صوبوں کا نگراں سیٹ اپ 'کیانئی تاریخ رقم ہوگی؟

صوبوں کا نگراں سیٹ اپ 'کیانئی تاریخ رقم ہوگی؟

سابق بیورو کریٹ اعظم خان نے خیبرپختونخوا کے نگران وزیراعلی کا حلف اٹھا لیا، وزیراعلی سیکرٹریٹ کے مطابق اعظم خان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں صاف اور شفاف انتخابات ترجیح ہے،انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے تاہم صوبائی حکومت الیکشن کمیشن کو مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ صوبے میں امن و امان کا مسئلہ ہے، کوشش کریں گے کہ امن قائم کریں،  وفاقی حکومت سے این ایف سی، این ایچ پی اورضم اضلاع سمیت صوبے کے بقایاجات کا مسئلہ بھی اٹھائیں گے اور کوشش کریں گے کہ بہتر طرزِ حکمرانی کو فروغ دیں۔ نگران وزیراعلی کے حلف اٹھاتے ہی کابینہ اراکین کے معاملے پر مشاورت کا عمل شروع کر دیا گیا اور اطلاعات ہیں کہ اعظم خان کی کابینہ چھ سے آٹھ وزرا پر مشتمل ہو گی۔ گورنر خیبرپختونخوا نے سابق وزیراعلی محمود خان اور اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی میں نگران وزیراعلی کے لیے اعظم خان کے نام پر اتفاق ہونے کے بعد ہفتے کی صبح ان کی تعیناتی کے اعلامیے پر دستخط کیے تھے۔ صوبائی حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ میٹنگ میں اکرم خان درانی نے اعظم خان کا نام تجویز کیا جسے وزیراعلی محمود خان نے قبول کرلیاادھر پنجاب میں نگران حکومت کے تشکیل پاتے ہی جہاں وزیر اعلی اپنی کیبنٹ تشکیل دیں گے وہاں بڑی سطح کے تبادلوں کے ریلے کا بھی امکان ہے صوبے میں سابق وزیر اعلی پرویز الہی کی حکومت کے دوران لگائے گئے متعدد آفیسرز کو تبدیل کردیا جائے گا، چوہدری پرویز الہی نگران سیٹ اپ سے قبل آخری لمحات تک آفیسرز کے تبادلوں کے احکامات جاری کرتے رہے۔ اب اپوزیشن ان افسران سمیت دیگر اہم پوسٹوں پر تعینات اہلکاروں کے تبادلے چاہتی ہے اور نگران سیٹ اپ سمیت الیکشن کمیشن کے سامنے بھی یہ مطالبہ رکھا جائے گا تاکہ شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جاسکے،ن لیگ کے حلقوں میں اس حوالے سے کافی تشویش پائی جاتی ہے جن کے مطابق انتخابات سے قبل اگر مخصوص افسران کے تبادلے نہ ہوئے تو وہ انتخابات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں انتظامی عہدوں پر تعینات اعلی ترین افسران پر بھی اپوزیشن کے تحفظات ہیں،سی سی پی اوکی سیٹ اس وقت سب سے زیادہ نشانہ پر ہے اور نگراں سیٹ اپ کے آتے ہی سی سی پی اوکی تبدیلی افواہیں زیر گردش ہیں۔اسی طرح لاہور سمیت پنجاب بھر میں اہم عہدوں پر تعینات آرپی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز کی بھی اکھاڑپچھاڑ کا امکان ہے کئی ایک کو تبدیل کرکے دیگر اضلاع میں ذمہ داریاں سونپ دی جائیں گی،کسی کو کلوز اور کسی کو نئی تعیناتی مل جائے گی،او ایس ڈی ہونیوالے چار ایڈ یشنل آئی جی کو بھی پنجاب میں اہم ذمہ داریاں ملنے کا امکان ہے خیبر پختونخوا میں بھی نگراں سیٹ اپ کی آمد کے بعد تبادلوں کا امکان ہے صوبہ خیبر پختونخوا کے نگراں وزیراعلی محمد اعظم خان 80 کے عشرے میں صوبے کے چیف سیکرٹری اور 2007-08 میں انجینئر شمس الملک کی نگران صوبائی کابینہ کے رکن رہے۔ وہ وفاقی سیکرٹری پٹرولیم اور سیکرٹری مذہبی امور کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے پاکستان ٹوبیکو بورڈ خیبرپختونخوا کے چیئرمین کے طور پر بھی کام کیا اور سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد کئی نیم سرکاری اداروں کے ساتھ منسلک رہے۔ اعظم خان نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کے ساتھ مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے فلڈ کمیشن کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔خاص بات یہ ہے کہ ان کا خیبرپختونخوا کے کم و بیش تمام سرکردہ سیاسی گھرانوں سے قریبی تعلق ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے عام انتخابات میں آر ٹی ایس استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور دونوں صوبوں میں عام انتخابات، الیکشن 2018 میں استعمال کردہ آر ایم ایس کے ذریعے ہی کروائے جائیں گے۔ گو کہ الیکشن کمیشن نے آر ایم ایس سسٹم کے لیے کروڑوں روپے کا ٹھیکہ دے رکھا ہی اور اسے دو ماہ تک الیکشن کمیشن کے حوالے کر دیا جائے گا تاہم نیاضمنی انتخاب میں تجربہ کیے بغیر عام انتخابات میں استعمال نہیں کیا جا سکتا اس لیے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے انتخابات پرآنے آر ایم ایس ہی پر کروائے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن نے عام انتخابات سے پہلے پرانے سسٹم کے صحیح استعمال کے لیے ایک دن کی ریہرسل ایکسرسائز بھی کرنی ہے جس کے لیے ملازمین کی ٹریننگ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے عام انتخابات کی ابتدائی تیاریوں کے لیے الیکشن کمیشن کو 18 ارب روپے کی رقم ادا کر دی ہے جس میں سے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے الیکشن کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے پہلے عام انتخابات پر 47 ارب کے اخراجات کا تخمینہ بھجوایا تھا لیکن اب دو  اسمبلیوں کے پہلے ہونے والے انتخابات کی وجہ سے کل اخراجات کا تخمینہ 57 ارب سے زائد ہے،یوں ایک محتاط اندازے کے مطابق دو مختلف اوقات میں انتخابات کرانے پر10ارب کے اضافی اخراجات ہوں گے۔ الیکشن کمیشن نے انتخابی اخراجات سے متعلق نیا تخمینہ بھی وفاقی حکومت کو جلد بھجوا دے گا۔ اہل ِ سیاست کے اختلافات، جھگڑوں، ضد اور انا کی قیمت عوام کو بھرنی پڑے گی،اِن انتخابات کے لئے 10 ارب روپے کی خطیر اضافی رقم ادا کرنا پڑے گی۔خیبرپختونخواہمیں تو سیاسی جماعتوں نے مل بیٹھ کر وزیراعلی کا انتخاب کر لیا، لیکن پنجاب جہاں اسمبلی پہلے تحلیل ہوئی تھی وہاں یہ خواب ہی رہ گیا، وہاں اتفاق رائے نہ ہونے کی بنا پر معاملہ الیکشن کمیشن کے حوالے کرنا پڑااِس پر بھی نامزد شخصیات کو داغدار کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے تاکہ سیاست کی دکان چمکتی رہے پنجاب میں جمہوری اور سیاسی قوتوں کی ناکامی پرصرف اظہارِ افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔خود تو مل بیٹھ کر فیصلہ کر نہیں سکے اور جب آئینی طریقہ کار اپناتے ہوئے معاملہ الیکشن کمیشن کے سپرد کر دیا گیا تو اِس پر بھی تسلی نہیں ہے اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے جیسے بیان جاری کئے جا رہے ہیںآخر یہ کیا رویہ ہے، کسی بھی مسئلے کا حل تلاش کیا جانا چاہئے، نہ کہ مسئلے کو مزید الجھا دینا چاہئے، یہ کوئی شغل تو نہیں جسے جاری رہنا چاہئے یہ توریاست کے انتہائی سنجیدہ معاملات ہیں۔بہر حال وزرائے اعلی کے بعد دونوں صوبوں میں نگران کابینہ کی تشکیل کا مرحلہ درپیش ہو گا، کوشش کی جانی چاہئے کہ اچھی شہرت رکھنے والے با صلاحیت اور اہل لوگوں کا انتخاب کیا جائے اور اِن کی شخصیات کو متنازعہ بنانے سے بھی گریز کیا چانا چاہئے تاکہ مزید مسائل پیدا نہ ہوں اور شفاف انتخابات کی راہ ہموار ہوسکے۔ نگران حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے اور مقررہ مدت میں اپنی آئینی فرائض کو دیانت داری کے ساتھ سر انجام دے۔گو کہ موجودہ سیاسی ماحول میں اور سیاسی جماعتوں کے رویے کو دیکھتے ہوئے امکان تو کم ہی ہے کہ وہ انتخابی نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کر لیں پھر بھی ہو سکتا ہے یہ انتخابات کوئی نئی تاریخ رقم کر جائیں، کسی نئی روایت کی داغ بیل ڈال دیں، آخر امید ہی پر یہ دنیا قائم ہے۔