ملک میں پارلیمنٹ،سیاست اورمعیشت غلام ہیں، مشتاق احمد 

ملک میں پارلیمنٹ،سیاست اورمعیشت غلام ہیں، مشتاق احمد 

بونیر(نمائندہ شہباز) جماعت اسلامی کے صوبائی امیر سنیٹر مشتاق احمد خان نے بونیر کا ایک روزہ دورہ کیا۔اس موقع پر انہوں نے پارٹی کے دیرینہ رہنماء سابق ضلعی کونسلر گل محمد خان طوطا سے ان کے والد کے وفات پر ان کے حجرہ میں تعزیت اور فاتحہ خوانی کی .

 

اس موقع پر جماعت اسلامی کے ضلعی امیر محمد حلیم باچا،ضلعی جنرل سیکرٹری عالم خان ،سرکل امیر لطف الرحمن،حبیب اللہ،اجمل خان، سمیت پارٹی کے قائدین موجود تھے،گل محمد خان طوطا  ان کے بھائیوں خالد خان،شیر محمود خان اور ان کے اہل خانہ کے دیگر افراد نے صوبائی امیر کا استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا.

 

مشتاق احمد خان نے مختصر خطاب میں کہا کہ موت ایک حقیقت ہے اور ہر زندہ سر کو ایک نہ ایک دن موت کا یہ ذائقہ لینا پڑیگا، اللہ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں اعلیٰ مقام اور لواحیقین کو صبر جمیل عطا فرمائیں۔

 

میڈیا سے اپنے گفتگو میں مشتاق احمد خان نے کہا کہ گزشتہ روز پارلیمنٹ کی تاریخ میں ایک یوم سیاہ تھا۔چند گھنٹوں میں 60پوائینٹ ایجنڈا اور 28بلوں کا پاس ہونا معیاری قانون سازی نہیں بلکہ قانون سازی سے مذاق اور آئی ایم ایف اور غیروں کی غلامی میں اپنا پارلیمانی روایات بلڈوز کرنا ہے،تمام بلز خطرناک تھے مگر اس میں تین بہت زیادہ جس کے اثرات واضح ہے جن میں سٹیٹ بنک کی خودمختاری،جو اس کا گورنر امریکہ میں جواب دہ ہے،جو بھی کیا جائیگاکوئی بھی اسٹیٹ بنک سے پوچھ نہیں سکے گا۔

 

حکومت پاکستان اسٹیٹ بنک کا گورنر اپنے منصب سے نہیں ہٹا سکتے ہیں۔اسٹیٹ بنک سے دراصل پاکستان ہوتھ دھو گیا۔دوسرا کلبوشن یادیو جو کہ ہندوستان کے نیوی کا کمانڈر تھا اور ایران سے تین چار مرتبہ ابلوچستان آیا اور اعتراف بھی کیا کہ میں نے بہت لوگ ٹرین کئے ہیں بہت سے دھماکے کئے ہیں۔جس میں بچے بچیاں،بوڑھے اور نمازی شہید کئے گئے،ملٹری کورٹ نے پھانسی کی سزا سنائی اور پارلیمنٹ کے 240افراد نے صرف ان کیلئے قانون سازی کی تاکہ ان کو آزادی کا حق مل جائے،جوکہ مقبوضہ کشمیر اور تحریک آزادی کیساتھ غداری ہے،سری نگر میں بدترین ظلم جاری ہے اور دوسری طرف ان کے ایجنٹ کے رہائی اور اپیل کیلئے قانون سازی کی جارہی ہے اور تیسرا ریف کے مجرمان کیلئے قانون بنانا کہ ان کو نامرد بنائیں گے اور عدالت نامردی کی سزا سنائے گی،جس کا اسلام میں کوئی ذکر نہیں اس کا استاد یوپ ہے اور یورپ سے یہ سزا سکھائی گئی،میں نے مطالبہ کیا کہ ریپ میں ملوث افراد کو سرعام چوکوں پر لٹکایا جائے،مگر حکومت مجرمان کیساتھ ہمدردی کررہے ہیں،پھانسی نہیں دی جاتی کیونکہ یورپ پریشان ہورہا ہے اس ملک میں پارلیمنٹ،سیاست ،معیشت اور سب کچھ غلام ہے،تمام پر اپنے طرف سے ترامیم لایا گیا تھا مگر بعض میں موقع مل گیا اور بعض میں نہیں دیا گیا۔اور جو مل گیا بزور بازو وضاحت کی اور وہاں پر روایات بلڈوز کئے گئے،قانون کی آڑ میں لاقانونیت کی گئی۔پارلمنٹ فلور پر ہم جوائینٹ اپوزیشن ہے اور اس کے باہر اپنے جھنڈے ،نشان اور آواز پر احتجاج کرائیں گے،حکومتی اراکین کو غلط طریقے سے لائے گئے اور عامرلیاقت نے اس کا اعتراف کیا کہ ہم آئے نہیں بلکہ لائے گئے ہیں۔انگھوٹا چھاپ نے قانون نہیں دیکھا مگر ہاں اور نہیں کیا۔جو کہ قابل افسوس ہے ،پارلیمنٹ میں پھر بھی ترامیم لائیں گے ۔