اپنے رویے پر نظرثانی کیجئے 

اپنے رویے پر نظرثانی کیجئے 

احسان اللہ وزیر
پختون قوم ایک طویل عرصے سے قربانیاں دے رہی ہے؛ بڑے بڑے لیڈران کو شہید کیا گیا جن میں اے این پی کے رہنماء سرفہرست ہیں جبکہ ان کے علاوہ ہر مکتب فکر کے لوگ شامل ہیں، نہ علما کو بخشا گیا نہ قوم پرست کو نہ ڈاکٹرز کو اور نہ وکیلوں کو، گرض معاشر کا کوئی ایسا طبقہ نہیں جو اس عفریت کا شکار نہ ہوا ہو۔

 

دشمن کا سیاسی اختلاف نہیں ہے بلکہ پختو زبان بولنے والے جو بھی ہوں نشانہ بنائے جاتے ہیں اس لیے ساری پختون قوم کو سیاست سے بالاتر ہو کر آپس میں اتفاق کرنے کی ضرورت ہے۔ بہت سے رہنماؤں پر قاتلانہ حملے بھی ہوئے جن میں مولانا فضل الرحمان، اسفندیار ولی خان اور امیر مقام بھی شامل ہیں۔ وہ قوم جس نے برصغیر پاک و ہند وسطی اشیاء پر300  سال تک حکومت کی آج کل غیر تو غیر اپنے ملک کے حاکموں کی نظر میں دہشت گرد اور انتہاپسند ہے اور مختلف بہانوں سے اس قوم کو دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے۔ 
پختونخوا کی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے یہ علاقہ ہر دور میں جارحیت و تسلط اور بڑی طاقتوں کا میدان جنگ رہا ہے۔ اور مختلف شورشوں کی وجہ سے پختونوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس علاقے کے لوگوں کو حکمرانوں نے وہ مواقع فراہم نہیں کیے جس سے وہ تعلیمی، سماجی اور اقتصادی میدانوں میں ترقی حاصل کر سکیں۔ نہ یہاں صنعتی زون قائم کیے اور نہ ان لوگوں کو تکنیکی علوم و فنون سے آگاہ کیا گیا جس سے وہ اپنی اقتصادی حالت بہتر بنا سکیں جس کے نتیجے میں یہاں بے روزگاری عروج پر ہے اور نوجوان باہر ممالک میں جوانی ضائع کرتے ہیں۔ 

 

وہ پختون قوم جس نے300  سال حکمرانی کی ہے اب ایک مذاق بنی ہوئی ہے؛ وطن عزیز کے ڈراموں اور شوز میں ایک بے وقوف کی شکل میں انہیں پیش کیا جاتا ہے۔ اور پشتو فلموں کے ذریعے ان کے کلچر کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ پنجاب اور باقی صوبے چھوڑیں پختون خوا میں پختونوں کے ساتھ جو سلوک پولیس اور انتظامیہ کرتی ہیں قابل مذمت ہے۔ اور چیک پوسٹوں پر ان کی جو تذلیل اور تلاشی ہو رہی ہے قابل افسوس ہے۔ دن میں کئی بار چیک پوسٹوں پر کہاں سے آ رہے ہو کہاں جا رہے ہو کے ورد کا جواب دینا ہو گا۔


52 سال سے جنگ کی وجہ سے پختون خوا اور قبائل نے بہت سے نقصانات اٹھائے ہیں؛ ان کے گھر، سکول، اسپتال اور بازار ویران ہو گئے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ پختون خوا اب اس جنگ سے متاثر ہونے کے بعد جنت نظیر علاقہ ہوتا لیکن معدنیات ہونے کے باوجود ایک پسماندہ علاقہ ہے جس کا تیل، گیس، پانی اور بجلی کوئی اور استعمال کرتا ہے اور بہت بے شرمی کے ساتھ پختون خوا کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہوا ہے۔ اور انہی کو دہشت گرد بھی کہا جاتا ہے۔ 


حقیقت میں پختون جتنے محب وطن ہیں کوئی اور نہیں ہو سکتا۔25  سال سے پختون قوم دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، جینے کے لیے ترس رہے ہیں۔ کئی سال پہلے ایک تحریک اٹھی جس کا نام پی ٹی ایم ہے وہ کسی کے خلاف نہیں اور نہ ہی اقتدار چاہتی ہے بلکہ قانون اور آئین کے تحت اپنے قوم کے لیے حقوق مانگتی ہے جس کے نتیجے میں اس کو غدار ٹھہرایا گیا، جس کے رہنماؤں نے شہادتیں دیں اور جیلیں کاٹیں لیکن اس کی محنت رنگ لے آئی ہے جس کے نتیجے میں ہر شہر ہر گاوں میں نوجوان روزانہ احتجاج کر رہے ہیں اور امن کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں۔ 

 

پختون خوا ایک بار پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، آئے روز ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے۔ اور دوسری طرف وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کہہ رہا ہے کہ پختون خوا میں کوئی دہشت گرد نہیں ہے۔ یہ آنکھ مچولی کا کھیل بند ہونا چاہیے اور پختون قوم کے تمام سیاسی رہنما اور قومی مشران اور نوجوانوں کو چاہیے کہ سیاسی اختلافات کو ختم کر کے اپنے علاقے کی بہتری کے لیے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر پختون خوا کو بدامنی سے بچائیں۔ ورنہ کوئی سیاست دان اور مشر جو کسی بھی پارٹی یا تنظیم سے تعلق رکھتا ہو محفوظ نہیں۔ اور ریاست کو الزامات کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے ورنہ یہ رویہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔