اشاروں کی زبان ہمیں متحد کرتی ہے!

اشاروں کی زبان ہمیں متحد کرتی ہے!

ڈاکٹر جمشید نظر
میرے سسر عابد حسین بیگ صاحب ریٹائرمنٹ کے بعد گھر میں کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتے ہیں، ان کا زیادہ تر وقت گھر کی دیکھ بھال میں گذرتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل جب انھیں کچھ کم سنائی دینے لگا تو وہ ای این ٹی سپیشلسٹ کے پاس چیک اپ کے لئے چلے گئے، ڈاکٹر صاحب نے کان کا معائنہ کرنے کے بعد پی ٹی اے ٹیسٹ کرانے کی ہدایت کر دی۔ دراصل پی ٹی اے ٹیسٹ میں مریض کو کانوں پر ہیڈ فون لگا کر مخصوص آوازیں مختلف فریکوئنسی میں سنائی جاتی ہیں تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ مریض کو کتنی حد تک سنائی دیتا ہے۔ سسر صاحب نے پی ٹی اے ٹیسٹ کروا کر رپورٹ چیک کروائی تو ڈاکٹر صاحب نے آلہ سماعت لگانے کا مشورہ دے دیا۔ یہاں تک تو سب ٹھیک تھا لیکن جب سسر صاحب آلہ سماعت خریدنے کے لئے مختلف میڈیکل سٹورز میں گئے تو اس بات کا فیصلہ کرنے میں دشواری ہونے لگی کہ کہاں سے اور کون سا آلہ سماعت خریدا جائے کیونکہ وہاں پانچ ہزار سے لے کر پانچ لاکھ روپے تک کی قیمت کے آلہ سماعت فروخت ہو رہے تھے، کمال کی بات یہ تھی کہ ہر میڈیکل سٹور کا یہ دعویٰ تھا کہ ان کے پاس موجود آلہ سماعت اصلی اور پائیدار ہے جبکہ دوسرے نقلی اور غیرمعیاری آلہ سماعت فروخت کر رہے ہیں، آلہ سماعت کی خصوصیات بھی بڑے دلچسپ انداز میں بتائی جا رہی تھیں؛ کسی کا کہنا تھا کہ مہنگا آلہ سماعت خریدیں اس میں دوسروں کی بھدی آواز بھی سریلی سنائی دیتی ہے، کسی نے بتایا کم قیمت والا آلہ سماعت پنکھے کی آواز ایسے سنائے گا جیسے موت کے کنویں میں موٹر سائیکل چل رہی ہو، خیر ایک جگہ وہ کچھ مطمئن ہو گئے تو انھوں نے مناسب خوبیوں والا پچاس ہزار روپے قیمت تک کا آلہ سماعت خرید لیا۔ دکاندار نے آلہ سماعت دینے کے بعد مزید بتایا کہ اس آلہ سماعت کے سیلوں کا ماہانہ خرچہ تقریباً پانچ سو سے ہزار روپے تک ہو گا اگر ایک دو گھنٹے لگا کر آن کریں گے تو سیلوں کا خرچہ کم ہو گا اور اگر مسلسل آن رکھیں گے تو سیلوں کا ماہانہ خرچہ بڑھتا جائے گا، اس کے علاوہ آلہ کی صفائی کاخیال رکھتے ہوئے اس کو بھیگنے سے بچانا ہو گا نہیں تو یہ خراب ہو جائے گا اور اس کی مرمت کروانا مشکل ہو گی جس کی وجہ سے پھر سے نیا قیمتی آلہ خریدنا پڑ جائے گا۔ میڈیکل سٹور والے کی ساری بات سن کر سسر صاحب مسکرا دیئے اور بولے '' اللہ تعالیٰ نے انسان کو جن نعمتوں سے نواز رکھا ہے اس کی قدر و قیمت اسے تب پتہ چلتی ہے جب وہ نعمتیں نہ رہیں، جب کوئی قوت سماعت سے محروم ہو جاتا ہے تو وہ ایک ایسے آلہ کا محتاج بن کر رہ جاتا ہے جو ہر سیکنڈ، ہر منٹ کی فیس چارج کرتا ہے اور ایک ہمارا رب ہے جس نے انسان کو سننے، بولنے اورچلنے پھرنے کے لئے سب کچھ مفت دے رکھا ہے اور ہم پھر بھی شکر ادانہیں کرتے۔'' یہ بات سن کر دکاندار اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے لگ گیا۔اس واقعہ کا مقصد قارئین کو یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو نعمتیں عطا کر رکھی ہیں ان کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ سماعت سے محروم افراد کی عالمی فیڈریشن کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 70 ملین سے زائد افراد سننے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ ان میں سے 80 فیصد سے زیادہ ترقی پذیر ممالک میں رہائش پذیر ہیں۔ دنیا بھر میں سات ہزار سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں جبکہ سماعت سے محروم افراد بھی مجموعی طور پر300  سے زیادہ اشاروں کی مختلف زبانیں استعمال کرتے ہیں۔ اشاروں کی زبان سیکھنا اور سکھانا ایک مشکل مرحلہ ہے، ایک طرف اشاروں کی زبان  سیکھنے کے لئے پروفیشنل ٹیچرز بہت کم ہیں تو دوسری جانب سماعت سے محروم افراد کے پاس اس قدر وسائل نہیں ہیں کہ وہ باقاعدہ اشاروں کی زبان کو سیکھ سکیں، انہی وجوہات کی بناء پر سماعت سے محروم افراد اکثر معاشرے کے بنیادی حقوق سے محروم رہ جاتے ہیں جس کی واضح مثال حال ہی میں سندھ کے ضلع میرپور خاص کے ایک گاوں میں دیکھنے کو ملی ہے جہاں تقریباً ڈیڑھ سو سے زائد قوت گویائی سے محروم افراد بستے ہیں اسی وجہ سے اس گاؤں کو ''گونگوں کا گاؤں'' بھی کہا جاتا ہے۔ حالیہ سیلاب کی وجہ سے گونگوں کا گاؤں بھی زیر آب آ گیا اور ان کے گھر بہہ گئے ۔ خوش قسمتی سے جب کوئی امدادی ٹیم ان تک پہنچتی تو قوت گویائی سے محروم افراد کو اپنا دکھ درد اور نقصان بیان کرنے کے لئے کسی ایسے شخص کی مدد لینا پڑتی جو بول اور سن سکے اسی لئے سماعت سے محروم افراد کو بنیادی حقوق کی فراہمی کے لئے ہر سال23   ستمبر کو اشاروں کی زبان کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ اشاروں کی زبان سیکھنے اور سکھانے کے عمل کو فروغ دیا جا سکے۔ اس سال کا تھیم ہے ''اشاروں کی زبان ہمیں متحد کرتی ہیں۔''