شہدائے پولیس! ہم آپ کے خون کے مقروض ہیں

شہدائے پولیس! ہم آپ کے خون کے مقروض ہیں

(سید ساجد شاہ بخاری )دنیا میں شاید کسی بھی پولیس فورس نے اتنی قربانیاں دی ہوں جتنی قربانیاں خیبر پختون خوا پولیس فورس نے دی ہیں، خاردار تاروں کے بیچ سے لے کر بارود سے بھرے ٹرکوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بننا، کلاشنکوف کی گولیوں کو سینے پر کھانے والی اس فورس نے کبھی دشمنوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے اور نہ کبھی بھی حالات پر سمجھوتہ کیا، ریموٹ کنٹرول بم، دستی بم اور اچانک پولیس فورس پر حملہ کرنے والے دہشت گرد پولیس کے نوجوانوں کے ملک اور قوم کیلئے جان کا نذرانہ پیش کرنے کا عمل روک نہیں سکے اور نہ ان کے حوصلوں کو پست کر سکے۔

 


خیبر پختوان خوا کی پولیس فورس دنیا کے اندر سب سے زیادہ نوجوانوں کو اپنے ملک و قوم پر جان نچھاور کرنے کی گولڈن تاریخ رکھتی ہے، ایک ایسی تاریخ جس کے اندر فخر اور جذبے سے شہادت نوش کرنے والوں کی کہانیاں درج ہیں، ہر ایک کہانی کا سکرپٹ الگ ہے مگر سب میں ملک کیلئے جان دینے کا پس منظر ایک ہے

 


ہر سال 4 اگست کو صوبہ خیبر پختون خوا میں شہدا کی یاد اور ان کی لازوال قربانیوں کی مناسبت سے پولیس ڈے منایا جاتا ہے، ہر ضلع کے اندر پولیس کے چوکس دستے شہید پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، عام طور پر اس دن شہدائے پولیس کے اہلکاروں کے خاندان والوں کو اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے اور ان سے عقیدت اور محبت کا اظہار کیا جاتا ہے، پولیس فورس کے جوان آج اس دنیا میں نہیں لیکن ان کی یاد اور ان کی طرح کے ہزاروں نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے لوگ پورے کے پی میں جمع ہیں

 


26 اگست 2007 کو عصر کے وقت ٹھیک ساڑھے چار بجے پولیس کے چار جوانوں سب انسپکٹر شیر علی خان، ہیڈ کانسٹیبل بخت افسر، کا نسٹیبل حیات خان اور کانسٹیبل نثار عالم خان نے الپوری سے دو کلومیٹر دور ماچاڑ کے مقام پر ایک ایسی گاڑی کو روکنے کی کوشش کی جو بارود سے بھری ہوئی تھی۔ ضلع شانگلہ کی چیک پوسٹ کراس کرتے ہوئے دہشت گرد نے اپنے مذموم عزائم کو ظاہر کرتے ہوئے گاڑی کو بھگا کر لے جانے اور ٹارگٹ (الپوری) تک پہنچنے کا جو پلان بنایا تھا وہ ناکام ہوا۔ یہ چار پولیس فورس کے نوجوان آج اس دنیا میں نہیں لیکن ان کی یاد اور ان کی طرح کے ہزاروں نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے لوگ پورے کے پی میں جمع ہیں۔

 

شانگلہ کے ان نوجوانوں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے آج محمد عمران ڈسٹرکٹ پولیس فورس کے سربراہ بھی موجود ہیں جن کی قیادت میں ان کی محبت سے سرشار پولیس فورس کے نوجوانوں کے حوصلے بلند ہیں اور یہی عالم شاید پوری کے پی میں ہے۔ کے پی پولیس کے کانسٹیبل سے لے کر اے آئی جی محمد اشرف، صفت غیور، خورشید علی، ملک سعد، کالام خان، خان بہادر، محمد رزاق جیسے اعلی درجے کے افسروں تک نے موت کو گلے لگا کر لوگوں کی زندگیوں کو بچا کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔

 

شہید زندہ ہے
شہید کو مرا ہوا نہیں کہا جاتا تاہم وہ ہماری آنکھ سے اوجھل ہوتے ہیں مگر قیامت کے دن اللہ کے سامنے سرخرو ہونے اور ناز و محبت کے علمبردار یہی لوگ ہوں گے۔ دنیا میں شاید کسی بھی پولیس فورس نے اتنی قربانیاں دیں ہوں جتنی قربانیاں صوبہ خیبر پختون خوا پولیس فورس نے دی ہیں۔ مسلسل آگ اور خون سے کھیلنے کا پولیس فورس کا یہ سفر اب تک رکا نہیں، تھما نہیں! خاردار تاروں کے بیچ سے لے کر بارود سے بھرے ٹرکوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بننا ان کا شیوہ رہا ہے۔ کلاشنکوف کی گولیوں کو سینے پر کھانے والی اس فورس نے کبھی دشمنوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے اور نہ کبھی بھی حالات پر سمجھوتہ کیا۔ ریموٹ کنٹرول بم، دستی بم اور اچانک پولیس فورس پر حملہ کرنے والے دہشت گرد پولیس کے نوجوانوں کے ملک اور قوم کیلئے جان کا نذرانہ پیش کرنے کا عمل روک نہیں سکے اور نہ ان کے حوصلوں کو پست کر سکے۔ 

 


خیبر پختون خوا پولیس کی قربانیوں کی داستان۔۔ بہت پرانی

اس وقت خیبر پختوان خوا کی پولیس فورس دنیا کے اندر سب سے زیادہ نوجوانوں کو اپنے ملک و قوم پر جان نچھاور کرنے کی گولڈن تاریخ رکھتی ہے۔ ایک ایسی تاریخ جس کے اندر فخر اور جذبے سے شہادت نوش کرنے والوں کی کہانیاں درج ہیں۔ ہر ایک کہانی کا سکرپٹ الگ ہے مگر سب میں ملک کیلئے جان دینے کا پس منظر ایک ہے۔ دشمنوں کے ناپاک عزائم اور سنہری خوابوں کو خاک میں ملانے والے پولیس کے چاق و چوبند دستے کل کی طرح آج بھی الرٹ ہیں اور اس لئے اس وقت بھی شاید انتشار پھیلانے والے دہشت گردوںکا پہلا ٹارگٹ پولیس فورس ہے اور آخری بھی، اس لئے آئے دن پولیس نوجوانوں کی شہادت اور ملک پر مر مٹنے کی خبریں میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ رہتی ہیں۔

 

صوبہ خیبر پختون خوا پولیس کی قربانیوں کی داستان بہت پرانی ہے تاہم 90 کی دہائی سے جب مختلف مذہبی گروپوں، شرپسندوں اور RAW کے ایجنٹوں نے معاشرے کے بگاڑ کا اور بندوق اٹھانے کا سہارا لیا تو خیبر پختون خوا پولیس کے نوجوانوں نے سینے چاک کرنے اور اس پر گولیوں کی بوچھاڑ کو قبول کیا مگر دہشت گردوں کو اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا۔1999  کے بعد سے ایک نہ ختم ہونے والی جنگ چھڑ گئی جس نے عام لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا۔ خوف اور ڈر کے مارے لوگ ہجرت اور کاروبار چھوڑنے پر تیار ہوئے مگر خیبر پختون خوا کی پولیس فورس نے تہیہ کر لیا تھا اس لئے آج تک یعنی مسلسل 23 سال جانوں کی قربانی دینے کا اعزاز اس نے برقرار رکھا۔ ان دو دہائیوں میں شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو کہ جب کسی نا کسی پولیس اہلکار نے اپنی جان کی قربانی نہ دی ہو۔ ہر پولیس اہلکار کی شہادت کا قصہ دلخراش، اذیت ناک اور تصورات کی حد تک ناقابل یقین رہا مگر کبھی بھی ان اہلکاروں کا جذبہ حریت، شوق شہادت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ 

 

پشاور۔۔ شہیدوں کا شہر
اب تک صوبہ خیبر پختون خوا میں 1726 پولیس اہلکارشہید ہو چکے ہیں جن میں ایک ڈی آئی جی، ایک اے ایس پی، تین ایس پیز، 19 ڈی ایس پیز،31  انسپکٹرز،137  سب انسپکٹرز، 130 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز، 161 ہیڈ کانسٹیبل، ایف سی کے1240  اہلکار شامل ہیں۔ سب سے زیادہ شہادتیں یعنی 420 شہادتیں پشاور میں ہوئیں؛ بنوں میں 194 شہادتیں ہوئیں، DI Khan میں 164 شہادتیں ہوئیں، سوات میں 128، کوہاٹ میں 95، چارسدہ میں 94، نوشہرہ میں 38، مردان میں 95، صوابی میں 44، ہنگو میں 74، کرک میں 26، ایبٹ آباد میں 12، ہری پور میں 10، مانسہرہ 30، بٹ گرام میں 7، تورغر میں 10، کوہستان میں 7، لکی مروت 33، شانگلہ 30، بونیر 39، دیر لوئر 48، اپر دیر 41، چترال میں 9 پولیس اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔ خیبر پختون خوا میں سب سے زیادہ پولیس اہلکاروں نے 2009 میں جام شہادت نوش کیا۔ اس سال 208 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ اسی طرح 2008 میں172 ، پھر 2009 میں 154، 2010 میں 211، اس طرح 2012 میں 106، پھر2013  میں 134، 2014 میں 11، 2017 میں 36، 2018 میں30  شہادتیں ہوئیں۔ 

 

شہادتوں کا سلسلہ اور اک وعدہ
شہادتوں کا یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ پولیس فورس نے ہر قیمت اور ہر حال میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنے اور لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے بے شک اس میں ان کی جان کیوں نہ چلی جائے۔ اس طرح زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ اس وقت پورے صوبہ خیبر پختون خوا کے اندر شہدائے پولیس کی لازوال قربانیوں کو خراج تحسین اور نذرانہ عقیدت و محبت پیش کرنے کیلئے ہر ضلع کے اندر پروگرامز تشکیل دیئے گئے ہیں۔ ان پروگرامز کے مقاصد واضح ہیں جن میں سب سے پہلا مقصد اپنے ملک اور قوم کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی یاد میں یہ باور کرانا ہے کہ ہم آپ کو اب تک نہیں بھولے ہیں اور نہ ہی کبھی بھولیں گے۔ دوسرا مقصد شہدا پولیس کے ورثا  کو دعوت دے کر ان کے خاندانوں کو یہ باور کرانا ہے کہ زندگی کے اس سفر میں آپ اکیلے نہیں اور ہم سب آپ کے ساتھ ہیں جبکہ زندہ معاشرے اپنے محسنوں کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں اس لئے شہیدوں کے یہ خاندان اور ان کے ساتھ انسانی، اخلاقی، سماجی، معاشرتی، معاشی مدد ہم سب پر فرض ہے اور ہم اس فرض سے غافل نہیں ہوں گے، یہ وعدہ ہے۔ 

 


تیسرا مقصد اپنے ملک قوم اور زمین کو کبھی بھی ہم ظالموں، جابروں، غاصبوں، شرپسندوں، تخریب کاروں کے حوالے نہیں کریں گے اور اس مقصد کیلئے ہماری جان ہر وقت حاضر ہے۔ کسی زمانے میں پولیسPOLICE  کا مطلب polite, obedient, loyal, intellegent, coomrade,، efficent لیا جاتا تھا۔ اب اس میں قربانی یعنی sacrifices for the nation and country کو شامل کیا گیا۔ آج کل کی اس حالت میں شاید پولیس اہلکاروں سے زیادہ vulunrable کوئی مخلوق اس دھرتی پر نہیں۔ اب  POLICE کا مطلب protection of life in case of emergency لیا جا تا ہے کیونکہ کسی بھی واقعے کے نتیجے میں فرنٹ لائن پر کھڑے ہو کر اس سے مقابلہ کرنے کی ہمت، جذبہ اور طاقت ان کے پاس ہے۔ وہ سیکورٹی کا مسئلہ ہو یا پھر پولیو کی ڈیوٹی، مفروروں کے ساتھ مقابلہ ہو یا دہشت گردوں سے نمٹنا ہو اس لئے ہر سال 4 اگست کو صوبہ خیبر پختون خوا میں شہدا کی یاد اور ان کی لازوال قربانیوں کی مناسبت سے پولیس ڈے منایا جاتا ہے۔ ہر ضلع کے اندر پولیس کے چوکس دستے شہید پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ عام طور پر اس دن شہدائے پولیس کے اہلکاروں کے خاندان والوں (ماں، بیوہ، بیٹی، بیٹے) کو اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے اور ان سے عقیدت اور محبت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ 

 

دھرتی ماں ہوتی ہے
حقیقت میں پچھلی دو دہائیوں میں صوبہ خیبر پختون خوا پولیس نے قربانی کی جو لازوال داستانیں پیش کی ہیں اس سے پولیس کا مورال بہت بلند ہوا ہے۔ پولیس نے ہمیشہ فرنٹ لائن پر قربانی دے کر ثابت کیا ہے کہ انہیں اپنی جان سے زیادہ اپنے ہم وطنوں کی جان، مال اور عزت عزیز ہے، ناکہ بندی سے لے کر، سنسان جنگل، بلند پہاڑوں، ریگیستانوں اور دہشت گردوں کے ساتھ جنگ اور لڑائی میں پولیس اہلکاروں کی شہادت اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یقیناً انہیں اس ملک و قوم سے کتنی محبت ہے پولیس کی فرنٹ لائن پر جنگ اور سینے پر گولی نے پولیس کے بارے میں ان تضادات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے جو کبھی تنگ نظر خیالات پر مبنی تھے۔ پولیس کی ڈیوٹی اس وقت یقیناً انتہائی خطرناک اور challangable ہے پھر بھی پولیس فورس جائن کرنا ہر پاکستانی کا فرض ہے کیونکہ دھرتی ماں ہوتی ہے اور دھرتی کا تقدس، احترام ہر کسی پر فرض ہے  اور کوئی بھی پیکج ان کی زندگی کا نعم البدل نہیں جبکہ  اپنی قوم و ملک کیلئے جان دینا ہمارے عقیدے کا حصہ ہے اور شہادت مطلوب مومن، اللہ ہم سب سے راضی ہو اور سب کا حامی و ناصر!



شانگلہ پولیس کے چار نوجوان شہید
26 اگست 2007 کو عصر کے وقت ٹھیک ساڑھے چار بجے پولیس کے چار جوانوں سب انسپکٹر شیر علی خان، ہیڈ کانسٹیبل بخت افسر، کا نسٹیبل حیات خان اور کانسٹیبل نثار عالم خان نے الپوری سے دو کلومیٹر دور ماچاڑ کے مقام پر ایک ایسی گاڑی کو روکنے کی کوشش کی جو بارود سے بھری ہوئی تھی۔ ضلع شانگلہ کی چیک پوسٹ کراس کرتے ہوئے دہشت گرد نے اپنے مذموم عزائم کو ظاہر کرتے ہوئے گاڑی کو بھگا کر لے جانے اور ٹارگٹ (الپوری) تک پہنچنے کا جو پلان بنایا تھا وہ ناکام ہوا۔ یہ چار پولیس فورس کے نوجوان آج اس دنیا میں نہیں لیکن ان کی یاد اور ان کی طرح کے ہزاروں نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے لوگ پورے کے پی میں جمع ہیں۔