قلم کتاب: ایک تاریخ ساز کتاب

قلم کتاب: ایک تاریخ ساز کتاب

تحریر: ذوالفقار علی بخاری

قلم اور کتاب کے رشتے کی بدولت انسان بہت کچھ سیکھتا اور سکھاتا ہے کہ قلم سے جو الفاظ کاغذ پر لکھے جاتے ہیں وہ جب کتاب کی صورت اختیار کرتے ہیں تو انقلاب برپا کرتے ہیں۔ یہ الفاظ دوسروں کی زندگیوں کو اندھیروں سے اُجالے کی طرف لا کر روشن کرتے رہتے ہیں کہ کتاب میں لکھا گیا مثبت مواد ہمیشہ تبدیلی کی جانب اُکساتا ہے۔ ہم آپ کو ایک ایسی کتاب کے حوالے سے آگاہ کر رہے ہیں جو کہ اس سے قبل شاید ہی اُردو ادب کی تاریخ میں پیش کی گئی ہو۔
حال ہی میں ہمارے ایک ادب اطفال لکھاری دوست محمد عثمان ذوالفقار نے ایک عمدہ آئیڈیا پیش کیا ہے کہ نامور ادیبوں اور نئے لکھاریوں/شعراء کی ہاتھ کی لکھائی یعنی ہینڈ رائٹنگ میں لکھی گئی مختصر تحریروں پر مبنی کتاب مرتب کی جائے۔ یہ تجویز جونہی معروف ادب اطفال ادیب نوشاد عادل کے پاس آئی تو انہوں نے فوراً ہی اس پر کتاب مرتب کرنے کا فیصلہ کر لیا جبکہ دوسری طرف محبوب الہی مخمور صاحب نے اس کی اشاعت کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اُٹھا لی۔ اس کتاب کا نام بہت عزیز، شان دار ادیب، مزاح نگار عارف مجید عارف نے ''قلم کتاب'' تجویز کیا ہے۔ قلم اور کتاب ہر ادیب کا اثاثہ ہے جس پر وہ ہمیشہ فخر کرتا رہتا ہے اور بڑی دل چسپ بات ہے کہ قلم سے نکلنے والی تحریر جس کتاب میں شامل ہو گی اُ س کا نام ''قلم کتاب'' ہے، یہ بھی بڑی دل چسپ مماثلت ہے۔
نوشاد عادل  کے بقول: ''جب میں کم عمر تھا تو بڑا تجسّس ہوتا تھا کہ فلاں مصنف کی ہاتھ کی لکھائی کیسی ہے؟ اشتیاق احمد کی ناولز پر ان کے اردو والے دستخط اکثر دیکھا کرتا تھا، کبھی کسی کے پاس ہمدرد نونہال کے بانی حکیم محمد سعید شہید کے دستخط اور ان کی لکھائی دیکھتا تو بڑا حیران ہوتا کہ اچھا، ایسی لکھائی ہے ان کی۔ میرا یہ تجسّس کبھی ختم نہ ہوا، اب تک یہی حال ہے۔ جب جاسوسی ڈائجسٹ اور سرگزشت ڈائجسٹ کا اسسٹنٹ ایڈیٹر ہوا تو ان تمام بڑے ادیبوں کی اصل لکھائی دیکھنے کا موقع ملا جن کی کہانیاں، ناولز پڑھا کرتا تھا۔ ان میں محی الدین نواب، ایم اے راحت، جبّار توقیر، اقلیم علیم، الیاس سیتا پوری، منظر امام، احمد اقبال، طاہر جاوید مغل، علی سفیان آفاقی، ڈاکٹر ساجد امجد، حسّام بٹ، کاشف زبیر، سید احتشام، احمد صغیر صدیقی، ایچ اقبال، محمود احمد مودی، ڈاکٹر عبدالرب بھٹی، یعقوب جمیل، ش صغیر ادیب کے علاوہ اور بھی کئی بڑے ادیب شامل ہیں۔ سب کا اپنا اپنا انداز تھا۔ اتفاق سے میرا انداز احمد اقبال سے کافی ملتا جلتا تھا۔ منظر امام کی لکھائی ٹیڑھی تھی، شاید ٹیڑھا ہو کر لکھتے تھے اور پڑھنے کے لیے بھی گردن ٹیڑھی کرنی پڑتی تھی۔ ایم اے راحت تو لگتا تھا کہ قلم ایک بار کاغذ پر رکھنے کے بعد اٹھاتے ہی نہیں تھے، قلم اٹھائے بغیر لکھتے چلے جاتے تھے۔ کاشف زبیر اور ڈاکٹر عبدالرب بھٹی کی لکھائی چکرا دینے والی تھی، دونوں بدخط تھے۔ نواب صاحب، احمد اقبال، الیاس سیتاپوری چھوٹا چھوٹا لکھتے تھے۔''
''قلم  کتاب'' میں عصرِ حاضر کے تمام نمایاں لکھنے والے ادیبوں کی ہاتھ کی لکھائی بصورت مختصر کہانی محفوظ کی جائیں گی تاکہ معلوم ہو کہ کس کی کیسی لکھائی ہے۔ یہ ایک تجسّس آمیز اور دل چسپ کتاب ہو گی، سبھی کو موقع ملے گا۔ اب ایک صفحے پر کیا لکھا جائے تو اس کے لئے طے یہ پایا کہ ایک صفحے (A4 سائز) کی دل چسپ کہانی، چاہے نئی یا پرانی، ہینڈ رائٹنگ میں منگوا کر شائع کی جائے۔ اگر کسی کے پاس اُردو ادب کے بڑے قلم کار وںکی ہینڈ رائٹنگ کسی بھی صورت میں محفوظ ہے تو وہ اسکین یا صاف فوٹو لے کر بھیج سکتا ہے جو کہ مدتوں کتاب میں محفوظ ہو کر ایک بہترین ریکارڈ کی صورت اختیار کر لے گا۔
اس آئیڈیے میں نوشاد عادل نے مزے دار اضافہ یہ کیا ہے کہ یہ بچوں کے ادب کی ایسی واحد اور پہلی حیرت انگیز کتاب ہو گی جس میں ایک لفظ بھی کمپوزنگ کا نہیں ہو گا، یعنی سرورق بھی خود بنائیں گے یا ڈیزائن دیں گے، اس پر کتاب کا نام، اس کی ٹیگ لائن اور مرتب کرنے والوں کے نام بھی ہاتھ سے لکھے جائیں گے۔ پیش لفظ، آرائ، فہرست، ایڈیٹوریل پیج، انٹرو اور یہاں تک کہ صفحہ نمبر سے لے کر آخری صفحہ تک ہینڈ رائٹنگ میں شائع ہو گا۔
اس منفرد اور تاریخ ساز قلم کتاب پروجیکٹ کے حوالے سے نوشاد عادل کہتے ہیں: ''ہر کام تاریخی نہیں ہوتا، ہزار کے بعد کوئی اچھوتا، الگ اور انوکھا کام سامنے آتا ہے۔ اب یہ ہماری خوش قسمتی کہ پہلے آپ بیتیاں، پھر بک آف دی ریکارڈز اور اس کے فوراً بعد قلم کتاب کا کام بھی ہمارے نصیب میں لکھا ہوا تھا۔ قلم کتاب پر غور کیجیے تو انکشاف ہو گا کہ یہ کسی ایک کی کاوش ہی نہیں رہی۔ کئی افراد کے نام اس کے ساتھ جڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ محمد عثمان ذوالفقار نے خیال پیش کیا اور ریکارڈ پر اپنا نام درج کروا لیا۔ میں نے اسے آگے بڑھایا اور کتاب شائع کرنے کا منصوبہ بناتے ہوئے اس آئیڈیے میں مزید اضافے کیے۔ محبوب الہٰی بھائی نے کتاب شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ میرے قابلِ احترام بھائی عارف مجید عارف نے نام تجویز کر کے بھرپور حصہ ڈالا۔ اس کے بعد فاکہہ قمر اور ذوالفقار علی بخاری (راقم السطور) کو اس کتاب کے مواد کے سلسلے میں مکمل اختیار کے ساتھ ذمے داری دے دی، کوشش ہے کہ اگر عمیر عادل کو وقت ملا تو اس سے سرورق بنواؤں گا، ورنہ خود بنانا پڑے گا، ہر کسی کا اہم اور برابر کا حصہ ہے، ہر کوئی بجا طور پر اس کتاب کو اپنی کتاب کہہ سکتا ہے۔ کتاب نہایت اہم اور منفرد ہے، جلد بازی نہیں کرنی۔ اسے یادگار بنانا ہے۔ جیسے آپ بیتیوں کی کتاب پر وقت لگایا اور جب سامنے آئی تو آج تک اس کی بازگشت فیس بک پر سنائی دے رہی ہے ورنہ کسی بھی کتاب یا رسالے کی پوسٹ چند روز بعد ختم ہی ہو جاتی ہے۔ انشاء اللہ ، قلم کتاب کی گونج بھی عرصے تک گونجتی رہے گی، کیوں کہ ایسا کچھ پہلی بار ہونے جا رہا ہے۔''
اگر آپ خواہش مند ہیں کہ آپ کی اپنی لکھائی (Hand Writing) میں لکھی گئی تحریر تاریخ ساز کتاب ''قلم کتاب'' کا حصہ بنے تو آج ہی کسی بھی موضوع پر لکھی گئی اپنی بہترین مختصر کہانی اسکین کردہ یا واضح فوٹو درج ذیل ای میل اور واٹس ایپ نمبر پر ارسال کیجئے۔ یاد رہے جس قدر یہ صاف اور واضح ہو گی اتنا ہی شاندار انداز میں یہ کتاب میں شائع ہو سکے گی۔ اگر آپ اُردو ادب کے نامور ادیبوں کی ہاتھ سے لکھی گئی کوئی تحریر محفوظ رکھتے ہیں تو اس کو بھی اس تاریخ ساز کتاب کے لئے ارسال کر سکتے ہیں۔ آپ بذریعہ ڈاک اپنی تحریروں کو ارسال کرنا چاہتے ہیں تو درج ذیل پتے پر ارسال کر سکتے ہیں۔ آپ کتاب کے حوالے سے مزید معلومات یا پیشگی بکنگ کے لئے بھی مندرجہ ذیل واٹس ایپ نمبر اور ای میل پر رابطہ کر سکتے ہیں:
محبوب الہی مخمور، الہٰی پبلی کیشنز
95۔R. سیکٹرB۔ 15، بفرزون، نارتھ کراچی۔ پاکستان
واٹس ایپ نمبر: 0333.2172372
ای میل:zulfiqarali.bukhari@gmail.com