ٹرانس جینڈر بل: خدشہ کوئی نہیں

ٹرانس جینڈر بل: خدشہ کوئی نہیں

تبسم عدنان
خواجہ سراؤں کے تحفظ بل کا مطالعہ کرنے کے بعد کافی دوستوں کو تجسس ہے کہ اس بل میں کیا ہے۔ دوستو! اس بل میں خواجہ سراؤں کے حقوق درج ہیں جن میں ان کی شناخت، وراثت، صحت، نوکری اور تعلیم وغیرہ کے حقوق شامل ہیں۔ خواجہ سرا خود کو نادرہ میں بطور شہری رجسٹر کروا سکتے ہیں، پاسپورٹ اورdriving licence  بنوا سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں نوکری کے حقوق بھی متعین کیے جا چکے ہیں۔ خواجہ سراؤں کوsmall bussiness  کی ترغیب دینے لیےloans  وغیرہ آسانی سے فراہم کیے جائیں گے۔ اس بل میں ان کے لیے الگ جیلوں اورRehabilitation centers  کا قیام بھی شامل ہے۔ ہر تعلیمی ادارہ ان کو داخلہ دینے کا پابند ہو گا بلکہ حکومت آرٹیکل25A  کے تحت ان کو مفت تعلیم دینے کے حوالے سے اقدامات اٹھائے گی۔ ملک کے کسی بھی ہسپتال میں بغیر کسی تعصب کے ان کا علاج یقینی بنایا جائے گا۔ اور وہ بالکل ایسے ہی اپنا ووٹ کاسٹ کر سکیں گے جیسے عام شہری کو ووٹ کاسٹ کرنے کے حقوق حاصل ہیں۔ خواجہ سرا والدین سے وراثت میں اپنا حق حاصل کر سکتے ہیں، مردوں کی شباہت رکھنے والے اتنا حصہ پائیں گے جتنا ایک مرد اور عورتوں کی شباہت رکھنے والے وراثت میں عورتوں کے برابر حصہ پا سکتے ہیں۔ اس بل کو پڑھنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ خواجہ سرا بھی اب عام لوگوں کی طرح زندگی گزارنے کے قابل ہوں گے اور نوکریوں کے زریعے خودمختار ہوں گے۔ جرائم کا تناسب ویسے بھی ان کے ہاں کم ہے پھر بھی کسی جرم کی صورت میں علیحدہ جیلوں کے قیام سے یہ فائدہ ضرور ہو گا کہ ان کی اصلاح بہتر انداز میں ہو سکے گی۔ تعلیم و تربیت سے ان کو یہ کانفیڈنس حاصل ہو گا کہ وہ خود کو معاشرے کا محروم طبقہ سمجھنا چھوڑ دیں گے اور محنت کر کے کچھ پانے کی لگن پیدا کریں گے۔ جہاں تک چھوٹے کاروبار کی بات ہے، ہم کہہ سکتے ہیں کہ خواجہ سرا ملکی معیشت میں اپنا بھرپور حصہ شامل کر سکتے ہیں اگر وہ اس بل کو سنجیدگی سے اپنے اوپر لاگو کریں اور اس ذہنی کیفیت سے نکلیں کہ ہم الگ مخلوق ہیں اور ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ اگر بل میںPMDC  والا نکتہ شامل نہ کیا جاتا تو ہم یہ بات کہہ سکتے تھے کہ بل ہم جنس پرستوں کی حمایت میں منظور ہوا ہے، اب چونکہ ہر خواجہ سراء کو اس کی جنس کے مطابقPMDC  سے سرٹیفیکٹ جاری کیا جائے گا سو اس بات کا کوئی خدشہ نہیں کہ بل کے ذریعہ ہم جنس پرستوں کی پشت پناہی کی جا رہی ہے۔