ٹرانس جینڈر ایکٹ اور ہم جنس پرستی

ٹرانس جینڈر ایکٹ اور ہم جنس پرستی

خالد انور

ٹرانس جینڈر ایکٹ بل21  اگست 2018 کو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے دور میں ڈاکٹر شیریں مزاری نے اسمبلی میں پیش کیا جسے بحث و مباحثہ کے بعد قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے منظور کیا کیونکہ معزز ممبران اسمبلی میں سے زیادہ تر بل پڑھے بغیر صرف پارٹی کو دیکھ کے اس کی حمایت یا مخالفت میں ووٹ ڈالتے ہیں البتہ چند مذہبی جماعتوں نے اس بل کی ضرور مخالفت کی۔ قومی اسمبلی سے پاس ہونے کے بعد جب یہ بل سینٹ میں پیش ہوا تو جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے اس پر کڑی تنقید کی اور اسے ہم جنس پرستی پروموٹ کرنے والے بل سے تشبیہہ دی لیکن چار بڑی سیاسی جماعتوں کے تعاون سے سینیٹ نے بھی اسے منظور کیا۔ قانونی تقاضے کرنے کے بعد اسے پاکستان میں نافذ العمل قرار دیا گیا۔


ٹرانس جینڈر ایکٹ بل کو پاکستان کی بڑے سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی خواتین نے مل کر بنایا تھا۔ بل کے منظور ہونے کے بعد مذہبی جماعتوں اور لبرل طبقے میں لفظی گولہ باری شروع ہوئی۔ لبرلز اس قانون کے حمایت میں سامنے آئے جبکہ اس کے برعکس مذہبی جماعتوں نے اس قانون کی مخالفت کی اور اس کے خلاف مختلف شہروں میں مظاہرے کیے۔ مذہبی جماعتوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ الیکشن نزدیک ہونے کی وجہ سے زیادہ تر ایم این ایز اپنے حلقوں میں مصروف تھے، حکومت نے اس کا فائدہ اٹھا کر عجلت میں اس بل کو منظور کیا۔ 


ٹرانس جینڈر ایکٹ پاس ہونے کے بعد جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے اس ایکٹ کے چیپٹر نمبر دو شق نمبر تین میں ترمیم کے لئے ایک بل پیش کیا جس میں حکومت اور نادرا سے خواجہ سراؤں کے تعین کے لئے ایک میڈیکل بورڈ بنانے کی استدعا کی گئی تھی کہ ہر کوئی اپنی مرضی سے نہیں بلکہ میڈیکل چیک اپ کے بعد مرد یا عورت ٹرانس جینڈر ڈیکلیئر کر دیا جائے لیکن اس وقت کی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے جواب میں کہا ہم نے یہ بل بڑی مشکل سے منظور اور نافذ کیا ہے اگر میڈیکل بورڈ قائم کیا جائے تو ادھر پیسے چلنے کے امکانات زیادہ ہوں گے لہذا ہم اس میں کسی بھی طرح کی ترمیم نہیں کر سکتے۔ 


یہ بل خواجہ سراؤں کو قانونی تخفظ، آزادی، برابری کے حقوق اور شناخت دینے کے لئے منظور ہوا۔ اس ٹرانس جینڈر ایکٹ میں ٹرانس جینڈرز کی تین مختلف تعریفیں کی گئی ہیں: 
ایک وہ جو پیدائشی طور پر نامرد ہوں یعنی جن کے اعضا میں ابہام پایا جاتا ہے یا غیر واضح ہیں؛ دوسرا وہ شخص جس کے اعضا خاص کسی حادثے، چوٹ یا غلطی کی وجہ سے ناکارہ ہو چکے ہوں، وہ ٹرانس جینڈر کہلائے گا۔


تیسرا ہر وہ شخص جو نہ کسی حادثے یا چوٹ کی وجہ سے اپنی مردانگی گنوا چکا ہے نہ وہ پیدائشی طور پر نامرد ہے لیکن اگر وہ چاہتا ہے کہ میں عورت بنوں یا میں خود کو عورت محسوس کرتا ہوں اور مجھ میں عورتوں والی خصوصیات ہیں تو نادرا آفیسر اس بات کے پابند ہیں کہ بغیر میڈیکل رپورٹ چیک کئے اسے ٹرانس جینڈر ڈیکلیئر کر دیں۔ 


اب اصل مسئلہ اس تیسری شق میں پیدا ہوا کہ ایک اپنی مرضی سے بغیر میڈیکل چیک اپ کئے خود کو مرد یا عورت کہلوا سکتا ہے جو کہ افسوس ناک ہے اور مذہبی جماعتوں اور عام مسلمانوں کے لئے ناقابل قبول بھی کیونکہ اس ایکٹ کی وجہ سے ایک صرف اپنے فائدے کے لئے یا اپنے نفس کی خواہش پر جنس تبدیل کر سکتا ہے۔ اس بل کے پاس ہونے کے بعد اب تک بقول سینیٹر مشتاق کے چالیس ہزار سے زیادہ مرد و عورتیں اپنا جنس تبدیل کر چکے ہیں جس سے ہم جنس پرستی کی لعنت میں اضافے کا خدشہ ہے اس وجہ سے مذہبی جماعتیں اور عام مسلمان اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اگرچہ بھارت میں بھی یہی قانون نافذ ہے لیکن ادھر ٹرانس جینڈر کے تعین کے لئے اعلی کوالٹی کے لیبارٹریز موجود ہیں، ادھر سے میڈیکل چیک کرواکے فیصلہ کرتے ہیں۔ 


اس کے برعکس پاکستان جیسے مذہبی ملک میں صرف ایک مرد یا عورت کی خواہش پر فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا وہ خود کو مرد بنانا چاہتا ہے یا عورت! سب کو پتہ ہے خواہشات زیادہ تر نفس کے زیر اثر ہوتی ہیں؛ اب اگر ایک اپنے نفس کی خواہش کی وجہ سے جنسیت تبدیل کر سکتا ہے تو وہ کچھ بھی کر سکتا ہے تو کیا یہ حکومت اس کی دوسری خواہشات پوری کرنے والی سرگرمیوں کو بھی قانونی حیثیت دے گی ؟ 
اس بل میں شق نمبر تین نہ صرف اسلامی تعلیمات اور اقدار کے خلاف ہے بلکہ قدرت کے خلاف بھی ہے کیونکہ شخصی آزادی کی مد میں ہم جنس پرستی کو تو پروان نہیں چڑھا جایا سکتا۔ اگر اس ایک نکتے میں تبدیلی کی جاتی ہے تو یہ بل ٹرانس جینڈر کے حقوق کا ضامن بھی بنے گا اور مذہبی جماعتیں بھی اس کی مخالفت سے دستبردار ہو جائیں گی۔ اب سینیٹر مشتاق احمد نے اس ایکٹ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے اور کیس وفاقی شرعی عدالت میں بھی زیر سماعت ہے۔ 


کچھ دن پہلے رکن قومی اسمبلی محترمہ شاہدہ رحمانی نے مجموعہ تعزیرات پاکستان1860  ایکٹ میں ترمیم کے لئے ایک بل پیش کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ مجموعہ تعزیرات پاکستان1860  میں لفظ ''خاتون'' کے ساتھ ''یا مخنث'' لکھا جائے جسے اسمبلی نے منظور کر دیا۔ اب ہمارے فیس بکی مجاہدین اور دانشوروں نے بغیر سمجھے اس کے خلاف واویلا شروع کر دیا کہ جی پاکستان میں ہم جنس پرستی والا بل منظور ہو گیا، اب مرد مرد اور عورت عورت سے شادی کر سکتا ہے جو صرف اور صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے گھڑا گیا جھوٹ ہے لہذا اس پر کان نہ دھریں۔