مذہب کا استعمال اور طارق جمیل 

مذہب کا استعمال اور طارق جمیل 

آصف علی درانی

یہ بہت پرانی روایت چلی آ رہی ہے پاکستان میں کہ جو بھی سیاست دان سیاسی طور پر کمزور ہو جاتا ہے یا اس کی جماعت کو کوئی خطرہ لاحق ہو یا عوام اس کی جماعت چھوڑ کے دوسرے سیاسی جماعتوں میں شامل ہوتے ہیں تو پھر یہ سیاست دان اپنی پارٹی بچانے کے لیے مذہب کا استعمال کرتے ہیں اور تحریک انصاف کی زبان میں اس کو اسلامی ٹچ کہتے ہیں۔ کس سیاست دان نے مذہب کا استعمال کیا تھا اور موجودہ دور میں کون سیاست دان مذہب کا استعمال کرتا ہے ۔ آج کے کالم میں اس پر بات نہیں کرتا بلکہ مولانا طارق جمیل جس طرح مذہب کا استعمال کرتا ہے اس پر بات کروں گا۔ میرے خیال میں طارق جمیل کے لیے مولانا کا لفظ استعمال کرنا اس لفظ کی توہین ہے۔ لیکن خیر کہانی بہت بڑی ہے، کہانی کو شروع کرتے ہیں۔ طارق جمیل کا تعلق کہاں سے ہے، کس خاندان سے ہے پہلے اس پر بات کرتے ہیں۔ مولانا طارق جمیل خاندان کے لحاظ سے راجپوت چوہان جو پنجاب کی کاسٹ ہے۔ طارق جمیل کا ضلع خانیوال ہے تحصیل میاں چنو ہے جس قصبے میں طارق جمیل رہائش پذیر ہے اس کا نام رئیس آباد ہے۔ طارق جمیل کے چچا زاد بھائی کا نام رئیس اقبال تھا اور اسی بنیاد پر اس نے اپنے قصبے کا نام رئیس آباد رکھا۔ طارق جمیل کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ بڑے بیٹے کا نام یوسف جمیل ہے جس کا چند دن پہلے ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں نام آیا تھا لیکن اس پر بعد میں بات کرتا ہوں۔ دوسرے بیٹے کا نام عاصم جمیل ہے اور تیسرے بیٹے کا نام علی جمیل ہے۔ اب طارق جمیل کی شخصیت پر بات کرتے ہیں کہ طارق جمیل کس قسم کی شخصیت کا مالک ہے؟ مولانا طارق جمیل ایک عجیب قسم کا بندہ ہے؛ چہرے پہ داڑھی ہے بڑے بڑے لوگوں کی محفلوں میں مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں، طارق جمیل جوانی میں ایک گلوکار ہوا کرتا تھا۔ طارق جمیل نے خود بتایا تھا کہ گورنمنٹ کالج میں پڑھتا تھا تو جب وہاں پہ کوئی میوزک ناچ گانے کا پروگرام ہوتا تھا تو وہ لوگ مجھے بلاتے تھے اور میں وہاں پہ گاتا تھا۔ طارق جمیل کا ایک بھائی اچھا ڈانسر بھی ہے۔ بہت پہلے طارق جمیل کے بھائی کے ناچنے کی ویڈیو بھی کافی مشہور ہوئی تھی۔ طارق جمیل کی بالی ووڈ کے اداکاروں سے بھی دوستی ہے۔ ان اداکاروں کے بارے میں طارق جمیل کو بہت معلومات بھی ہیں۔ طارق جمیل جب عامر خان سے ملا تو کافی خوشی اور ڈھٹائی کے ساتھ یہ قصے بیان کرتا تھا کہ میں عامر خان سے ملا، سلمان خان سے بھی ملا۔ اس کے علاوہ زرائع کا یہ کہنا ہے کہ طارق جمیل کے وینا ملک کے ساتھ بھی تعلقات ہیں اور وینا ملک وہ واحد عورت ہے جس نے اپنے کپڑے اتار دیئے تھے۔ طارق جمیل کا انداز یہ ہے کہ جب پرویز الہی چیف منسٹر تھے یہ ان کی بہت چمچہ گیری کرتا تھا، طارق جمیل نے پرویز مشرف تک جانے کی بھی کوشش کی تھی لیکن مشرف تھوڑا اپنے آپ کو مولویوں سے دور رکھتے تھے۔ اس کے بعد طارق جمیل نے پیپلز پارٹی کے قریب جانے کی کوشش کی لیکن جب وہاں سے کچھ نہیں ملا تو یہ اس کے خلاف ہو گیا۔ ایک وقت میں طارق جمیل کے نواز شریف کے ساتھ تعلقات تھے۔ لیکن جب سنہ دو ہزار اٹھارہ کو عمران خان کو اقتدار ملا تو طارق جمیل نے راستہ تبدیل کر کے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور عمران خان کے ساتھ تعلقات بنائے۔ طارق جمیل کے دو چہرے ہیں؛ ایک چہرہ عوام کو نظر آتا ہے مگر دوسرا چہرہ کسی کو نظر نہیں آتا لیکن میں کوشش کرتا ہوں کہ طارق جمیل کا وہ چہرہ بھی عوام کو دکھا سکوں۔ طارق جمیل کے دوسرے بیٹے عاصم جمیل کی شادی خانیوال کی نیازی فیملی میں ہوئی تھی۔ شادی کے بعد اس خاتون کی زندگی کو طارق جمیل اور ان کے بیٹوں نے اجیرن بنا دیا تھا وجہ یہ تھی کہ وہ معصوم عورت طارق جمیل کو یہ کہتی تھی کہ یہ تم کیا کر رہے ہو گھر میں تم کس قسم کے کام کرتے ہو اور باہر جا کے لوگوں کو دین اور مذہب کی باتیں کرتے ہو۔ انہی باتوں کی وجہ سے طارق جمیل کے بیٹے نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ طارق جمیل کے ٹوٹل تین مدرسے ہیں؛ ایک فیصل آباد میں ہے، دوسرا رئیس آباد میں ہے اور تیسرا تھانہ تلمبے کے قریب ہے۔ طارق جمیل جو کہ مذہب کا استعمال کر کے بڑے اور جاگیردار لوگوں کی محفل میں اٹھتا بیٹھتا ہے۔ اپنی بیٹیوں کی شادیاں بھی جاگیرداروں کے بچوں سے کرائی ہیں۔ اس کے علاوہ طارق جمیل کہتا ہے کہ میں طوائفوں کی امداد کرتا ہوں اور ان کا خیال رکھتا ہوں، یہ بھی سراسر جھوٹ ہے۔ طارق جمیل چند خوب صورت طوائفوں کی امداد کرتا ہے اور وہ طوائف طارق جمیل کی دسترس میں ہوتی ہیں بلکہ اس کے گھر آتی ہیں۔ اب ان کے بڑے بیٹے یوسف جمیل نے ''ٹیب سٹی'' کے نام سے جو ہاؤسنگ سوسائٹی شروع کی ہے کچھ دن پہلے اس سوسائٹی کے بارے میں سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ طارق جمیل پر تنقید کرتے تھے کہ یہ مذہب کا استعمال کر کے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔یہ بہت بڑا کاروباری ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس کے کچھ روز بعد طارق جمیل نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا کہ ہمارا اور ہمارے بیٹے کا ٹیب سٹی سے کوئی تعلق نہیں لیکن پاکستان میں جتنی بھی ہاؤسنگ سوسائٹیز ہیں وہ ایک ادارے سے رجسٹرڈ ہیں اور اسی نے ایک بیان جاری کیا کہ ٹیب ہاؤسنگ سوسائٹی کا ڈائریکٹر یوسف جمیل ہے۔ تو یہ تھا طارق جمیل کا وہ چہرہ، یہ موصوف ٹی وی پہ بیٹھ کے کسی کے حق میں رو رو کے دعائیں مانگتا ہے، اس کے علاوہ ایک نکاح کے یہ موصوف لاکھوں روپے لیتا ہے۔