قبائل لویہ جرگہ کو سرکاری طور پر سپریم کونسل تسلیم کرنے کا مطالبہ 

 قبائل لویہ جرگہ کو سرکاری طور پر سپریم کونسل تسلیم کرنے کا مطالبہ 

 پشاور(سٹی رپورٹر) آل قبائلی اقوام کی نمائندہ لویہ جرگہ کو قبائل کی طرف سے سرکاری طور پر سپریم کونسل تسلیم کیا جائے ۔

 

ان خیالات کا اظہار لویہ جرگہ کے چیئرمین محمد حسین نے پشاور پریس کلب میں سردار قیصر ' ملک جلال وزیرستانی ' ملک اورنگزیب داوڑ ' ملک جاوید درہ آدم خیل ' صاحب شاہ سپاہ قوم ' الف خان ذخہ خیل ' عصمت اللہ کوکی خیل او ملک سید رضا شاہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔

 

انہوں نے کہا کہ غیر آئینی بالجبر انضمام کو مسترد کرتے ہیں قبائلی عمائدین کے بغیر کوئی اصلاحات قبول نہیں ' قبائل کا آزادانہ تشخص اور جداگانہ حیثیت کو تسلیم کر کے فوری طورر پر بحال کیا جائے اورر برابری کی بنیاد پر حقوق دیئے جائیں اور قبائلی عوام کی بطور ادنیٰ شہری کے تصور کو بھی ختم کیا جائے ۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ فاٹا کے ترقیاتی منصوبوں کو سپریم کونسل کی مشاورت سے مشروط کیا جائے اور سی پیک کے منصوبوں کیلئے سپریم کونسل کو اعتماد میں لیا جائئے اور فاٹا سیکرٹریٹ کو فاٹا کے لئے دوبارہ بحال کیا جائے اور ساتھ ہی فاٹا کے لئے ایک الگ چیف سیکرٹری مقرر کیا جائے ۔ خیبر پختونخوا حکومت اور صوبائی اداروں کی قبائلی علاقوں میں براہ راست مداخلت کو فوری طور پر روک دیا جائے اور سرحدی باڑ کے بارے میں سپریم کونسل کے خدشات کو دور کیا جائے دونوں اطراف کے پشتون قبائل کو آزادانہ نقل و حمل اور روایتی تجارت کو فوری طور پر بحال کیا جائے ۔ فاٹا میں امن و امان کے قیام اور آئی ڈی پیز کی اپنی آبائی علاقوں میں دوبارہ آبادکاری کیلئے فوری طور پر مئوثر اقدامات کئے جائیں ۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات کے حوالے سے سپریم کو اعتماد میں لیا جائے اور قبائل کی جغرافیائی حیثیت اور اہمیت کو بھی تسلیم کیا جائے قبائل کے لئے این ایف سی ایوارڈ ' قبائلی نوجوانوں کے تعلیم اور سرکاری نوکریوں کا کوٹہ بحال کیا جائے اور بیروزگار نوجوانوں کے لئے بلا سود قرضوں اور قبائلی عوام کے تباہ شدہ مکانات کی دوبارہ بحالی کے لئے فی گھرانہ کم از کم 50لاکھ روپے ادائیگی کی منظوری دی جائے اور فاٹا کی مردم شماری کو دوبارہ سے کیا جائے ۔

 

انہوں نے کہا کہ قبائل کے لئے تعلیم ' صحت ' پینے کا صاف پانی ' سڑک ' گیس و بجلی جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور فاٹا میں این سی پی گاڑیاں چلانے کی اجازت فراہم کی جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ فاٹا سے قومی اسمبلی کے لئے سیٹ کی تعداد کو بڑھایا جائے اور فاٹا کے لئے سینٹ کی سیٹوں کو دوبارہ بحال کیا جائے اور فاٹا کو ٹیکس فری زون قرار دیا جائے ۔