سوال حکومت کا نہیں ہے

سوال حکومت کا نہیں ہے

وزیراعظم عمران خان نے (شاید اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے) کہا ہے کہ خبردار کرتا ہوں کہ اگر میں حکومت سے نکل گیا تو زیادہ خطرناک ثابت ہوں گا۔ اتوار کو ''آپ کا وزیراعظم، آپ کے ساتھ'' پروگرام میں عوام کی فون کالز براہ راست سنتے اور اسی بہانے قوم سے خطاب کا اپنا شوق پورا کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کوشش ہے کہ ہر ماہ آپ کے سوالات کے جوابات دوں، اصولاً تو مجھے یہ سوال پارلیمنٹ میں لینے چاہئیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں وہ (اپوزیشن) مجھے بولنے نہیں دیتے، وہ شور مچاتے ہیں، وہاں ایک این آر او گروپ بیٹھا ہوا ہے، وہاں بات نہیں کر سکتا۔ اس موقع پر انہوں نے حسب معمول اپوزیشن پر الزام تراشیوں اور میڈیا کی سرزنش کے ساتھ ساتھ مہنگائی اور حال ہی میں شائع اپنے ایک مضمون اور اس کے نتیجے میں اپوزیشن کی جانب سے مذہب کارڈ استعمال کرنے کے الزام کا دفاع بھی ضروری سمجھا، نیز ہیلتھ کارڈ کی ''اہمیت'' پر بھی روشنی ڈالنا اور اسے ''سابق کرپٹ حکمرانوں'' سے جوڑنا نہیں بھولے اگرچہ اس کارڈ کی ''اہمیت'' خیبر پختونخوا کے تدریسی ہسپتالوں میں سینئر ڈاکٹرز اور دیگر عملے کے استعفے کی صورت میں کھل کر واضح ہو رہی ہے لیکن اپنی اس ساری گفتگو میں انہوں نے سو باتوں کی ایک بات ضرور کی ہے اور وہ یہ کہ ہم ملک میں قبول کئے بیٹھے ہیں کہ طاقتور کے لئے الگ طرح کا نظام ہے، جس دن قانون کی بالادستی قائم ہو جائے گی ملک کا نظام ٹھیک ہو جائے گا۔ اس سوال سے قطع نظر کہ اتوارِ کو وہ ''جن کے وزیر اعظم'' ہیں ''انہی کے ساتھ'' تھے یا واقعی شہریوں میں سے کسی کے بھاگ ایسے جاگ اٹھے تھے کہ وہ اپنی اپنی مرادین پا گئے تھے جنہیں وزیر اعظم سے ہم کلام ہونے کا شرف حاصل ہوا اور اپنی فریاد سنانے کا موقع ہاتھ آیا، وہ جواب مگر اس سوال کا ان کی اس ساری نشست یا گفتگو میں ضرور واضح طور پر ملا ہے جو وہ اکثر و بیشتر بلکہ خود اٹھاتے ہیں، وہ یہی ہے کہ جس شخص کے پاس سب کچھ تھا اس کو کیا ضرورت تھی جو اتنے سارے پاپڑ بیلنے اور ایسی ایسی بھاری قیمت چکانا پڑی ہے، تو حضور والا! ہمیں کہنے دیجیے کہ آپ کو وزارت عظمی کی کرسی چاہیے، آپ کو اقتدار چاہیے، آپ کو مطلق العنانیت چاہیے، آپ ''ایبسلوٹ پاور'' کے خوگر ہیں لیکن آپ شاید بھول رہے ہیں، آپ کے بے شمار دعوؤں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مغرب اور اہل مغرب کو آپ سے بہتر کوئی نہیں جانتا، تو ہم آپ کو مغرب کے اہل دانش کا یہ سبق یاد دلانا چاہتے ہیں جو بالیقین آپ کی نظر سے ضرور گزرا ہو گا کہ مطلق اختیار بندے کو عرش سے فرش پر گرا دیتا ہے۔ ''ایبسلوٹ پاور کرپٹس ایبسلوٹلی۔'' تو سوال یہ ہے کہ کیا وہ وزیر اعظم جو آج بھی ملکی آبدی کی ایک واضح اکثریت کے نزدیک کرپٹ نہیں ہے، کرپٹ ہونا چاہتا ہے؟ کیونکہ اتوار کو وزیر اعظم کا مذکورہ خطاب ہو یا اس سے قبل ان کے نام شائع وہ مضمون اور یا اس سے قبل ان کی ہر ایک تقریر میں وہ تاثر جو آج ان کی اس دھمکی کے بعد بالکل قوی ہو گیا ہے یہی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے بائیس سال کس غرض اور کس مقصد کے لئے جدوجہد کی ہے یا بہ الفاظ دیگر ان سے کروائی گئی ہے یعنی وزیر اعظم عمران خان اس ملک کے ایلیکٹڈ نہیں بلکہ سلیکٹڈ وزیر اعظم ہیں۔ اس لئے بنیادی سوال یہی ہے کہ ''اگر میں حکومت سے نکل گیا تو زیادہ خطرناک ثابت ہوں گا'' کی وارننگ یا دھمکی کسے دی جا رہی ہے؟ اپوزیشن کو؟ وہ اپوزیشن جو آج تلک ہر اہم غیر اہم، چھوٹے بڑے معاملے میں حکمرانوں کا بال تک بیکا نا کر سکی۔ اس لئے سوال حکومت میں رہنے، نکلنے یا نکالے جانے کا نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ جن خطوط پر طاقت کا یہ کھیل اس ملک میں روز اول سے کھیلا جا رہا ہے اور جس کے نتائج بھی سب پر واضح ہیں، آخر یہ کھیل کب تک یونہی کھیلا جاتا رہے گا اور اس کے نتیجے میں ملک و قوم مسائل کی دلدل میں مسلسل دھنستے رہیں گے۔ پیش منظر بالکل واضح ہے، موجودہ صورتحال میں وزیر اعظم خواہ جو بھی ہو سیاسی عدم استحکام کو دوام حاصل رہے گا۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا لیکن ہم جو بھی فیصلہ کریں وہ کسی فرد واحد یا کسی گروہ کے لئے نہیں بلکہ سب کے لئے قابل قبول ہونا چاہئے اور اس مقصد کے لئے سب سے موزوں اور بہترین راستہ جمہوریت اور جگہ پارلیمان کے علاوہ کوئی اور نہیں ہو سکتی، جہاں حکمران ٹولہ جب بھی خلوص نیت سے چاہے گا تو شور شرابے کی بجائے سنجیدہ و بامقصد اور سب سے بڑھ کر نتیجہ خیز بحث مباحثے اور مذاکرے ہوں گے، اور ایسا کوئی اندرونی یا بیرونی مسئلہ نا ہو گا جس پر ہم قابو نا پا سکیں گے کیونکہ اتفاق میں برکت ہے ایک لافانی و ازلی حقیقت ہے، نہیں تو آزمائش شرط ہے۔