سلام اور دیگر ثقافتی آداب

سلام اور دیگر ثقافتی آداب

    مولانا خانزیب

انسان کی تہذیب نفس رہن سہن کے جن طریقوں اور تمدن کے جن مظاہر سے نمایاں ہوتی ہے انہیں ہم اصطلاح میں رسوم و و آداب کہتے ہیں۔ انسانی معاشرت کا کوئی دور ان ثقافتی خصوصیات سے خالی نہیں ہوتا۔ یہ کوئی فرض و واجب کی چیزیں نہیں ہوتیں بلکہ اس تہذیب کے طرہ امتیاز کی علامات ہوتی ہیں، سلام بھی انہی رسوم وآداب ملاقات کا حصہ ہے۔ 

 

اسلام میں ملاقات کے وقت سلام کی تاکید کی گئی ہے مگر کسی دوسری تہذیب کے مباحات، روایات وآداب پر بھی کوئی پابندی نہیں لگائی ہے بلکہ صرف اسلام کی امتیازی روایات کی بنیاد پر سلام کے حوالے سے تلقین کی گئی ہے۔ اگر کوئی اور تہذیب کے پابند یا اسلام کے ماننے والے اپنی روایات کے مطابق کوئی اور لفظ ملاقات کا استعمال کرتے ہیں تو ان پر قرآن و سنت میں کوئی شدید نکیر نہیں آئی ہے بلکہ قرآن مجید میں سورہ نساء کے اندر تو اسلام سے قبل عرب ملاقات کے وقت قدیم ادب ملاقات ’بارک اللہ فیک‘ کی تلقین آئی ہے جس کی تعبیر مفسرین و فقہا نے سلام سے کی ہے جیسے قرآن مجید میں ارشاد ہے: اذا حییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منھا او رودوھا، امام رازی تفسیر کبیر میں اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ عرب میں اسلام سے قبل سلام کا رواج نہیں تھا، اسی بنیاد پر قرآن مجید میں اسی سے مشابہ بات کہی گئی ہے جس کی تعبیر سلام سے کی گئی ہے۔ یہ آیت حیاک اللہ میں حقیقت جبکہ سلام میں مجاز ہے۔ 

 

سلام کے فضائل کے حوالے سے جو معروف حدیث بیان کی جاتی ہے علامہ ابن خلدون نے اس کی سند پر کلام کیا ہے۔ اسی طرح اکثر فضائل کی روایات سنداً ضعیف ہوتی ہے جو زیادہ تر مباحات و تلقینات کے زمرے میں آتی ہیں۔ کسی عمل کا بنیادی مقصد رضائے الہی اور حسن معاشرت ہوتا ہے جن پر عمل کرنے سے معاشرتی قرب انسانوں کے درمیان جنم لیتا ہے جو کسی بھی  سوسائٹی کیلئے روحانی تسکین اور شرف انسانی کی معراج کی دلیل ہوتی ہے۔ اسلام سے پہلے عرب میں لفظ سلام کی روایات معاشرت نہیں تھی۔ اوجز المسالک میں علامہ ابن قیم فرماتے ہیں کہ یہودیوں کا سلام کرنا، انگلیوں کے ذریعہ اشارہ کرنا ہوتا تھا، عیسائیوں کا سلام کرنا ہتھیلیوں کے ذریعہ اشارہ کرنا، اہل کسری کا سلام اپنے بادشاہ کے سامنے سجدہ اور زمین بوسی کے ذریعے ہوتا تھا، اہل فارس کے لوگ اپنے بادشاہ کے سامنے زمین پر اپنے ہاتھوں کو ڈال دیتے تھے، بادشاہوں کا سلام انعم صباحا ہوتا تھا، اہل حبشہ ملاقات کے وقت سکون و اطمینان کے ساتھ اپنے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر باندھ لیتے تھے، رومی لوگ سلام کے وقت سر کھول کر جھکا دیتے تھے، حِمیر کے لوگ سلام کے وقت پکار کر انگلیوں سے اشارہ کرتے تھے، یمامہ کا تحیہ یہ تھا کہ کندھے پر ہاتھ رکھا جاتا تھا، اگر حد درجہ اظہار محبت مقصود ہوتا تو بار بار ہاتھ کو رکھا اور اٹھایا جاتا تھا، اور اہل نوبہ کا سلام یہ تھا کہ سلام کرنے والا اپنے ہاتھ کو اپنے سر اور چہرہ پر رکھ دیتا اور اپنے منہ سے اشارہ کرتا تھا۔ 



اسلام میں ملاقات کے وقت سلام کی تاکید کی گئی ہے مگر کسی دوسری تہذیب کے مباحات، روایات وآداب پر بھی کوئی پابندی نہیں لگائی ہے بلکہ صرف اسلام کی امتیازی روایات کی بنیاد پر سلام کے حوالے سے تلقین کی گئی ہے

 



عربوں میں سلام میں الفاظ رائج تھے، وہ انعم اللہ بِک عینا (خدا آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب کرے) اور انعِم صباحا (تمہاری صبح خوش گوار ہو) کہتے تھے، اسی طرح مجوسی بھی الفاظ میں سلام کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہزار سال بزی، ہزار سال جیو! (حج اللہ البالغ: 2194) معارف الحدیث میں مولانا منظور نعمانی فرماتے ہیں کہ خلاصہ یہ کہ دنیا کی تمام متمدن قوموں اور گروہوں میں ملاقات کے وقت پیار و محبت یا جذبہ اکرام و خیر اندیشی کا اظہار کرنے اور مخاطب کو مانوس کرنے کے لئے کوئی خاص کلمہ کہنے کا رواج رہا ہے اور آج بھی ہے، ہندوستان میں ملاقات کے وقت ”نمستے“ کہنے کا رواج ہے، یورپ کے لوگوں میں صبح کی ملاقات کے وقت ”گڈ مارننگ“ اور شام کی ملاقات کے وقت ”گڈ ایوننگ“ اور رات کو گڈ نائٹ کہنے کا رواج ہے۔ 

 

پشتو کی روایات میں اپنے مخصوص آداب ملاقات بھی معاشرتی روایات ہیں۔ چونکہ یہ آداب معاشرت ہیں، کوئی عقیدہ وشرک وکفر کے مسائل نہیں ہیں اسی لئے ان کا استعمال بھی جائز ہے۔ اجرو ثواب کا تعلق صرف لفظ سلام کے ساتھ مخصوص آیا ہے۔ جب اسلام آیا تو اس نے آپس کی ملاقات کے وقت دعا اور محبت کے الفاظ دیئے، چنانچہ حدیث میں ہے کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ اسلام سے پہلے ملاقات کے وقت آپس میں انعم اللہ بِک عینا اور انعِم صباحا کہا کرتے تھے، جب ہم لوگ جاہلیت کے اندھیرے سے نکل کر اسلام کی روشنی میں آ گئے تو ہمیں اس کی ممانعت کر دی گئی یعنی اس کے بجائے ہمیں ”السلام علیکم“ کی تعلیم دی گئی۔ سلام کے آداب کے حوالے سے ممنوع مواقع کا ذکر کرتے ہوئے مولانا محمد اشرف علی تھانوی کے افادات میں ہے: فقہا نے لکھا ہے کہ جس وقت کوئی دوسری طرف مشغول ہو تو اس وقت سلام نہ کرے اور مشغولی کی تین صورتیں لکھی ہیں: یا تو معصیت میں مشغول ہو یا اطاعت (عبادت) میں یا کسی حاجتِ طبعیہ میں! تینوں صورتوں میں منع کیا ہے: اول میں اہانت کے لئے، دوسری اور تیسری صورت میں حرج کی وجہ سے۔ مستفاد کتاب الفتاوی میں ان مواقع کی زیادہ تصریح کی گئی ہے جن میں سلام کرنا ممنوع ہے، نماز، تلاوت قرآن مجید، ذکر میں مصروف شخص، جو حدیث پڑھا رہا ہو، کوئی بھی خطبہ دے رہا ہو، مسائل فقہ کا تکرار و مذاکرہ کر رہا ہو، جو مقدمہ کے فیصلہ کے لئے بیٹھا ہو، اذان دے رہا ہو، اقامت کہہ رہا ہو، درس دے رہا ہو، اجنبی جوان عورت کہ اس کو سلام کرنے میں فتنہ کا اندیشہ ہو،  شطرنج کھیلنے والے اور اس مزاج و اخلاق کے لوگ جیسے جو لوگ جوا کھیلنے میں مشغول ہوں، جو اپنی بیوی کے ساتھ بے تکلف کیفیات میں ہو۔ 


غیرمسلم کو سلام میں اختلاف ہے۔ امام شعبی کے مطابق اس کو سلام کرنا اور جواب دینا مناسب ہے کیونکہ وہ بھی دنیا کی سلامتی میں جی رہا ہے، جس کا حصہ ستر کھلا ہوا ہو، جو پیشاب پاخانہ کی حالت میں ہو، اس شخص کو جو کھانے میں مشغول ہو، ہاں! اگر کوئی شخص بھوکا ہو اور توقع ہو کہ سلام کی وجہ سے وہ شریک دسترخوان کر لے گا تو اس کو سلام کر سکتا ہے، کسی عبث شغل میں مشغول شخص، جو لوگ کسی اہم کام میں مشغول ہوں، جو لوگ فسق و فجور میں مصروف ہوں، جن کو سلام کرنا تقاضہ حیا کے خلاف ہو، جن کو سلام کرنے میں فتنہ کا اندیشہ ہو۔