کچھ حق تو ہمارا بھی ہو گا

 کچھ حق تو ہمارا بھی ہو گا

تحریر: کریم خان

غازی (تربیلہ ڈیم) تا لارنس پور قریب کچھ اٹھائیس کلومیٹر روڈ، جب تربیلہ ڈیم پہ اٹالین کمپنی نے 1979 کے قریب کام شروع کیا، تو یہ روڈ انہوں نے بنائی۔ روڈ کے علاوہ ریلوے لائن بچھائی۔ اِسی روڈ کی ایک سائیڈ پر  ایئرپورٹ بھی اسی دور میں بنا۔ سڑک اور ریلوے لائن سے ہیوی مشینری تربیلہ ڈیم پہنچائی جاتی۔ اٹالین نے اِس پراجیکٹ کو ٹی جے وی یعنی تربیلہ جوائنٹ وینچر کا نام دیا تھا۔ جب یہ پراجیکٹ مکمل ہوا تو اِسے واپڈا کے سپرد کیا گیا۔ اِس طرح بنی بنائی تمام سڑکیں، تمام کالونیاں اور ہسپتال واپڈا کی ملکیت بن گئے۔ صاف شفاف کالونیاں، ہسپتال ابتر ہونے کے ساتھ ساتھ غازی تا لارنس پور روڈ بھی بدحالی کا شکار ہونے لگا۔ اِس سے پہلے کہ یہ روڈ بڑے بڑے کھڈے بن جاتی تربیلہ ڈیم سے ایک نیا پراجیکٹ ظہور میں آیا جسے غازی بروتھا نام دیا گیا۔ اِس پراجیکٹ کو مکمل کرنے والی کمپنی نے غازی تا لارنس پور روڈ نئے سرے سے مینٹین کی۔ یوں اِس روڈ کی عزت بچ گئی۔ غازی بروتھا پراجیکٹ کے لیے تربیلہ ڈیم سے اٹک کے ایک مقام بروتھا تک ایک نہر بنائی گئی جس کے دونوں کنارے روڈ بھی بنائی گئی۔ دریائے سندھ کا رخ موڑ کے اِسے اِس نہر میں سے گزار کے بروتھا کے مقام پر جھیل کی صورت دی گئی۔ یہ نہر جہاں جہاں سے گزرتی ہے وہاں کے مکینوں کی جو تھوڑی بہت زمین تھی وہ اونے پونے بھاؤ اِن سے خریدی گئی اور یوں جو تھوڑی بہت کھیتی باڑی ہوتی تھی، کسی حد تک وہ بھی ہاتھوں سے گئی۔ غازی بروتھا پراجیکٹ بھی پورا ہوا اور پھر سے تمام بنی بنائی املاک واپڈا کے ہاتھوں میں آ گئیں۔ مینٹینس نہ ہونے کی وجہ سے غازی تا لارنس پور روڈ پھر سے بربادی کی نذر ہونے لگی۔ ایئرپورٹ پر فوج براجمان ہوئی اور نہر کے دونوں اطراف کی سڑک واپڈا آفیسر اور وی آئی پیز کے لیے مختص ہو گئی۔ عوام کے حصے میں کھڈوں بھری سڑک نصیب تو ہوئی لیکن ملکیت واپڈا نے برقرار رکھی جو نہ خود مینٹینس کرتے اور نہ ہی عوامی نمائندگان کو کرنے دیتے ہیں۔ یہاں سے ہر راہ گزر کوفت میں متبلا ہو کر گزرتا ہے۔ عوام یہاں کی چیختی چلاتی رہی، لیکن یہاں کے ایم پی اے اور ایم این اے یہی کہتے ہم کیا کریں، واپڈا ہمیں یہ روڈ بنانے نہیں دیتی کیونکہ ملکیت واپڈا کی ہے۔ اب واپڈا والوں کو کیا پڑی تھی کہ یہ روڈ بناتے کیونکہ انہیں تو بنی بنائی بہترین روڈ نہر کے کنارے فری میں میسر تھی۔ پھر یوں ہوا کہ یہاں کے عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت اِس روڈ کو مینٹین کرنے کے لیے ہاتھوں میں چندے کا بکسہ پکڑا اور ہر راہ گزر کے سامنے ہاتھوں میں بکسہ لے کر چندہ مانگنے لگے۔ یقیناً دنیا میں یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ جس راستے سے ہر موٹر سائیکل سوار تک گورنمنٹ آف پاکستان کو سالانہ ٹیکس دیتا تو تھا لیکن حکومت نے کبھی بھی مڑ کر اِس سڑک سے گزرنے والوں کی تکلیف کو نہ دیکھا اور نہ ہی سمجھا۔ یہ چندہ مہم حکومتِ پاکستان اور واپڈا حکام کے منہ پہ یہاں کے مکینوں کا ایک ایسا کرارہ تھپڑ تھا کہ جس سے حکومت اور واپڈا بلبلا اٹھے۔ یقیناً اِس چندہ مہم کو پاکستان سے باہر ممالک میں بھی میڈیا کوریج ملنے کے آثار نمودار ہونے لگے جسے واپڈا اور حکومت نے بھانپ لیا تھا۔ شرمندگی سے بچنے کے لیے حکومتی کارندے اور واپڈا والے جاگ اٹھے۔ واپڈا اپنی ملکیتی دعوے سے دستبردار ہوئی اور حکومت نے بھی فوراً سروے اور ٹینڈر کرا کے ایک ارب، بیاسی کروڑ کا ٹھیکہ خٹک الائیڈ کمپنی کے حوالے کر دیا۔ اب روڈ کچھوے کی رفتار سے بن تو رہی ہے لیکن راہ گزرنے والوں کے لیے کوئی متبادل نہیں۔ دس منٹ کی مسافت غازی انٹرچینج یا چھچھ انٹرچینج تک گرتے پڑتے ہچکولے کھاتی گاڑی ایک گھنٹے میں طے کرتی ہے۔ اور قسمت سے ہی کوئی مریض راولپنڈی زندہ پہنچتا ہے اور حاملہ عورت تو ممکن ہی نہیں کہ صحیح سلامت اِس راستے سے گزر پائے۔ اگر بدقسمتی سے گزر بھی گئی تو قسمت سے ہی بچہ مقررہ نو ماہ ماں کے بطن میں گزار پائے گا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انسانی ہمدردی کے طور پر جو سڑک نہر کے کنارے بنی ہے وہاں سے مریضوں کو، حاملہ خواتین کو گزرنے کی اجازت دی جاتی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ آج سے کچھ دن پہلے اِسی سڑک سے ایک ایمبولنس مریض کو لے کر گزر رہی تھی لیکن اسے روک دیا گیا کہ آپ اِس سڑک سے نہیں گزر سکتے۔ مریض بیچارہ ایمبولنس میں پڑا کراہتا رہا۔ گارڈ کہنے لگا کہ بجائے فوجی گاڑی اور واپڈا آفیسر کی گاڑی کے مجھے سختی سے منع کیا گیا ہے کہ اور کسی بھی قسم کی گاڑی گزر نہ پائے، گیٹ بند ہی رکھنا۔ یقیناً یہ بھی دنیا میں پہلا واقعہ ہے کہ کسی ایمبولینس کو روکا گیا۔ کیا یہ ملک صرف افواجِ پاکستان، وی آئی پی اور عہدیداروں کا ہے؟ کیا یہ ملک صرف اِنہی کے لیے معرضِ وجود میں آیا تھا؟ کیا سویلین کی کوئی اہمیت نہیں؟ ٹیکس تو سویلین کے خون کو نچوڑ کر لیا جاتا ہے۔ آج وہ کون سی چیز ہے کہ جس پر سویلین ٹیکس نہیں دے رہا ہے؟ صحتمند تو چھوڑیں، کسی نہ کسی طریقے سے ہچکولے مارتی ہوئی اِس زیرِ تعمیر سڑک سے گزر ہی جائے گا لیکن کیا سویلین مریض کا یہ حق نہیں کہ ایمبولینس یا یہاں کے کسی ہسپتال سے راولپنڈی ہسپتال کے لیے ریفر کاغذات ہاتھوں میں پکڑے اپنی یا کرائے کی گاڑی میں اِس قابض سڑک پہ گزر سکے؟ کیا یہ ملک فقط آپ کا ہے، ہمارا نہیں؟ کیا صرف حق آپ کا ہے، ہمارا نہیں؟ عوام کے لیے جو سڑک بن رہی ہے کبھی نہ کبھی تو بن ہی جائے گی لیکن کوئی روک پائے گا اِس سڑک پر واپڈا آفیسر، وی آئی پی اور اسٹیبلشمنٹ کی گاڑیوں کو؟ کیا کوئی کہہ پائے گا کہ حضور آپ کی سڑک تو نہر والی ہے، وہاں سے گزریئے ناں! کیا کوئی روک پائے گا اِن کے مریضوں کو کہ جناب آپ کا مریض اِس راستے پہ سے نہیں گزر سکتا کیونکہ یہ روڈ ہماری تکلیفوں، آہوں اور آنسوؤں کے سبب بنی ہے۔ نہیں کبھی نہیں! کیونکہ یہ ملک ہمارا تو ہے ہی نہیں، ہم تو فقط مزارعے ہیں، ہم تو بس یونہی اس میں رہ رہے ہیں۔