سپریم کورٹ نے پی ٹی ایم رہنما علی وزیر کی درخواست ضمانت منظور کرلی

سپریم کورٹ نے پی ٹی ایم رہنما علی وزیر کی درخواست ضمانت منظور کرلی

سپریم کورٹ نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما و رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔

 

خیال رہے کہ رکن پارلیمنٹ نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست جمع کرائی تھی۔

 

جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی اور 4 لاکھ روپے زر ضمانت کے عوض ضمانت منظور کرلی۔

 

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ شریک ملزمان کی ضمانت ہوچکی جسے چیلنج نہیں کیا گیا تو علی وزیر کو جیل میں نہیں رکھا جا سکتا۔

 

خیال رہے کہ پولیس نے سندھ پولیس کی درخواست پر علی وزیر کو پشاور سے 16 دسمبر 2020 کو گرفتار کر کے کراچی منتقل کردیا تھا۔

 

انہیں 6 دسمبر 2020 کو کراچی میں نکالی گئی پی ٹی ایم کی ایک احتجاجی ریلی کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز اور تضحیک آمیز الزامات لگانے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

 

مذکورہ ریلی کے اگلے روز سہراب گوٹھ پولیس تھانے میں ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

 

زیر حراست رکن قومی اسمبلی نے فروری میں انسداد دہشت گردی عدالت سے درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

 

سپریم کورٹ میں دائر کردہ درخواست میں سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

 

ساتھ ہی درخواست میں علی وزیر کو سازش، ریاست کے خلاف اعلان جنگ، صدر اور گورنر پر حملے، مختلف گروہوں کے مابین دشمنی کے فروغ، قانون کی خلاف ورزی اور بغاوت کے لیے افواہین پھیلانے جیسے جرائم سے منسلک کرنے کے لیے آزاد ثبوت فراہم کیے جانے کا کہا۔

 

اپیل میں کہا گیا کہ علی وزیر کو حکمراں جماعت سے سیاسی دشمنی کی وجہ سے گرفتار کر کے مقدمے میں پھنسایا گیا۔