ترقی کا راز بہترین تعلیم میں پنہاں ہے 

ترقی کا راز بہترین تعلیم میں پنہاں ہے 


حیدر عباس 

دنیا کی ہر چیز فطری طور پر ارتقا کے مختلف مدارج سے گزرتی ہے ، بسا اوقات بعض چیزیں  اپنی  کہنگی کے باعث شہرت پاتی ہیں اور اس کی وجہ یا تو کسی چیز کی ابتدائی شکل کے طور پر تاریخی اہمیت حاصل کر جاتی ہے یا ناپیدگی کے خوف سے انہیں محفوظ رکھا جاتا ہے لیکن یہ عمل صرف اشیا کی حد تک قابل عمل ہے، بعینہہ اس کے مقابلے میں علم کی کوئی بھی شاخ ہو وہ وقت کیساتھ ساتھ ارتقائی منازل طے کرنے پر مجبور ہے، ان میں جمود ، حیات حیوان اور ایجادات  حجر شجر کی صفات خفتہ پر  اسرار  کے دبیز پردے  ڈالے رکھتا ہے جو  اس کی افادیت کو گھٹا دیتا ہے۔ 


اصناف علمیہ اور اس کے محرکات میں تحقیق و تجدید بھی اپنے بھیانک انجام سے بچنے کا واحد حل ہے اور ان میں سر فہرست نظام تعلیم ہے کیونکہ اسی کے بدولت تحقیق کے راستے کھلتے ہیں۔ ہمارے خطہ میں تعلیم کی کمی کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ نو آبادیاتی نظام  کے دور سے رائج طریقہ تدریس، انتخاب مظامین، طلبا کی ذہنی تربیت کے فرسودہ نطام تعلیم اور حصول علم میں بڑی رکاوٹ ہے۔ 


مغربی اقوام میں جتنی توجہ تعلیم و تدریس کو دی جاتی ہے اور اس میں نت نیے تجربے اور بہتری لانے پر جس قدر زور دیا جاتا ہے اس کی مثال نہیں ملتی اور شاید یہی وجہ ہے کہ نہ صرف وہ تعلیمی لحاظ سے بلکہ اس کی بنیاد پر دیگر شعبہ ہائے علوم میں وہ سب سے اگے ہیں۔ نئی ایجادات و اختراعات، صنعتی، سائنسی اور دیگر شعبہ ہائے حیات میں ترقی اس کا بین ثبوت ہے۔ 


ازادی سے لے کر اب تک، کوئی پون صدی کے عرصے تک نظام تعلیم عدم توجہی کا شکار رہا ہے۔ ابتدائی سالوں سے لیکر آج تک ہمیں اس میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی ہوتی نظر نہیں آئی۔ وہی پرایمری، مڈل، میٹرک اور کالج کا چکر چل رہا ہے۔۔ طریقہ تعلیم و تدریس سلیبس امتحانات کا سسٹم وغیرہ سب وہی چل رہا ہے جو پون صدی پہلے تھا۔ ویسے بھی اقوام متحدہ کی ایک وپورٹ میں ہمارے نظام تعلیم کو موجودہ وقت سے 60 سے پیچھے ظاہر کیا گیا ہے۔ ہمیں سارانظام تبدیل کرنا ہوگا۔ 


ترقی یافتہ ممالک میں طلبا کے ذہنی رحجانات کو اہمیت دی جاتی ہے اور اسی کی بنیاد پر اس کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ مخصوص تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ ہمارے یہاں اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ تقریباً ہر ایک کو ایک ہی سلیبس پڑھنا پڑتا ہے اور اسی میں امتحان لیا جاتا ہے بھلے طالب علم کا  رحجان اس طرف ہو یا نہ ہو۔ 


مڈل سے مٹرک تک کے طلبا کو سائنس اور آرٹس کے شعبوں میں بانٹ دیا جاتا ہے اور اس میں بھی فطری رحجانات کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ ستم بالاے ستم، چھوٹی جماعتوں سے لیکر مٹرک  تک بلکہ اس سے بھی اوپر تک جس جماعت میںسائنس کے مضامین فزکس کیمسٹری بیالوجی انگریزی میں پڑھائے جاتے ہیں، طلبا کو پہلے انگریزی سیکھنی پڑتی ہے اور پھر کہیں جاکر مضمون پڑھنے کی صلاحیت اس میں آجاتی ہے۔۔ اس پر مستہزاد یہ کہ انہی مضامین میں دیگر زبانوں کی اصطلاحات کو برتنے کا حکم بھی دیا جاتا ہے۔۔۔۔گویا تعلیم نہ ہو ایک گورکھ دھندہ ہو۔ 


ہمارے سکول میں بچوں کو پرائمری سے ہائی جماعتوں  تک اردو کے مضمون میں شاعری افسانے اور ڈرامے پڑھائے جاتے ہیں اور شاعری اور دیگر کلاسیکی مضامین میں غالب، میر انیس، دبیر، بابائے اردو، اور دیگر نثر نویس کو پڑھایا جاتا ہے جن کے مضامین کے اکثر الفاظ متروک ہیں یا ان میں فارسی اور ہندی کی بھرمار ہے ، جن کو لغات کے بغیر سجھنا ایک الگ مشقت ہے، اس میں اکثر مضامین اسلامیات، تاریخ، کلاسیکی ادب اور مطالعہ پاکستان کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں جو ایک طرح کی تکرار ہے ، یعنی ہم اس ایک مضمون میں دیگر مضامین پڑھاتے ہیں، شاعری تو بچوں کی رتی برابر بھی سمجھ میں نہیں آتی اور نہ وہ ان کیلئے کسی طرح مفید بھی ہے۔ ترقیافتہ ممالک کے علاوہ چند ایک ترقی پذیر ممالک میں بھی اپنی قومی زبان میں پیشہ ورانہ تعلیمات دی جا رہی ہے جس سے طلبہ کو سمجھنے اور زہن نشین کرنے میں آسانی رہتی ہے لیکن ہمارے یہاں بیشتر مضامین انگریزی میں پڑھائے جاتے ہیں جو غیر ارادی طور پر طلبہ کیلئے عدم دلچسپی کا باعث بنتے ہیں، ہمارے یہاں دینیات مخصوص مکتب فکر کے سامنے رکھ کر ترتیب دیا جاتا ہے اور دیگر مکاتب فکر کو یا تو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے یا رسمی اہمیت دی جاتی ہے جس سے معصوم اذہان بری طرح متاثر ہوتے ہیں اور وہ بھی ایک مخصوص رنگ میں ڈھل جاتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی لیول میں بچوں کو جو مضامین پْرھائے جاتے ہیں انہیں دیکھ لیں انہیں پڑھنے کیلئے انگلش لازمی ہے اگر یہی مضامین کسی انگریز بچے کو دیے جائیں تو وہ آسانی سے سمجھ جائیگا یہاں ہمارے طلبہ اسے سمجھنے میں مشکلات کا شکار رہتے ہیں، سکولوں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات میں موسمی تغیر و تبدل اور بچوں کی قوت برداشت کو اہمیت نہیں دی جا رہی ، موسم سرما میں کپکپاتی ٹھٹھرتی سردی میں بچے سکول آتے ہیں جبکہ موسم گرما میں شدت حبس اور حرارت کو یکسر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ کئی واقعات میں بچوں کے موسمی اثرات کا شکار ہونے اور برے نتائج کا ریکارڈ موجود ہے، تاہم اس کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور نہ اس کا کوئی تدارک منظر عام پر آیا ہے۔ 


اس کے علاوہ طبقاتی نظام تعلیم معاشرتی تنفر کو ہوا دیتا ہے اور اکثریت کو احساس  کمتری میں مبتلا کیا جاتا ہے ، پار اور لوئر لیول کی کتب بچوں کو گریڈ وائز ہونے کا یقین دلاتی ہیں، کسی بھی کتابوں کی دکان پر چلے جائیں تو چھٹی کلاس کی مختلف مضامین مختلف سکولوں کیلئے پڑی ہوتی ہیں، اس میں آگے چل کر بچہ لازمی امر ہے کہ جب کسی جاب کے سلسلے میں انٹرویو دینے بیٹھے گا تو اسے چھوڑ کر اعلیٰ تعلیم اور اعلیٰ ادارے سے فیض یاب ہونے والوں کو چانس دیا جاتا ہے اور رہ جاتا ہے غریب کو کسی عام سکول مین پڑھا ہوتا ہے زہنی طور پر مفلوج ہو جاتا ہے ۔ اس کے نتائج لازمی طور پر غلط نکلیں گے۔ اور اس جیسے کئی ایک مسائل ہیں جنہیں حل کر نے کیلئے کوششیں ہونی چاہئیں جس کیلئے اعلیٰ سے اعلیٰ حکام موجود ہیں انہیں انی توانائیاں درست سمت میں صرف کرنا ہونگی۔ 


ضرورت اس امر کی ہے کہ تدریس میں قومی اور مقامی زبانون کو استعمال کیا جائے ، مضامین کو ازسر نو ترتیب دے کر اسے طلبہ کیلئے دلچسپ اور آسانی سے سمجھ لینے کے قابل بنایا جائے۔ شعر و شاعری کو کالجوں میں لٹریچرکے طلبہ کو پڑھایا جائے۔ اسے صرف یونیورسٹی لیول کے طلبہ کو پڑھایاجائے جبکہ ہماری مقامی زبانوں کو بھی دلیل سے طلبہ کو پڑھایا جائے، پشتو کے مضامین درسی کتب میں شامل کئے جائیںا ور اس سے بھی بڑھ کر اسے پڑھانے کیلئے قابل اساتذہ کا انتخاب کیا جائے تو اس میں خاص مہارت رکھتے ہوں۔