پشتون معاشرہ، زبان و ادب

 پشتون معاشرہ، زبان و ادب


قیصر آفریدی
 سوویت یونین کے خاتمے  کے بعد ِ عالم سطحپر ہمہ جہت نوعیت کی تبدیلیاں نظر آگئیں تھیں بظاہر ایسا لگ رہاتھا کہ ان تبدیلیوں میں بنیادی معاشی اور بالائی ڈھانچے کی ہر دو تبدیلیاں شامل ہیں اور یہی حقیقت بھی ہے لیکن جہاں تک بنیادی اور بالائی ڈھانچے کے درمیان توازن دیکھنے کا تعلق ہے تو بنیادی ڈھانچے کی تبدیلی کی بات محض وہاں تک درست ہے جہاں وسطی ایشیائی ریاستیں روس کے چنگل سے آزاد ہوئیں، باقی دنیا ویسی کی ویسی رہی  البتہ ان ریاستوں کے آزاد ہونے سے بالائی ڈھانچے میں تجارتی لحاظ سے جو دوڑ اور گھماگھمی شروع ہوگئی تو ان تبدیلیوں سے پوری دنیا میں ایک تیزتر حرکت دیکھنے میں آئی اسی تیزتر عالمی حرکت کے دوران عالمی سطح پر گلوبل ویلیج کا تصور بھی ابھرا اور سمجھا جانے لگا کہ احاطہ عالم میں اب کوئی کسی کے لئے غیر یا اجنبی نہیں رہا گویا اجنبیت اور غیریت کی سوچ کا جواز وہاں تک تھا جہاں تک سوویت یونین سرمایہ دار طاقتوں کے سامنے  ایک مذاحم قوت کے طور پر کھڑا تھا  جس سے ایک نتیجہ یہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ گلوبل ویلیج کا تصور گویا ایک متبادل تصور تھا اور اسکا مقصد یہ تھا کہ اشتراکیت کی فیلوسفی سے مانوس دنیا کو ایک نئی اور متبادل آئیڈیل دنیا دکھائی جائے کہا جانا چاہئے کہ جب پوری دنیا گلوبل ویلیج کے تصور کو سچ جان کر پوری معصومیت سے قبول کرنے لگی تھی تو پشتون معاشرہ، پشتو زبان اور پشتو ادب باقی دنیا سے الگ تھلگ تو نہیں تھے، جبکہ قابلِ تذکرہ ایک صورت یہ بھی تھی کہ سوویت یونین اور سرمایہ دار طاقتوں کے درمیان جو فیصلہ کن معرکہ چلا تھا وہ بھی ایک ایسے ملک یعنی افغانستان میں انجام پایا جہاں پشتون معاشرہ، پشتو زبان اور پشتو ادب بنیادی اہمیت اور حیثیت کے حامل ہیں اس پر مستزاد یہ کہ معاشرتی، لسانی اور ادبی لحاظ سے افغانستان سے جڑے پاکستانی پشتون علاقے بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے، اس لئے کہدینا چاہئے کہ پشتون معاشرہ، زبان و ادب ان ہی حالات میں گلوبل ویلیج یا عالمگیریت کے دائرے میں داخل ہوئے اور انہی حالات کے ساتھ رہ کر اکیسویں صدی میں پہنچ گئے سطورِ بالا میں محدود طور پر جو عالمی اور سیاسی تناظر دکھایا گیا اسی تناظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ ترقی پسند ادبی سوچ جو انہدامِ سوویت یونین سے پہلے پشتو ادب پر چھائی ہوئی محسوس ہوتی تھی وہ بھی دھیرے دھیرے ماند پڑھنے لگی یا پھر یوں کہنا چاہئے کہ پشتو ادب میں گلوبل نظریات کو راہ ملنے سے ترقی پسند سوچ کی یکتائی متاثر ہوئی اور پشتو ادب تنوع یا رنگا رنگی کا حامل دکھائی دینے لگا اور یوں پشتو زبان و ادب میں جدیدیت اور مابعدِ جدیدیت کے تذکرے بھی ہونے لگے یہاں ضمنی طور پر ایک دوسری حقیقت کا بھی ذکر ہونا چاہئے اور وہ حقیقت بیسویں صدی میں ترقی پسند رجحانات کے ساتھ ساتھ نیشنلزم کا چلن تھا  اس ضمن میں کہنے والی ضروری بات یہ بھی ہے کہ چونکہ ترقی پسندی ایک مکمل نظریہ کہلایا جاسکتا ہے اسکے برعکس نیشنلزم نظریہ نہیں بلکہ ایک جذبے کے مصداق ہے، سو پشتو ادب میں ترقی پسندی شعر اور تنقیدِ شعر دونوں میں پوری قوت کے ساتھ دخل انداز  ہوسکی، مگر نیشنلزم محض شاعری میں اپنا سفر طے کرتا رہا  چونکہ ترقی پسند نظرئے کی پشت پر سوویت یونین ایک مادی قوت کے طور پر کھڑا تھا اس لئے سوویت یونین کے خاتمے کے ساتھ ہی ترقی پسند نظریہ گو کہ ختم تو نہیں، مگر شدید طور پر متاثر ضرور ہوا  اس کے برعکس نیشنلزم جسے کہ ایک سماجی جذبہ و احساس سے تعبیر کر لینا چاہئے، پشتو شعروادب میں تب بھی تھا اور اب بھی زندہ اور سرگرم ہے  یوں ہمیں کہنا چاہئے کہ اکیسویں صدی میں جہاں پشتو شعروادب میں جدیدیت اور مابعدِ جدیدیت نئے راستوں سے آکر متعارف ہوئے وہاں نیشنلزم بیسویں صدی کے اپنے معمول کے راستوں سے ہوتے ہوئے اکیسویں صدی میں داخلِ سفر ہوا اور یوں اسکا تسلسل ٹوٹنے نہیں پایا اکیسویں صدی میں جھانک کر جب ہم خاص طور سے جدیدیت اور مابعدِ جدید خیالات کا تذکرہ کرتے ہیں تو ایک بات خاص طور سے ہمارے لئے لائقِ توجہ بن جاتی ہے اور وہ یہ کہ پشتو لٹریچر میں جدید اور مابعدِ جدید خیالات کو، کیا وہی جدیدیت اور مابعدِ جدیدیت کے مترادف سمجھنا چاہئے جو یورپ میں یکے بعد دیگرے عالمی جنگوں اور ان دنوں سائنسی اور صنعتی صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد کے ردعمل میں رونما ہوئی تھیں؟ یا پھر ان میں ہمارے اپنے حالات و حادثات کا بھی عمل دخل ہے؟ یعنی یہ براہ راست طور پر کسی تقلیدی روش کا نتیجہ نہیں ہیں غور کریں تو پشتو ادب میں جدیدیت اور مابعد جدیدیت کا ظہور اس نوعیت کا نہیں جس طرح اردو ادب میں مثلا جدیدیت، ترقی پسند رجحانات اور خیالات کے ردعمل کے طور پر ظھور پذیر ہوئی تھی اور یوں ہم اسے ایک لحاظ سے تقلیدی معنوں میں لے سکتے ہیں  پشتو ادب میں ہم جب جدیدیت اور مابعدِ جدیدیت پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ ہمیں اپنے ارگرد کے حالات اور سانحات سے پیدا شدہ شدید ردعمل کا نتیجہ محسوس ہوتا ہے اور یہ حالات و سانحات ہم خاص طور سے انہدامِ سوویت یونین کے بعد افغانستان میں طالبان کے ظھور، بطورِ خاص / کے واقعہ اور اسکے ردعمل میں افغانستان پر امریکہ کے حملے نیز اس پورے خطے میں طالبانائزیشن کے پھیلاو سے جڑ سکتے ہیں  کہنا چاہئے کہ طالبان کے نام سے پیدا شدہ کرائسس اس خطے میں تھوڑے سے وقفے کے بعد آز سرِ نو سر اٹھا چکا ہے اور پشتو ادب و شاعری بھی بدستور ان حالات سے نبردآزما نظر آتی ہے ایسے میں پشتو شعروادب میں ہمیں جدیدیت، مابعدِ جدیدیت اور نیشنلزم کا ایک.عجیب سا امتزاج نظر اتا ہے جو اکیسویں صدی میں اپنے حالات و سانحات سے بھرپور طور پر نمٹنے کی کوشش کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں