سینیٹ، اپوزیشن  نے منی بجٹ کو ظالمانہ قرار دیکر مستردکر دیا

سینیٹ، اپوزیشن نے منی بجٹ کو ظالمانہ قرار دیکر مستردکر دیا

اسلام آباد (آن لائن )سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن نے منی بجٹ کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور قرار دیا ہے کہ حکومت فوری طور پر آئی ایم ایف کے منی بجٹ کو فوری واپس لے اور مہنگائی کے خاتمے کے لئے اقدامات کرے۔

 

وزیر خزانہ شوکت ترین کا بجٹ سے غریب آدمی متاثر نہیں ہوگا کا بیان جھوٹ کا پلندا اور مضحکہ خیز ہے، سونامی آئے گا نہیں بلکہ آ چکا ہے ، حکومت کی عوام کے ساتھ معاشی دہشت گردی جاری ہے، آئی ایم ایف کی ٹیکس پالیسیوں سے امیروں کو ٹیکس سے استثنی حاصل ہے۔

 

ان خیالات کا اظہار اپوزیشن سینیٹرز نے سینیٹر شوکت فیاض احمد ترین وزیر برائے خزانہ  ریونیو کی جانب سے پیش کردہ تحریک پرسفارشات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔ سینیٹر رانا مقبول نے  کہا کہ منی بجٹ عوام کے اوپر مزید مہنگائی کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور حکومت پاکستان کے اندر مافیا کی خدمت میں مشغول ہے اور منی بجٹ چھوٹ درآمدی اشیا پر ختم کی گئی جو غریب آدمی استعمال نہیں کرتا۔منی بجٹ نا صرف مہنگائی میں اضافہ کرے گا بلکہ اس کی وجہ سے ملک کی معاشی شرح نمو پر بھی برے اثرات مرتب ہوں گے جس کی وجہ خام مال پر لگنے والا سیلز ٹیکس یا ان پر دی گئی چھوٹ کا خاتمہ ہے جو ملک میں پیداواری عمل کو سست کر سکتا ہے۔

 

وزیر خزانہ کے اس دعوے کہ منی بجٹ سے غریب آدمی متاثر نہیں ہو گا،  وزیر خزانہ کے دعوے میں حقیقت نہیں اور یہ منی بجٹ مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دے گا۔اْنھوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں بیکری آئٹم ایک عام آدمی ہی استعمال کرتا ہے جس میں امیر و غریب دونوں شامل ہیں، اب اس پر سیلز ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی ہے۔ اسی طرح پیکٹوں میں دستیاب مرچوں اور مصالحوں پر بھی سیلز ٹیکس لگا دیا گیا ہے جس کا خریدار امیر کے ساتھ غریب آدمی ہی ہوتا ہے۔ خام مال پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کر دی گئی ہے یا اس پر سیلز ٹیکس کی شرح کو بڑھا دیا گیا ہے جس سے یہ خام مال مہنگا ہو گا جو پیداواری لاگت میں اضافے کا باعث بنے گا اور صنعت کار عام صارفین کو زیادہ مہنگی مصنوعات بیچے گا جس کے خریدار امیر و غریب سب ہوتے ہیں ،حکومت آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کی قسط لینے کے لیے لوگوں کی جیب سے دو ارب ڈالر نکالنے جا رہی ہے۔ اس منی بجٹ کی منظوری کے بعد لوگوں کی قوت خرید میں کمی آئے گی جو ایک غریب آدمی کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید مشکلات کا شکار بنائے گا۔سینیٹر ہدایت الرحمان نے کہا کہ منی بجٹ عوام پر بی تحاشہ ٹیکس تائید کیے جا رہے ہیں ۔

 

سینیٹر ہدایت اللہ نے مزید کہا ہے کہ ہر شعبے میں نے تحاشا ٹیکسز عائد کردیے گئے ہیں، جس کا جو کام چل رہا ہے ویسا ہی چلنے دو وزیراعظم مجھے آدھے گھنٹے کا وقت دیں، بہت اہم تجاویز دوں گا،ٹیکس زیادہ لگائیں گے تو لوگ ٹیکس نیٹ میں نہیں آئیں گے،جس کا جو کام چل رہا ہے ویسا ہی چلنے دو، انہوں نے کہا تھا سونامی آئے گا، کہتا ہوں آئے گا نہیں بلکہ آ چکا ہے ،یة مہنگائی کی صورت میں آ چکا ہے ، آپ نے کہا تھا سب کو رلاوں گا، آج سب لوگ رو رہے ہیں۔

 

سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر مشتاق احمد نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے عوام کے ساتھ معاشی دہشت گردی جاری ہے ۔ فیول ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں ساٹھ ارب روپے کا ڈاکہ ڈالا گیا ، منی بجٹ پاکستانی عوام کا معاشی قتل ہے ، تازہ دم مہنگائی کا سونامی آ چکا ہے ، مزید پاکستانی بے روزگار ، بے گھر ہونگے اور جرائم میں اضافہ ہوگا حکومت نے خود کہا کہ چھ ماہ قبل اپنے ہدف سے زیادہ ٹیکس جمع کر لیا پھر منی بجٹ لایا گیا ، پارلیمنٹ کے اختیار کو آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا گیا ہے ڈیڑھ سو روز مرہ کی اشیائ پر ٹیکس لگا کر عوام پر مہنگائی کے پہاڑ توڑ دئیے گئے ہیں تین سو پچاس ارب کے ٹیکس لگا دئیے گئے ہیں پاکستان کی عوام کو غربت کی ہتھکڑیاں پہنا دی گئی ہیں حکومت کی جانب سے عوام کے ساتھ معاشی دہشت گردی جاری ہے فیول ایڈجسٹ منٹ کی صورت میں ساٹھ ارب روپے کا ڈاکہ ڈالا گیا ، خیبر پختونخواہ پانچ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے کہ فیول ایڈجسٹمنٹ نہ ہوگی جبکہ مالاکنڈ میں بھی ایسے ہیں معاشی غنڈا گردی جاتی ہے جماعت اسلامی اس منی بجٹ کو مسترد کرتی ہے۔

 

سینیٹر رخسانہ زبیری نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کے متعلق جعلی بیانیے لانچ کئے جا رہے ہیں ، کیا آئی ایم ایف کی ٹیکس پالیسیوں سے امیروں کو ٹیکس سے استثنی حاصل ہے ؟ منی بجٹ حکومت کی نااہلی اور ناکام پالیسیوں کی وجہ سے لایا گیا ہے اور غریبوں کو مزید تباہی کی طرف لی جایا جا رہا ہے ، آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس بڑھائے جا رہے ہیں آئی ایم ایف کیا امیروں پر ٹیکس لگانے سے روکتی ہے اور غریبوں پر ٹیکس لگاتی ہے حکومت اپنی ناکامیاں چھپانے کے کئے آئی ایم ایف کے متعلق بیانیہ عام کر رہی ہے ،ہمارے بیوروکریٹک نظام کو تباہ کر دیا گیا ہے ، حکومت نئی اتھارٹیز بنا دہی ہے ٹیکس ضرور لگائے جائیں انٹرنیشل فوڈ چینز بڑی بیکریز ، فائیو سٹار ہوٹلز ، امپورٹد اشیاء پر ٹیکس لگائیں۔

 

انہوں نے کہا کہ دنیا میں نئے سال کا آغاز اچھی اور پاکستان میں بری خبروں سے ہورہا ہے، منی بجٹ کے اثرات کورونا، ڈینگی اور اسموگ سے زیادہ خطرناک ہوں گے۔ملک اس وقت نیشنل اور انٹرنیشنل مافیاز کی چراگاہ بنا ہوا ہے، حکومت نے اسٹیٹ بینک کو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے حوالے کردیا ہے۔ پاکستان کے اسٹیٹ بینک کو پلاننگ آئی ایم ایف والے دیتے ہیں، اسٹیٹ بینک کے گورنر کو واپس مصر بھیج کر اس سے استعفیٰ لے لینا چاہیے ، منی بجٹ کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ منی بجٹ عوام دشمن بجٹ ہے آئی ایم ایف حکمرانوں کے زریعے غریب قوم کو ہتھکڑیاں پہنا چکا ہے حکمران آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کی شرائط قوم کے سامنے لائیں۔