آزادی کے بعد پاکستان بزبان مطالعہ پاکستان (آخری حصہ)

آزادی کے بعد پاکستان بزبان مطالعہ پاکستان (آخری حصہ)

تحریر: مولانا خانزیب

ملک غلام محمد بنگالی سیاست دانوں اور افسروں کو حکومت کے لئے اہل نہیں سمجھتے تھے وہ طاقت اور اختیارات کو اپنی ذات میں مرتکز رکھنا چاہتے تھے اس لئے ان کی کسی بھی وزیر اعظم سے نہیں بن سکی۔ آپ کی کوشش تھی کہ آئین میں کسی طرح بھی بنگالیوں کی سیاسی بالادستی نہ قائم ہو سکے بلکہ ان کو حکومت اور ریاستی معاملات میں جونیئر پارٹنر اور ماتحت کے طور پر شریک کیا جائے اسی لئے انھوں نے خواجہ ناظم الدین جیسے شریف آدمی سے بھی نباہ کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی اور ان کو اس وقت برطرف کیا جب دو ہفتے قبل ہی انہوں نے دستور ساز اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیا تھا۔ یہ برطرفی سکندر مرزا اور  ایوب خاں کی حمایت کی وجہ سے ممکن ہوئی اور پاکستان میں پہلی دفعہ ایک باوردی شخص کو وزیر دفاع کا عہدہ دے کر کابینہ کا حصہ بنایا گیا۔ گورنر جنرل قیام پاکستان کے بعد تاج برطانیہ کے نمائندے کی حیثیت سے ملک کا اعلی ترین عہدہ تھا۔ گورنر جنرل 1947 سے 1952 تک شاہ جارج ششم اور 1952 سے 1956 تک ملکہ ایلزبتھ دوم کا نمائندہ قرار دیا جاتا تھا۔ 1956 میں آئین کی تکمیل کے ساتھ ہی گورنر جنرل کا عہدہ ختم ہو گیا۔ 1947 میں قیام پاکستان کے بعد بھارت کی طرح پاکستان میں بھی تعزیرات ہند 1935 کے قوانین کا تسلسل جاری رہا جس کے تحت آئین کی تیاری تک آئینی بادشاہت جاری رہی۔ اس آئین کے تحت شاہ برطانیہ وزیر اعظم کی مشاورت سے گورنر جنرل کا تقرر کیا کرتا تھا اور گورنر جنرل ملک میں شاہ/ملکہ کا نمائندہ ہوتا تھا۔ لیکن قیام پاکستان کے موقع پر انگریزوں کے ہندوستان کی جانب جھکاؤ اور پاکستان مسلم لیگ میں مسٹر جناح کے باعث نومولود ریاست میں گورنر جنرل کو زیادہ اختیارات حاصل رہے اور وزیر اعظم یا صدر کے جمہوری عہدے کے بجائے گورنر جنرل کا عہدہ طاقت کا سرچشمہ رہا۔ پہلے گورنر جنرل مسٹر جناح اپنی وفات11  ستمبر 1948 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ سن1954  کا وہ دن پرآشوب دن تھا جب اس زمانہ کے نئے وزیر اعظم محمد علی بوگرا امریکا کا دورہ اچانک ادھورا چھوڑ کر لندن کے راستہ کراچی واپس آئے تو ہوائی اڈہ سے انہیں پولس کے سخت پہرے میں عملی طور پر ایک قیدی کی طرح سیدھے گورنر جنرل ہاؤس لے جایا گیا جہاں گورنر جنرل ملک غلام محمد، فوج کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان اور اس زمانہ کے مشرقی پاکستان کے گورنر جنرل سکندر مرزا صلاح مشورہ کر رہے تھے۔ ہوائی اڈہ پر موجود صحافیوں نے وزیر اعظم بوگرا سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن صاف منع کر دیا گیا حتی کہ پرنسپل انفارمیشن افسر کرنل مجید ملک بھی بے بس تھے اور ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ ہوائی اڈہ سے واپسی پرجب کراچی میں بھاری تعداد میں فوج کے دستوں کو نقل و حرکت کرتے دیکھا تو ماتھا ٹھنکا۔ طرح طرح کی افواہوں کا بازار گرم تھا اور قیاس آرائیوں کا زور تھا۔ پوری رات صحافی ان جانے اہم اعلان کا انتظار کرتے رہے۔ گورنر جنرل ہاؤس میں، تین کے ٹولہ کے طویل صلاح مشورہ اور منصوبہ بندی کے بعد وزیر اعظم بوگرا کو فوجی افسروں اور پولس کی معیت میں بندر روڈ پر ریڈیو پاکستان کے اسٹوڈیو لے جایا گیا جہاں سے انہوں نے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ اور پہلی دستور ساز اسمبلی کی تحلیل کا اعلان کیا۔ یہ اعلان اس وقت ہوا جب دستور ساز اسمبلی نے آئین کے بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی رپورٹ منظور کر لی تھی اور ملک کے پہلے آئین کا مسودہ چھ روز بعد ایوان میں پیش کیا جانے والا تھا۔ یہ اکتوبر کی چوبیس تاریخ تھی۔ پاکستان کی نوزائیدہ جمہوریت پر یہ پہلا اور ایک بھرپور کاری وار تھا جو اس زمانہ میں سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعہ بننے والے گورنر جنرل ملک غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی کو توڑ کر ملک کو ان بھول بھلیوں میں دھکیل دیا جن سے وہ اب تک نہیں نکل سکا ہے۔ ملک غلام محمد انگریزی دور کی بیوروکریسی کے نیابت دار تھے اور مالی معاملات میں مہارت کی بنیاد پر پاکستان کی پہلی کابینہ میں وزیر خزانہ کی حیثیت سے شامل کیے گئے تھے۔ وہ نہ مسلم لیگ کے رہنما تھے اور نہ ان کا کوئی سیاسی پس منظر اور دائرہ اثر تھا۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم لیا قت علی خان کے قتل کے بعد ملک کی بیوروکریسی نے اقتدار پر قبضہ کرنے کا سوچا سمجھا منصوبہ بنایا تھا جس کے تحت اس وقت کے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین کو اس عہدہ سے ہٹا کر انہیں وزیر اعظم کے عہدہ پر مقرر کر دیا گیا اور ان کی جگہ ملک غلام محمد کو گورنر جنرل کے عہدہ پر فائز کر دیا گیا۔ اس کا کہیں ثبوت نہیں کہ یہ عمل جمہوری طریقہ سے ہوا تھا۔ نہ تو اس زمانہ میں حکمران مسلم لیگ کی کسی سطح پر ان تبدیلیوں پر غور کیا گیا اور نہ کابینہ میں اس مسئلہ پر بحث ہوئی۔ یہ فیصلہ اس زمانہ کے سیکرٹری جنرل چوہدری محمد علی اور ان کے قریبی ساتھیوں اور مشیروں نے کیا تھا۔ جنرل ایوب خان جمہوریت کے خلاف سازش کرنے والے تین کے ٹولے میں شامل تھے۔ بظاہر یہ فیصلہ ملک کے مشرقی حصہ کو وزارت عظمی تفویض کرنے کا فراخدلانہ فیصلہ تھا لیکن بیوروکریسی کو بخوبی علم تھا کہ چونکہ پاکستان کی حیثیت اس وقت برطانیہ کی ڈومینین کی ہے اور سن انیس سو پینتیس کا گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ پاکستان میں آئین کے طور پر نافذ تھا، اس کے تحت گورنر جنرل کو وزیر اعظم سے زیادہ اختیارات حاصل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ملک میں جمہوریت پر کاری وار کی راہ ہموار کرنے کے لیے گورنر جنرل ملک غلام محمد نے مارچ سن تریپن میں بجٹ کی منظوری کے فوراً بعد وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو اچانک برطرف کیا تو اس فیصلہ کے خلاف ملک برطانیہ سے اپیل کے جواب میں معزول وزیر اعظم کو یہی جواب ملا تھا کہ انیس سو پینتیس کے ایکٹ کے تحت گورنر جنرل کو وزیر اعظم کو برطرف کرنے کا اختیار ہے اور وہ اس فیصلہ کے سلسلہ میں کچھ نہیں کر سکتے۔ گورنر جنرل ملک غلام محمد نے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو اسمبلی کی اکثریت کے اعتماد کے باوجود ان پر کوئی الزام عائد کیے یا کوئی وجہ بتائے بغیر برطرف کر کے امریکا میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرا کو وزیر اعظم مقرر کرنے کا اقدام دراصل فوج کی مدد اور اعانت سے کیا تھا جس کے عوض فوج کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان کو وزیر دفاع مقرر کیا گیا تھا۔ پاکستان میں یہ پہلا موقع تھا جب وزیر دفاع فوجی وردی میں ملبوس کابینہ کے اجلاس میں شریک ہوا۔ یہ دراصل ملک کے اقتدار میں فوج کی شراکت اور آخرکار ملک کے اقتدار پر براہ راست فوج کے تسلط کی ابتدا تھی۔ پچاس کی دہائی میں جب امریکہ نے پاکستان سے دوستانہ مراسم کو مضبوط کرنے کے لئے پاکستان کو ریل گاڑیوں کے انجن تحفے میں دیے تو انجن وصول کرنے کی رسم میں پاکستان کے گورنر جنرل غلام محمد کا استقبال اس وقت کے پاکستانی سفیر محمد علی بوگرا نے انوکھے انداز میں کیا تھا۔ محمد علی بوگرہ پاکستان کے تیسرے وزیر اعظم تھے جنہیں(1953/55)  امریکہ کی حمایت حاصل تھی۔ وہ اپنی عادات میں نرالے تھے۔ گورنرجنرل پاکستان غلام محمد نے جب انہیں وزیرِ اعظم پاکستان نامزد کیا تو وہ اس وقت امریکا میں پاکستان کے سفیر تھے۔ محمد علی بوگرا غلام محمدکو اپنا محسن سمجھتے تھے اور ان سے بے پناہ عقیدت میں وہ دوسروں کو حیران بھی کر دیتے اور پچھاڑ بھی دیتے تھے۔ محقق نعیم احمد نے اپنی تالیف 'پاکستان کے پہلے سات وزرائے اعظم' میں محمد علی بوگرہ کا ایک ایسا واقعہ بیان کیا ہے جو ان کی ذہن کی عکاسی کرتا اور موقع پرست  لوگوں کے ایوان اقتدار تک پہنچنے کے طریقوں پر روشنی بھی ڈالتا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ امریکا نے ایک دفعہ پاکستان کو دوستی کے تحت ریلوے کے چند انجن دیے۔ ان انجنوں کے وصول کرنے کی رسم ادا کرنی تھی۔ دراصل گورنر جنرل کو یہ انجن وصول کرنے تھے لہذا گورنر جنرل صاحب باقاعدہ اپنی گاڑی میں اس مقام کی طرف روانہ ہوئے لیکن بوگرا صاحب ایک فوجی کی موٹر سائیکل کو خود چلانے لگے اور گورنر جنرل کی گاڑی کے آگے آگے پائلٹ کا کردار ادا کیا۔ جب ریلوے اسٹیشن جہاں پر انجن کھڑے تھے، وہاں پہنچے تو انجن کے اندر پہنچ گئے۔ انجن کے ڈرائیور کی ٹوپی لے کر اپنے سر پر پہن لی اور انجن چلانا شروع کر دیا۔ 1956 میں آئین کی تیاری کے بعد گورنر جنرل کا عہدہ ختم کر دیا گیا اور اس کی جگہ صدر پاکستان کے عہدہ نے لے لی اور اس وقت کے گورنر جنرل اسکندر مرزا ملک کے پہلے صدر قرار پائے۔