آزادی کے بعد پاکستان بزبان مطالعہ پاکستان

آزادی کے بعد پاکستان بزبان مطالعہ پاکستان

تحریر:مولانا خانزیب

قدرت اللہ شہاب نے پاکستان کے ابتدائی دور کے حکمرانوں کو بڑے قریب سے دیکھا۔ ملک کے تیسرے گورنر جنرل مسٹر غلام محمد کے دور میں ان کی پوسٹنگ کراچی میں بطور آفس سیکرٹری کے ہوئی، وہ غلام محمد کے بارے میں لکھتے ہیں: ''ملک غلام محمد25  اپریل 1895 میں موچی دروازہ لاہور کے ایک امیر، کاکازئی، گھرانے  میں پیدا ہوئے انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کی جبکہ اعلی تعلیم کے لیے علی گڑھ تشریف لے گئے جہاں سے انہوں نے بی اے کا متحان پاس کیا۔ انہوں نے انڈین اکاؤنٹ سروس میں چارٹرڈ اکاؤٹنٹ کی حیثیت سے کام کیا اس کے بعد ریلوے بورڈ میں ذمہ دار عہدہ پر کام کرتے رہے۔ مسٹر غلام محمد کافی عرصہ سے بیمار ہیں، انہیں فالج ہوا ہے، ان کے سارے بدن پر رعشہ طاری ہوتا ہے۔ ان کا بلڈ پریشر مستقل طور پر ہائی رہتا ہے۔ وہ چند قدم سے زیادہ چلنے پھرنے سے معذور ہیں۔ اکثر مریضوں کی کرسی میں بیٹھ کر گورنر ہاؤس کا چکر لگاتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں رعشہ ہے اور اپنے دستخط کے علاہ وہ مزید کچھ لکھنے سے قاصر ہیں۔ فالج نے ان کی زبان وچہرے کو بھی متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے ان کی گفتگو کسی کو بھی سمجھ نہیں آتی۔ جب وہ کھانے پینے کی کوئی چیز منہ میں ڈالتے ہیں تو اس کا کچھ حصہ دونوں کونوں سے باہر گرتا رہتا ہے۔ جب کوئی نیا سفیر آتا تو اس وقت کی روایات کے مطابق اسے گورنر جنرل کے ساتھ لنچ کرنا پڑتا تھا۔ سٹاف کے ممبر بھی لنچ میں حاضر ہوتے۔ جس وقت مسٹر غلام محمد لقمہ منہ میں ڈال کر نئے سفیر کے ساتھ گفتگو فرمانے کی کوشش کرتے تو وہ منظر بڑا عبرتناک ہوتا تھا۔ جسمانی عوارض کے علاوہ مسٹر غلام محمد کا ذہن بھی گنڈے دار تھا اور کسی قدر وقفے اور ناغے سے کام کرنے کے عادی تھے۔ کبھی وہ نارمل رہتے اور کبھی وہ بچوں اور دیوانوں کی طرح حرکات کرتے تھے۔ ان کی طبیعت صرف مس روتھ بورل کے ساتھ ہی ٹھیک رہتی تھی جن کو وہ اپنے ساتھ امریکہ سے لائے تھے۔ مس بورل ان کی باتوں کو کچھ حدتک سمجھتی تھیں اور ہمیں بھی سمجھاتیں۔''  قدرت اللہ شہاب 'شہاب نامہ' میں مزید لکھتے ہیں کہ ہاتھوں میں رعشہ کی وجہ سے دستخط کے علاوہ کچھ لکھنے کے قابل نہ تھے۔ فالج کی وجہ سے ان کی زبان کچھ اس طرح متاثر ہوئی کہ جب گفتگو کرتے تو غوں غوں، غاں غاں اور خر خر کے علاوہ کچھ نہ نکلتا اور بات چیت کے دوران رالیں بہتی رہتیں جو مسلسل صاف کی جاتیں۔ غصے میں منہ سے جھاگ نکلنے لگتی اور جب وہ چیخ چیخ کر خود ہی نڈھال ہو جاتے تو اسی انتظار میں موجود ڈاکٹر آ جاتا جو انہیں اگلے غصے کیلئے تیار کرتا۔ ان کی گفتگو صرف ان کی امریکن سیکرٹری مس روتھ بورل ہی سمجھ پاتیں اور وہی آگے بتاتیں کہ اس وقت گورنر جنرل صاحب کیا فرما رہے ہیں۔ اس مفلوج الحال شخص نے بنگالی وزیراعظم محمد علی بوگرہ کی حکومت کو چلتا کیا تھا، قانون ساز اسمبلی کو ختم کیا تھا، وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو رخصت کیا تھا اور بعد میں ایمرجنسی بھی ملک میں نافذ کی تھی۔ مسٹر غلام محمد کے اس اقدام نے ملک میں جمہوریت کا رہا سہا بھرم بھی پامال کر دیا۔ ذاتی ہوس کے ایسے سدا بہارگل کھلائے جو آج تک مرجھانے کا نام نہیں لے رہے۔ فیلڈ مارشل اور اسکندر مرزا کے ہر کام میں مسٹر غلام محمد کو پشت پناہی حاصل ہوتی تھی۔ لکنت کے باوجود وہ یہ نہیں مانتے تھے نہ سمجھتے تھے کہ وہ کتنی شدید لکنت کے شکار ہے۔  ایک بار مصر کے صدر جمال عبد الناصر کسی دوسرے ملک کے دورے پر جاتے ہوئے ایک رات کیلئے کراچی میں رکے۔ انہیں گورنر ہاؤس میں ٹھہرایا گیا۔ رات کو ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔ ڈنر سے پہلے دونوں سربراہ ایک دوسرے سے ملے، ان کے درمیان انگریزی میں جو گفتگو ہوئی اس کا ترجمہ کچھ اس طرح تھا۔ مصری صدر مسٹر غلام محمد کے کسی بات کو نہیں سمجھ رہے تھے۔ مسٹر غلام محمد۔۔ پچھلے سال میں شدید بیمار ہوا تھا۔ صدر ناصر۔۔۔ کچھ نہ سمجھے۔ یس۔ ایکسیلینسی۔ ویری گڈ۔ مسٹر غلام محمد۔۔۔ میں اتنا بیمار ہوا تھا کہ مرنے کے قریب تھا۔ صدر ناصر۔۔۔ یس۔ ایکسیلینسی۔ ویری گڈ۔ اس مرحلے پر عملے کا ایک بندہ وہاں پہنچا اور اس نے ترجمانی کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے صورتحال کو مزید پیچیدگی سے بچایا۔ اسی طرح کی صورتحال اور بھی غیر ملکی سربراہان کے دوروں میں پیش آتی تھی مگر وہ پھر سنتے ان کو اور ہنستے تھے۔ مسٹر غلام محمد کے دور میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے حکومت کے اندورنی کاروبار کی ٹریننگ حاصل کی اور مستقبل کیلئے اپنے عزائم پختہ کئے۔ پاکستان کو اپنے سیاسی نظام کا ڈھانچہ 1935 کے انڈیا ایکٹ کے تحت بنانا پڑا اور اسی ایکٹ کے تحت ہندوستان کے آخری وائس رائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے مسلم لیگ کے سربراہ مسٹر جناح نے بطور گورنر جنرل اپنے عہدے کا حلف لیا۔ مسٹر غلام محمد کی طاقت کا سرچشمہ سیاستدانوں کی آپس کی کمزوری اور جنرل ایوب خان کی پشت پناہی تھی۔ ان کے مرنے کے بعد سکندر مرزا نے گورنر جنرل کا عہدہ سنبھال کر اقتدار سنبھالا، پھر وہ صدر بن گئے اور کچھ عرصہ بعد جنرل ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ غلام محمد ان لوگوں میں شامل تھے جو امریکہ سے قریبی تعلقات قائم کرنا چاہتے تھے اور  لیاقت علی خاں کو روس کی بجائے امریکہ کے دورے کے لئے جن لوگوں نے تیار کیا ان میں ان کا بھی بڑا کردار تھا۔ ملک غلام محمد پاکستان کے تیسرے گورنر جنرل تھے۔ لیاقت علی خان کی موت کے بعد جب خواجہ ناظم الدین نے وزارت عظمی سنبھالنے کے لیے گورنر کا عہدہ چھوڑا تو غلام محمد گورنر جنرل بنے۔ ان کا دورِ حکومت پاکستان میں بیوروکریسی کی سازشوں اور گٹھ جوڑ کا آغاز تھا۔ غلام محمد نے ہی طاقت کے حصول کے لیے بنگالی وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو برطرف کر کے مشرقی پاکستان کے عوام میں مغربی پاکستان کے خلاف بداعتمادی کا بیج بویا۔ یہ برطرفی غلام محمد اور فوج کے سربراہ ایوب خان کے گٹھ جوڑ کے نتیجے میں ممکن ہو سکی تھی کیونکہ صرف2  ہفتے قبل ہی خواجہ ناظم الدین نے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیا تھا۔ اس برطرفی کو جب عدالت میں چیلنج کیا گیا تو اس کے نتیجے میں جسٹس منیر کا وہ بدنام زمانہ فیصلہ آیا جس نے پاکستان میں فوج اور بیوروکریسی کی سازشوں کا ایک نہ رکنے والا باب کھول دیا۔ جسٹس منیر نے فیصلے میں یہ احمقانہ موقف اختیار کیا کہ پاکستان نے مکمل آزادی حاصل نہیں کی ہے اور اب بھی جزوی طور پر تاج برطانیہ کا حصہ ہے۔ اس رو سے دستور ساز اسمبلی گورنر جنرل کے ماتحت ہے اور گورنر جنرل کو اسے برخاست کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس مقدمے میں صرف ایک غیرمسلم جج جسٹس کارنیلیس نے یہ موقف اختیار کیا کہ پاکستان مکمل طور پر آزاد مملکت ہے اور دستور ساز اسمبلی ایک خودمختار ادارہ ہے جسے گورنر جنرل برطرف نہیں کر سکتا۔ اسی مقدمے میں جسٹس منیر نے بدنامِ زمانہ نظریہ ضرورت بھی متعارف کروایا جو آج تک اس ملک کے گلے میں ہڈی کی طرح پھنسا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس دوران ملک غلام محمد اور نواب زادہ لیاقت علی خان کے مابین اختلافات پیدا ہوئے اور نواب زادہ لیاقت علی خاں نے آپ کو ہٹانے کا فیصلہ کر لیا تھا کہ اس دوران لیاقت علی خاں کی پرسرار شہادت کا واقعہ پیش آیا۔ لیاقت علی خان کی پرسرار اور بے وقت شہادت نے ملک صاحب کا مقدر بدل دیا۔ کابینہ اور حکومت میں ملک غلام محمد سب سے طاقتور شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ حکومت میں موثر کردار کے لئے وزارت عظمی کی بجائے گورنر جنرل کا عہدہ زیادہ موثر ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان کی سیاسی اور آئینی تاریخ میں بہت برا فیصلہ ثابت ہوا۔ اگر ملک غلام محمد گورنر جنرل کی بجائے وزیر اعظم بننے کا فیصلہ کرتے تو پاکستان کی سیاسی اور پارلیمارنی تاریخ شائد آج مختلف ہوتی۔ ملک غلام محمد کو براہ راست سیاسی قیادت کا موقع ملتا تو ملک ان محلاتی سازشوں کا شکار نہ ہوتا جو پس پردہ رہ کر انہوں نے اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کیں اور ملک کو سیاسی عدم استحکام کا شکار کیا۔ کابینہ نے فیصلہ کیاکہ خواجہ ناظم الدین کو وزارت عظمی کی ذمہ داریاں سونپی جائیں جبکہ ملک غلام محمد کو گورنر جنرل کا عہدہ دیا جائے۔ اس طرح ملک غلام محمد نے پاکستان کے تیسرے گورنر جنرل کے طور پر حلف لیا اور خواجہ ناظم الدین نے وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔یہ ملک میں بیوروکریسی کی سازشوں اور گٹھ جوڑ کی ابتدا تھی۔ (جاری ہے)