری تہذیب و سماجی ماحول سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ جس مظلوم طبقے کی شناخت اور حقوق کے نام پر اس مذکورہ بل کو قومی اسمبلی سے پاس کیا گیا ہے، اس مجبور طبقے کے لئے اس بل میں کوئی ریلیف موجود ہی نہیں بلکہ اس کی آڑ لے کر پاکستان میں غیرضروری، غیرفطری اور غیراسلامی اقدامات کے تحت مادر پدر آزاد کلچر کو پروان چڑھانے، صنفی شناخت مسخ کرنے اور نئی نسل کی اخلاقی اقدار کا جنازہ نکالنے کی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مذکورہ ٹرانس جینڈر بل اگرچہ ظاہری طور پر نہایت خوشنما لفاظی اور مذکورہ مظلوم طبقے کے حقوق کے حوالے سے بلند و بانگ دعوؤں اور دفعات پر مشتمل ہے لیکن اس کا طریقہ کار، جنس بدلنے کا پورا پروسیجر اور ایک فرد کا اس حوالے سے کسی مستند طبی تشخیص، معائنے اور دیگر لوازمات کے بغیر، مذکورہ فرد کا اس معاملے میں مکمل اپنی ذاتی مرضی کی بنیاد پر اختیار انتہائی غلط بلکہ غیرفطری اور غیراسلامی عمل ہے۔ یہ قانون دراصل ایک فرد کا اپنے نجی اور قومی سرکاری دستاویزات یعنی شناختی کارڈ وغیرہ میں جنس کی تبدیلی کو مکمل طور پر اس فرد کی اپنی مرضی اور فیصلے پر چھوڑ دیتا ہے جب کہ جنس تبدیلی کے اس اہم مسئلے پر طبی تشخیص، معائنے اور متعلقہ طبی ماہرین کی مستند ماہرانہ آرا کے ساتھ ساتھ دیگر اسلامی نکتہ ہائے نظر کو بھی مکمل طور پر نظر انداز کرتا ہے۔ ٹرانس جینڈر بل خوشنما لفاظی اور بہترین پیرائے میں لکھے جانے کے باوجود اس کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ جنس جیسے اہم ترین حساس معاملے کو کلی طور پر مرد یا عورت کی اپنی ذاتی سوچ، احساس اور ذہنی کیفیت پر چھوڑتا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ کسی مرد یا عورت کا اٹھارہ سال کی عمر یعنی بلوغت تک پہنچنے کے بعد اپنی جنس کی تبدیلی کے لئے کسی بھی متعلقہ طبی تشخیص، معائنے اور ماہر طبی معالج اور اس کی مستند تحریری رپورٹ کی کوئی ضرورت نہیں۔ بس کسی فرد کی فقط اپنی مرضی کی دیر ہے اور وہ مرد سے عورت اور عورت سے مرد بن سکے گا۔ جس سے اس بل کا قانون بن جانے کے بعد انتہائی غلط اور نامناسب استعمال کے سنگین اور غالب امکانات بڑھ جائیں گے۔ علاوہ ازیں کسی مصدقہ طبی تشخیص، معائنے اور مستند ماہر معالج کی تحریری رپورٹ کے بغیر، صرف اور صرف فرد کی ذاتی مرضی، سوچ یا احساس پر نادرا کو اس بات کا پابند بنا دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ٹرانس جینڈر کو صرف اور صرف اس کی ذاتی مرضی پر مرد یا عورت کا شناختی کارڈ جاری کرے۔ اس سلسلے میں نادرا کی طرف سے مذکورہ فرد کے دعوے یا فیصلے کی توثیق کے لئے اس پر کسی قسم کا سوال اور اعتراض اٹھانے یا اس سے کسی قسم کی وضاحت مانگنے کا اختیار نہیں۔ بین الاقوامی سطح پر سویڈن دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے1972  میں ٹرانس جینڈر لوگوں کو اپنی جنس تبدیل کرنے کے لئے سرجری کی اجازت دی اور جنس تبدیلی کا مفت علاج بھی فراہم کیا۔ جنس تبدیلی کے بہت سے بین الاقوامی پروٹوکول میں یہ بات لکھی گئی ہے کہ ایسے بہت سے لوگ جو طبی معائنے اور جراحی کے باقاعدہ عمل کے تحت کسی انتہائی ضروری سبب کی بدولت اپنی جنس تبدیل نہیں کرتے وہ ٹرانس جینڈر نہیں کہلاتے۔ بالفاظ دیگر صرف اپنی مرضی، سوچ اور احساس کی بنیاد پر کسی مرد کا اپنے شناختی کارڈ اور دیگر قومی دستاویزات میں خود کو عورت لکھنے اور ظاہر کرنے سے وہ عورت نہیں بن سکتا بلکہ مرد ہی رہے گا اور ایسا ہی عورت کے معاملے میں بھی ہو گا۔ دنیا کے وہ ممالک جو طبی و جنسی تشخیص، معائنے اور سرجری کے لئے دنیا بھر سے وزٹ کئے جاتے ہیں ان میں برطانیہ، امریکہ، بلجیئم، برازیل، کوسٹاریکا، انڈیا، میکسیکو، سنگاپور، اسپین اور تھائی لینڈ وغیرہ شامل ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان تمام مذکورہ ممالک میں جنس تبدیلی اور متعلقہ جنسی شناخت کے لئے طبی تشخیص، معائنہ اور جراحی کے عمل کو ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ یہ انتہائی ستم ظریفی ہے کہ ہمارے ہاں ایک اسلامی ملک اور معاشرے میں غیروں اور مادی طور پر دنیا کے ترقی یافتہ لیکن انتہائی حد تک مادر پدر آزاد ملکوں کے مذکورہ غیرفطری اور خلاف اسلام قوانین کو تو ہاتھوں ہاتھ لینے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن وہاں کی عوامی فلاح و بہبود، تعلیم و صحت کی اعلی سہولیات، مفید اور عوام دوست جمہوریت اور سربراہان مملکت، وزرا، ارکان اسمبلی اور سرکاری اشرافیہ کے انتہائی واجبی اور ہمارے مقابلے میں نہایت کم مراعات اور پروٹوکول وغیرہ سے آنکھیں پھیر لی جاتی ہیں۔ میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو کے مصداق ٹرانس جینڈرز کے حقوق کے نام پر پاکستانی عوام پر اگر ایک طرف ایسے غیرفطری اور غیراسلامی قوانین نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو دوسری طرف ان ترقی یافتہ ممالک کی کچھ ظاہری فلاحی اقدامات اور عوام دوست پالیسیوں سے مسلسل چشم پوشی برتی جاتی ہے کیونکہ اس میں پھر پاکستانی مقتدر سیاسی طبقے اور اشرافیہ کے وسیع اختیارات اور بے لگام مراعات کم یا ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ اس بل کے چیپٹر 2، پیرا 3 سب پیرا1  کے انتہائی واضح لیکن بے لگام اور بے اعتدال الفاظ و اختیار کی وجہ سے مستقبل میں اس قانون کے انتہائی غلط اور بے جا استعمال ہونے کے سنگین اور تباہ کن خدشات لاحق ہو گئے ہیں۔ بل کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں: a transgender person shall have a right to be recognised as per his self percievd gender identity, as such, accordance with the provision of this act  یعنی ایک ٹرانس جینڈر شخص کو اس ایکٹ کی دفعات کے مطابق، اس کی خودشناسی پر مبنی اپنی صنفی/جنسی شناخت کے مطابق پہچانے جانے کا حق حاصل ہو گا۔ مستقبل میں قومی سطح پر اس قانون سے ہماری پوری معاشرتی اور صنفی شناخت، خاندانی، شخصی، معاشی، سماجی اور پیشہ ورانہ زندگی کے شدید متاثر، تبدیل بلکہ مسخ ہونے کا قوی خطرہ ہے۔ یہ بل ایک فرد کا کتنی بار جنس تبدیلی اور شناخت کا عمل کر سکتا ہے اس بارے میں مکمل طور پر خاموش ہے۔ اس سے لوگ جرائم کا ارتکاب کرنے کے بعد اپنی جنس اپنے نجی و سرکاری دستاویزات میں بدلتے رہیں گے اور اس معاملے پر قانون سازی نہ ہونے سے عدالتوں میں مقدمات میں شکوک و شبہات پیدا کر کے اور اس کا فائدہ لے کر بری ہوتے رہیں گے۔ پھر اس کے سدباب اور روک تھام کے لئے مزید قانون سازی کرنی پڑے گی اور پہلے سے پیچیدہ اور آپس میں ٹکراتا ہوا قانون مزید مشکل اور پیچیدہ ہوتا چلا جائے گا۔ اس سے ہماری نجی، سماجی اور پیشہ ورانہ زندگی پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ خواتین کے لئے مخصوص تعلیمی اور پیشہ ورانہ اداروں اور ملازمتوں میں فقط جینڈر چینج کی بنیاد پر مرد حضرات دندناتے پھریں گے اور اس بنیاد پر خواتین کے لئے مخصوص سرکاری ملازمتوں اور کوٹے پر اہل تصور ہوں گے۔ بالکل یہی عمل خواتین کی طرف سے مردوں کی مخصوص ملازمتوں اور معاملات میں شروع ہو جائے گا جس سے ہمارے معاشرے کا امن، سکون، فطری ترتیب اور شناخت تباہ ہو کر رہ جائے گا۔ انسانی نسل کی حقیقی پہچان، انسانی نسل اور اولاد کی پاکیزگی اور خاندانوں کا شجرہ نسب محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ (جاری ہے)