تحریک طالبان سے مذاکرات،  پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے:  ایمل ولی خان

تحریک طالبان سے مذاکرات، پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے: ایمل ولی خان

پشاور۔۔۔عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ تحریک طالبان سے مذاکرات میں  پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے۔ پارلیمان کو اعتماد میں لئے بغیرمذاکرات کا عمل عوام کوقابل قبول نہیں۔ اے پی ایس کا واقعہ آج تک ہم نہیں بھولے ہیں، واضح کرتے چلیں کہ اپنے بچوں کے قاتلوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔اے این پی پختون قوم کے حقوق کی ترجمان اور امن کی ضامن ہے۔اےاین پی قائدین اور کارکنان نے اپنی جانیں دیکر دہشتگردی کا مقابلہ کیا ہے۔آج بھی کہتے ہیں دہشتگرد ختم ہوجائیں گے باچا خان کے پیروکاروں کے سینے نہیں۔

 

سوریزئی پایان میں شمولیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ پختون خطہ پچھلے چالیس سال سے تباہی اور بربادی کا شکار ہے۔اب ایک ذہنی بیمار شخص پختونخوا کو تخت اسلام آباد کے لئے میدان جنگ بنارہا ہے۔ اقتدار کی ہوس میں حواس باختہ نیازی ملک توڑنے کی باتیں کررہا ہے۔حیرانی ہےملک کے تقسیم کی بات کرنے والے لاڈلے کو کچھ نہیں کہا جا رہاہے ۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ سب کس کے اشاروں پر ہورہا ہے۔  اگر ہم یہی بات کرتے تو اب تک ہمیں عمر قید ہوچکی ہوتی۔ ہمارا ایک پختون ایم این اے علی وزيرپچھلے کئی مہینوں سے جیل میں ہے، اس کو عوام نے ووٹ دیکر منتخب کیا ہے لیکن اس نے پارلیمان میں کم اور جیل میں زیادہ وقت گزارا ہے۔ علی وزیر کیلئے الگ اور عمران نیازی کیلئے الگ قانون اور ضابطے کیوں؟ہم  مطالبہ کرتے کہ عمران نیازی کے بیانات کو پارلیمان میں پیش کیا جائے۔ اعلی عدالتیں ملک کے تقسیم کی بات کرنے والےسے جواب طلبی کرے۔ہم نے کبھی تقسیم کی سیاست نہیں کی اور نہ کریں گے۔ لیکن ہم خبردار کرنے چاہتے ہیں کہ ان باتوں سے باز آجائے۔ تقسیم ہوگی تو فیصلے استعماراور نیازی نہیں مظلوم عوام کریں گے۔

 

ایمل ولی خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیازی دور حکومت کے معاہدوں سے ملک تباہی کے دہانے پرکھڑا ہے۔ملک تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کو حکومت کی تبدیلی کے وقت مشکلات کا ادراک تھا۔ سری لنکا کے موجودہ حالات ہمارے سامنے ہیں۔پاکستان کے ساتھ مالی امداد نہ ہوئی تو تین مہینوں میں خزانہ خالی ہوجائے گا۔جتنی جلد ممکن ہو حالات کو قابو میں لانا ہوگا۔ ایسی پالیسیاں اپنانی ہوگی کہ نچھلے اور درمیانے طبقے پر بوجھ کم ہو۔ صرف غریب عوام کو قربانی کا بکرا نہیں بنانا ہوگا،  اشرافیہ کو بوجھ برداشت کرکے عوام کو ریلیف دینا ہوگا۔

 

انہوں نے مزيد کہا کہ اے این پی خدائی خدمتگار تحریک کا تسلسل ہے اور ہم نے ہمیشہ پختون قوم کے حقوق کیلئے آواز اٹھائی ہے۔ باچا خان نے اس قو م کیلئے 34 جبکہ ولی خان نے 15 برس جیلوں میں گزارے ہیں۔ایک وقت ایسا بھی آیا کہ تین نسلیں باچا خان، ولی خان اور اسفندیار ولی خان ایک ساتھ جیل میں قید تھے۔ ان کا قصور صرف پختونوں کے حقوق اور عوام حکمرانی کیلئے آواز اٹھانا تھا۔جب آپ عوام کے حقوق اور حکمرانی کی باتیں کرتے ہیں تو اس ملک میں آپ غدار کہلائے جاتے ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں ہمارا شمار غداروں میں ہوتا ہے۔

 

شمولیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ ہمارے قائد اسفندیار ولی خان نے خدائی خدمتگاروں کی قربانیوں کو اٹھارہویں آئینی ترمیم کی شکل میں یقینی بنایا۔ قانون سازی ہوچکی ہے، اس کو عملی بنانے کیلئے ہر صورت اقدامات کرنے ہوں گے۔ اٹھارہویں آئينی ترمیم کو خطرات درپیش ہیں لیکن وعدہ کرتے ہیں کہ کسی صورت واپس نہیں ہونے دیں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی نااہلی کی وجہ سے پختون مایوسی کا شکار ہوچکے ہیں۔ عوام کو مایوسی سے نکال کر ان میں شعور پیدا کرنا ہوگا۔ اس موقع پر صوبائی سینئر نائب صدر خوشدل خان ایڈووکیٹ، نائب صدر ثاقب اللہ خان چمکنی، ضلع پشاور کی آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین سمیت دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔