اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیر اعظم کا خطاب

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیر اعظم کا خطاب

 

سید ساجد شاہ بخاری 

ہر سال ستمبر کے آخری ہفتے میں دنیا بھر کے سربراہان مملکت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہیں، اقوام متحدہ کے195ممالک کے سربراہان یا ان کے خصوصی نمائندے خطاب کے وقت تمام پروٹوکول کا خیال رکھتے ہوئے ایک مخصوص مگر جامع انداز سے اس اعزاز کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم ایک مخصوص دائرے کے اندر یعنی عالمی تناظر میں عالمی تنازعات،خطوں کے اندر مسائل، فارن آفیئرز کے معاملات،جنگ،پبلک ہیلتھ، انسانی حقوق، عدم مساوات،تعلیم غربت،بھوک،عالمی معیشت،جہالت اور اب موسمیاتی تبدیلی جیسے موضوعات پر بحث ہوتی ہے، کوئی بھی سربراہ 15منٹ سے زیادہ تقریر نہیں کر سکتا، دنیا سے آئے ہوئے لیڈرز اپنے آپ اور ملک کیلئے اس خطاب کو زبردست پراگراس قرار دیتے ہیں، یہ ملک کا کوئی بھی وزیر اعظم یا صدر کر سکتا ہے یہ اقوام متحدہ کا 77ویں اجلاس ہے۔ پاکستان سے ایک پورا وفد اس وقت نیو یارک میں موجود ہے اس تقریر کا متن اور بحث کے بارے میں کوئی کلیئر انڈیکیٹر کسی کے پاس نہیں تاہم یہ طے شدہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان اپنی پہلی بین الاقوامی تقریر کے ذریعے پاکستان کے اہم مسائل کی نشان دہی کرینگے اس وقت پورا ملک سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے ہر طرف سے مایوسی کی خبریں آرہی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ کس طرح دنیا کے لیڈرز سمیت اقوام متحدہ کے اکابرین اور بالخصوص سیکرٹری جنرل انٹونیو گویتریس کو وہ اعتماد میں لیتے ہیں دنیا بھر سے آئے ہوئے ممالک کو صدور وزیر اعظم اور دیگر رفقائے کار اس موقع کو کس طرح کیش کرتے ہیں۔ یہ ان کی ثخصیت،قابلیت،تعلیم اور تجربے پر منحصر ہوتا ہے اس وقت پاکستان کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ بے قابو سیلاب کا ہے اس میں دیکھا جائے گا کہ کس طرح میاں شہباز شریف بین الاقوامی سطح پر دیگر ممالک کو اعتماد میں لیتے ہیں اور کس طرح بین الاقوامی این جی اوز سے مدد لی جاتی ہے کہ وہ معاشی،تکنیکی طور پر پاکستان کی اس سخت وقت میں مدد کریں اور دنیا میں اپنا کھویا ہوا اعتماد بحال کرے۔

 

پچاس ممبرز سے آغاز کرنے والا یہ ادارہ اب195ممبرز رکھتا ہے جس میںOIC کے57ممالک اور عرب لیگ کے22ممالک مگر اس میں وقت کے ساتھ کوئی تبدیلی نہیں آئی کسی بھی مسلمان ملک کو اس میں ویٹو پاور نہیں دی گئی اس لئے اس پر شک کیا جا رہا ہے۔ 

 


سیلاب موسمیاتی تبدیلی کا حصہ ہے، دنیا کے سب سے زیادہ گلیشیر پاکستان میں موجود ہیں جس کے پگھلنے کی وجہ سے معاملات خراب ہو رہے ہیں لیکن یاد رہے کہ کاربنemission میں پاکستان کا دنیا بھر میں اخراج صرف1%ہے، پاکستان نے ہمیشہ ان فورمز پر ساتھ کھڑے ہو کر لبیک کہا ہے جس سے دنیا کی سیکیورٹی کا خطرہ ہو war and terror میں پاکستان نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر جتنی قربانی دی ہے دنیا میں شاید کوئی ملک ایسا ہو بلکہ دہشت گردی کی جنگ کا خمیازہ اب بھی پاکستان بھگت رہا ہے اس تقریر میں پاکستان کے اندر معاشی،سماجی اور سیاسی صورتحال پر بھرپور نظر ڈالی جائے گی اور پاکستان کی معاشی آزادی کیلئے کوئی ٹھوس پروگرام پیش کیا جا سکے گا اس وقت دنیا بھر کے لیڈرزاور گروپس جسے G77، اس کے علاوہ او آئی سی  FMرابطہ السلامی، عرب لیگ کے رہنمائووں کے ساتھ بھی کارنر میٹنگز ہو سکتی ہیں جس میں بالخصوص پاکستان کے وزیر خارجہ پاکستان کے بارے میں دنیا کو اعتماد میں لے سکتے ہیں اور سیاسی اکنامک مسائل میں انہیں پاکستان کیلئے استعمال کرتے ہیں۔

 

کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان بہت بڑا مسئلہ ہے جس پر چار جنگیں ہوئی ہیں عالمی تنازعات میں کشمیر اور فلسطین سے پرانا کوئی مسئلہ نہیں تاہم کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کا مسئلہ ہے اور یہ مسئلہ کشمیریوں کی مرضی اور اقوام متحدہ کی درجن بھر قراردادوں کے مطابق حل ہو نا چاہیے۔ 

 

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ وزیر اعظم پاکستان کی ایک متحرک میٹنگ کے بعد تیل و گیس کی فراہمی پر بات ہو رہی ہے یہ بات آگے جا سکتی ہے شنگھائی کانفرنس کے موقع پر دنیا سے آئے ہوئے رہنمائوں کے ساتھ میٹنگ بھی کافی نتیجہ خیر ثابت ہوئی ہے تاہم اس پر مزید ورکنگ کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے اجلاس میں ہونیوالی تقاریر میں کشمیر کے مسئلے پر وزیر اعظم پاکستان دنیا کو اعتماد میں لینگے چونکہ کشمیر کا مسئلہ 1948سے لٹکا ہوا ہے بھارت نے کشمیر کا سودا کرنے کے بعد اسے اپنی ملکیت دینے کی جو کوشش 5اگست2019کی ایک قرار داد کے ذریعے کرکے اقوام متحدہ کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کی کوشش کی ہے امید ہے وزیر اعظم پاکستان اس کا جواب دینگے کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس پر چار جنگیں ہوئی ہیں عالمی تنازعات میں کشمیر اور فلسطین سے پرانا کوئی مسئلہ نہیں تاہم کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کا مسئلہ ہے اور یہ مسئلہ کشمیریوں کی مرضی اور اقوام متحدہ کے درجن بھر قراردادوں کے مطابق حل ہو نا چاہیے، کشمیریوں کے ساتھ وعدہ کرکے اقوام متحدہ نے Plebecisteپر زور دیا تھا مگر اب بھارت کی ہٹ دھرمی اور دہشت گردی کسی کو نطر نہیں آرہی ایک لاکھ سے زیادہ انسانوں کو قتل کرنا اور خواتین کے ساتھ زیادتی کی معاملات کو ہیومن رائٹس کمیشن بھی نہیں دیکھتا جہاں سب سے زیادہ اس کی خلاف ورزی ہوئی جتنا کشمیر کا مسئلہ نمایاں  ہو گا اور دنیا بھر کے  یعنی عالمی رہنمائوں کو اعتماد میں لیا جائے گا اس سے خطے میں امن ہو گا

 

سیلاب موسمیاتی تبدیلی کا حصہ ہے، دنیا کے سب سے زیادہ گلیشیر پاکستان میں موجود ہیں جس کے پگھلنے کی وجہ سے معاملات خراب ہو رہے ہیں۔ اس وقت پورا ملک سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے ہر طرف سے مایوسی کی خبریں آرہی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کس طرح عالمی لیڈرز سمیت اقوام متحدہ کے اکابرین اور بالخصوص سیکرٹری جنرل انٹونیو گویتریس کو وزیراعظم پاکستان اعتماد میں لیتے ہیں۔

 

امید ہے وزیر اعظم اپنی تقریر میں دنیا کے ان تمام ممالک کا ذکر بھی کرینگے جو اس وقت دہشت گردی،غربت،بھوک و افلاس کی زد میں ہے عالمی رہنماوں سے اپیل کرنے کے بعد توقع ہے کہ کوویڈ 19 کے پس منظر میں امداد حاصل کی جا سکے۔ وزیر اعظم اپنی تقریر میں  ماحول سے متعلق دنیا کے بڑے ممالک کو اعتماد میں کم ازکم لینگے اور پاکستان آئندہ کیCOP-27یعنی موسمیاتی تبدیلی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر نے کی یقین دہانی کرینگے اس اجلاس میں صدر جنرل اسمبلی کے بعد امریکی صدر کا خطاب ہو گا اور اس کے بعد جغرافیائی خدوخال،ملکی معشیت اور Priority پر دوسرے ممالک کے رہنماوں کو خطاب کا موقع دیا جا ئے گا۔ یاد رہے کہ اب تک صرف چار خواتین جنرل اسمبلی کی صدور رہی ہیں مگر کوئی بھی اقوام متحدہ کی سیکرٹری جنرل خاتون کبھی نہیں رہی، اس وقت اقوام متحدہ جس کا بنیادی چارٹر صرف جنگ ختم کرکے امن قائم رکھنا ہے اس میں یوکرائن کے حوالے سے خاموشی دیکھنے میں آئی  جنگ میں اور دیگر تنازعات میں اقوام متحدہ کا کردار یعنی ثالثی ایک اہم فیکٹر ہے کچھ دانشوروں کے خیال میں اقوام متحدہ صرف پانچ طاقتور ممالک یعنی روس،چین،امریکہ،برطانیہ اور فرانس کی کٹھ پتلی ہے جس نے ہمیشہ ان کے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھا ان ممالک کے ساتھ veto powerجیسی طاقت وہ اشارے ہیں جنہوں نے اقوام متحدہ کے کردار کو مشکوک بنایا ہے، ورنہ دنیا کے  کسی بھی تنازعے میں پہنچنے والی امن کی فوج اقوام متحدہ کی ہوتی ہے۔ اس طرح اقوام متحدہ کی موومنٹ کسی بھی آفت، بیماری اور تباہی میں روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ بحر حال یہ ایک ایسا فورم ہے جو 24 اکتوبر 1945 یعنی دوسری جنگ عظیم میں آنے کے بعد جوں کا توں ہے۔ پچاس ممبرز سے آغاز کرنے والا یہ ادارہ اب195ممبرز رکھتا ہے جس میںOIC کے57ممالک اور عرب لیگ کے22ممالک مگر اس میں وقت کے ساتھ کوئی تبدیلی نہیں آئی کسی بھی مسلمان ملک کو اس میں ویٹو پاور نہیں دی گئی اس لئے اس پر شک کیا جا رہا ہے

 

کچھ دانشوروں کے خیال میں اقوام متحدہ صرف پانچ طاقتور ممالک یعنی روس،چین،امریکہ،برطانیہ اور فرانس کی کٹھ پتلی ہے جس نے ہمیشہ ان کے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھا ان ممالک کے ساتھ veto powerجیسی طاقت وہ اشارے ہیں جنہوں نے اقوام متحدہ کے کردار کو مشکوک بنایا ہے۔ 


 بحر حال ان سب کمزوریوں کے باوجود اقوام متحدہ اس وقت دنیا بھر کی ممالک کیلئے مثبت کردار ادا کر رہا ہے مگر اس میں وسعت اور دیگر ممالک کی شرکت اس ادارے کو با اعتماد،پائیدار بنا سکتا ہے، امید ہے وزیر اعظم کا خطاب پاکستان کیلئے پر امن پر جوش اور result orinetedہو اس کے لئے اب دیکھنا ہے کہ وزیر اعظم کس حد تک کامیاب ہو سکتے ہیں اور پاکستان کو اس معاشی،سیاسی،معاشرتی اور سماجی دنگل سے کیسے نکالا جا سکتا ہے۔