جاپان اور مہنگی سگریٹ کے کچھ فوائد

جاپان اور مہنگی سگریٹ کے کچھ فوائد

خالد مومند
جو چیز اسلام نے منع کی ہے ان میں اکثر گناہ اور ثواب کے علاوہ دنیاوی فائدہ بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ہم ہالی ووڈ فلم وغیرہ دیکھتے ہیں اور ان میں بھی جب شراب وغیرہ کے بوتل یا ویڈیوز آ جائیں تو اس میں بھی لکھا آ جاتا ہے کہ ''ڈینجرس فار ہیلتھ'' یعنی صحت کیلئے نقصان دہ ہے۔ اس طرح سگریٹ بھی نشہ ہے جس کے شکار افراد  پاکستان میں کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ اور جتنا اس کا استعمال زیادہ ہے اتنا سستاترین اس ملک میں مختلف اقسام میں مل رہا ہے۔ اور اگر گوگل پر پاکستانی سیاست دانوں یا حکومت چلانے والوں کی تصایر سرچ کی جائیں تو1947  سے لے کر2022  تک کے وزیروں کے ہاتھ میں سگریٹ نظر آئے گا جن میں قائداعظم محمد علی جناح، ذوالفقار علی بھٹو، جنرل پرویز مشرف، اشفاق پرویز کیانی، پرویز خٹک، شیخ رشید اور دیگر شخصیات شامل ہیں۔ 


سگریٹ کی جو ڈبیہ آسٹریلیا میں27  ڈالر، برطانیہ میں15  ڈالر اور امریکہ میں9  ڈالر کی ہے وہ پاکستان میں1  ڈالر کی بکتی ہے۔ اگر  ان پر ٹیکس لگے اور ان کی قیمت ان تمام ملکوں سے کم کر دی جائے اور8  ڈالر بھی کر دی جائے تو اس سے ایک فائدہ تو یہ ہو جائے گا کہ حکومت پاکستان کو بہت زیادہ پیسہ اکٹھا ہو گا جس سے اس کو قوم سے اپیل کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی کہ ڈیم فنڈ میں امداد کیلئے 10 روپے عطیہ کریں۔ اور نہ یہ ضرورت پڑے گی کہ فلڈ ریلف فنڈ میں10  روپے عطیہ کردیں۔ اور تیسرا فائدہ یہ ہو گا کہ سگریٹ کی قیمت اگر زیادہ ہو جائے تو وہ بچے جن کی عمر8  یا10  سال ہے اور سگریٹ پیتے ہیں ان کے پاس خریدنے کے پیسے نہیں ہوں گے جس سے بہت سے لوگوں کو اس غلیظ نشے سے نجات مل جائے گی۔ لیکن بدقسمتی سے اس ملک میں ایسے سگریٹ بھی ہیں جن پر صرف ٹیکس42  روپے ہے، وہ بھی35  روپے میں فروخت ہو رہے ہیں۔ 

ایف بی آر کی ایک رپورٹ کے مطابق35  سے40  ارب روپے سالانہ  جو تمباکو ٹیکس کی مد میں آتے ہیں وہ بھی نہیں آ رہے۔ لیکن دکانداروں پر کمپنیوں والے بیچتے ہیں اور پانچ خالی ڈبوں پر ایک ڈبہ فری! اس طرح کے اشتہارات جو غیرقانونی ہیں یہ بھی بہت سے ڈبوں پر نظر آتے ہیں جو کہ دکانوں پر ملتے ہیں۔ پینے اور بیچنے والے بھی ذمہ دار ہیں لیکن حکومتی ادارے اگر اس کے خلاف اقدامات کریں تو نہ صرف اس ملک اور لوگوں کو فائدہ پہنچے گا بلکہ ان کو ثواب بھی مل جائے گا۔ اس ملک میں ایسی بھی سیاسی شخصایات گزری ہیں جنہوں نے زندگی بھر میں ایک نشہ بھی نہیں کیا جیسا کہ باچا خان اپنی کتاب ''میری زندگی اور جدوجہد'' میں لکھتے ہیں: ''قدیر میرا بچپن کا نوکر تھا اور بہت وفادار تھا مگر چرس پیتا تھا۔ اور میرے سامنے بھی اس کی تعریف کرتا تھا۔ میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے بھی چرسی بنانا چاہتا ہے تاکہ پھر میں اس کے لئے چرس مہیا کرتا رہوں اور وہ خرچ سے بچ جائے۔ میں نے اسے منع کیا کہ میرے سامنے آئندہ چرس کی تعریف مت کرنا۔ میرے بہت سے دوست تھے کوئی حقہ پیتا تھا، کوئی نسوار کھاتا اور کوئی سگریٹ پیتا تھا مگر خدا نے مجھے ان تمام منشیات سے بچایا ہے۔ میں جب گاؤں میں رہنے لگا تو نہایت خراب سوسائٹی سے میرا واسطہ پڑا، لوگ فسادی تھے اور مجھے بھی فسادی بنانا چاہتے تیے۔ وہ لڑاکے تھے اور مجھے بھی لوگوں سے لڑوانا چاہتے تھے۔ بدکار تھے اور مجھے بھی بدکاری پر اکستاتے تھے مگر خدا کا احسان تھا کہ  جلد ہی میری سوسائٹی بدل گئی اور میرا میل ملاپ بہت اچھے لوگوں سے ہو گیا۔''

اگر سگریٹ سے لگنے والی بیماریوں پر بات کی جائے تو  ڈاکٹرز کے مطابق یہ پھیپھڑوں کو مکمل طور پر خراب کرتا ہے۔ 90 فیصد پھیپھڑوں کا کینسر سگریٹ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق دنیا میں ہر5  میں سے ایک موت سگریٹ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ایک سگریٹ  کا عادی اگر سگریٹ ترک کر دے تو پھر بھی20  سے30  فیصد ریکور ہو جاتا ہے۔ ایک انگریزی کا پروفیسر ملک عزیز میں مقیم تھا، وہ کہا کرتا تھا کہ کاش اگر میں جاپان میں پیدا ہوا ہوتا۔ وہ اس وقت یہ بات بولتا تھا جب وہ خفا ہوتا تھا اور وہ اکثر یہ جملہ دہراتا تھا۔ جب ان سے پوچھا جاتا کہ کیوں تو وہ بولتا تھا کہ جاپانی پرامن لوگ ہیں، ادھر اگر آپ راستے پر جاتے ہو تو  دوسرا پیچھے سے نعرے لگائے گا، کو ئی ہنسے گا، کوئی آپ کے پیچھے اشارے کرے گا لیکن آپ کچھ نہیں بول سکتے۔ وہ کہتا تھا کہ اگر جاپان میں کوئی آپ کو  برے منہ ''گونجی تندی'' سے آپ کی طرف منہ موڑ دے تو آپ ان پر کورٹ میں کیس کر سکتے ہیں۔  ان کی یہ بات اکثر اس وقت یاد آتی ہے جب کسی دفتر یا محفلوں میں دوسرا آ کر فوراً جیب سے سگریٹ نکال کر جلانے کیلئے ماچس کسی اور سے مانگ لیتا ہے اور ریل گاڑی کی طرح  دھواں شروع کر دیتا ہے۔ ملکِ عزیز اگر جاپان جیسا کوئی ملک بن جائے تو عدالتوں میں کیسز کے انبار لگ جائیں گے۔