نوشتہ دیوار 

نوشتہ دیوار 

حکومت کا آئی ایم ایف کے ساتھ سخت شرائط پر معاہدہ طے پا گیا ہے 'شرائط پر عملدرآمد کی صورت میں پاکستان کو تقریباً1ارب ڈالر دیئے جائیں گے ' اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان کے مشیر خزانہ شوکت ترین نے پریس کانفرنس کے دوران معاہدہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ارب ڈالر کی وصولی کے لئے ہمیں بھی چند اقدامات اٹھانا ہوں گے جن میں جی ایس ٹی پر استثنیٰ ختم، پیٹرولیم لیوی میں ہر ماہ 4روپے اضافہ ' اسٹیٹ بینک قانون میں ترمیم، کووڈ کے حوالے سے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پیش کرنا اور کووڈ اخراجات کی بینی فشل اونرشپ بتانا شامل ہیں'شوکت ترین کا مزید کہنا تھا کہ بجلی کے نرخ میں ایڈجسٹمنٹ، ٹیکس کے نظام میں بہتری، اخراجات میں احتیاط اور مالیاتی نظم و ضبط وہ چند اہم اقدامات ہیں جن سے ملک کو ٹھوس معاشی بنیادوں پر استوار کرنے میں مدد ملے گی' مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے لیکن معیشت پرموجود دبائو کو کم کرنا ہوگا'مشیر خزانہ نے مزید کہا کہ ہمیں پیٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی کی مد میںہرماہ 4روپے بڑھا کر 30روپے تک لے کر جانا ہے ' سٹیٹ بینک کی ترمیم پارلیمنٹ سے ضروری ہے'دوسری جانب وفاقی وزیر حماد اظہر نے عوام پر ایک اور بجلی بم گراتے ہوئے آئی ایم ایف کے شرائط کے مطابق بجلی ٹیرف بڑھا دیا ہے جبکہ اس سے پیدا ہونیوالی مشکلات کو درخور اعتنا نہ سمجھتے ہوئے مستقبل میں تھوڑی بہت مزید ایڈجسٹمنٹ کا بھی عندیہ دیا ہے' ابھی معاملہ صرف بات چیت کی حد تک ہی سنا جا رہا تھا کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ( نیپرا)کواکتوبر کے لئے فیول پرائس ایڈ جسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں پونے 5 روپے اضافے کی درخواست جمع کر ادی گئی جس پر سماعت کیلئے 30 نومبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے' درخواست میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر میں کل 11 ارب 29 کروڑ یونٹ بجلی پیدا ہوئی، اسی مہینے 10 ارب 98 کروڑ یونٹ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو فروخت بھی ہوئی' اضافے کی درخواست کے الیکٹرک کے سوا بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیوں کے لیے ہے' نیپرا سے منظوری کی صورت میں صارفین پر 61 ارب روپے کا بوجھ منتقل ہوگا'حالیہ صورتحال کے بعد عوام کی چیخیں ہر سو سنائی دے رہی ہیں، سیاسی فلور ہو یا عوامی اجتماعات ہوں ہر جگہ یہی ایک بحث ہے کہ غریب کو کیسے بچایا جائے اور کیسے مسائل کم کئے جائیں' شاید اسی لئے پہلے سے دبے عوام کو مزید دبائو میں لانا ضروری سمجھا جا رہا ہے، حکومتی اقدامات عوام کیلئے مزید مشکلات کا باعث بنتے جا رہے ہیں، عوام مہنگائی کا شور مچا مچا کر تھک گئے ہیں لیکن حکومت اپنی ہی دھن میں مگن ہے، اسے نہ غریب کا خیال ہے نہ ہی ان کے مسائل کا ادراک ، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط ماننے کے ساتھ اپنے عوام پر بھی رحم کھایا جاتا اور ان پر مہنگائی کا جو اضافی بوجھ پڑا ہے اس کو کم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جاتے 'حقیقتاًآئی ایم ایف کی شرائط ماننا اور اس پر بلا سوچے سمجھے عمل در آمد مسائل کو جنم دے رہا ہے، ایسے میں دو وقت کی روٹی کو ترستے عوام کس کی راہ دیکھیں، ہے کوئی اور جو ان غریب عوام کی مدد کر سکے اور ان سے بوجھ اٹھا سکے، یا یہ عوام سڑکوں پر نکلتے ہوئے گلی گلی مارچ اور دھرنا شروع کریں، ان حالات میں حکومت کو عوام کی داد رسی کرنا ہوگی ' سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے علاوہ مزدور کار لوگ جو ماہانہ 18تا 20 ہزار بمشکل کماتے ہیں ہر ماہ 8 سے 10 ہزارکا بجلی بل کہاں سے ادا کر پائیں گے' ایسے میں حکومت کو چاہئے کہ اگر وصولی انہی غریب لوگوں سے کرنی ہے تو ہر ماہ ان کیلئے مشاہرہ مقرر کیا جائے جیسا کہ یورپی ممالک میں ہوتا آ رہا ہے' شاید پھر حالات کسی حد تک قابو میں آ سکیں وگرنہ حکام کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے ۔