امر بالمعروف ونھی عن المنکر

امر بالمعروف ونھی عن المنکر

تحریر: مولانا خانزیب
پاکستان کی پارلیمانی سیاست سے اتنی دلچسپی ہوتی ہے جتنی حالت اضطرار میں زندگی بچانے کیلئے محرمات  کے کھانے تک کہ شائد اس عمل سے اپنی قوم کا اگر کوئی بھلا ممکن ہو سکے تو ممکن کرنے کی سعی کریں۔ ایک اور شخص کو پاکستانی سیاست میں ناکامی کی مثال بنانے کیلئے تمام تیاریاں ہو چکی ہیں، سب کچھ اب چند گھنٹوں کے بعد نوشتہ دیوار ہے۔ اگر کسی کو ہزاروں سالہ تاریخ سے کوئی دلچسپی نہیں تو کم از کم لیاقت خان سے لے کر عمران نیازی کے عروج و زوال اور نمونہ عبرت بننے کو دیکھے تو شائد اس کو کوئی سیاسی سنجیدگی نصیب ہو سکے۔ اس ملک میں اپنے دورِ اقتدار میں ہر ایک کو بے مثال عوامی مقبولیت کا زعم ہوتا ہے مگر پھر وہ جس بھیانک انجام سے دوچار ہوتا ہے بے چارے کو بچانے کیلئے بھی پھر کوئی نہیں اٹھتا، رسوا سیاست کی جاتی ہے جبکہ اصل شہسوار کوئی اور ہوتے ہیں۔ سیاست کے لبادے میں ایک اور طویل ڈرامے کا ڈراپ سین ہونے والا ہے۔ ایک زمانے میں زیڈ اے بھٹو نے بھی کہا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو پورا ایشیاء سرخ ہو گا مگر حقیقت وہی تھی کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ بقول شاد عارفی!
ہمارے ہاں کی سیاست کا حال مت پوچھو
گِھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں
اگر اس ملک میں سیاست آزاد ہوتی، پارلیمان اپنا وقار و استقلال برقرار رکھتی، غیرآئینی اقدامات کا لیگل فریم کے لبادے میں 'حلالہ' نہ کروایا جاتا، غیرجمہوری قوتوں کی آشیر باد کا خاتمہ ہو چکا ہوتا، پنجاب کے علاہ دیگر اقوام کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ نہ ہوتی اور ان کو تسلیم شدہ آئینی حقوق دیئے جاتے تو شائد آج ایک اجڈ، سیاست کے رموز سے نابلد غیرسیاسی بندہ ڈی چوک میں جذباتی غیرسیاسی اور پاکستانی سیاست کے الف ب سے ناواقف پشتون نوجوانوں کی بھیڑ کو مزید تگڑی کا ناچ نچوانے اور ان کا استحصال کروانے کیلئے نہ بلاتا! وہ اپنی تمام کشتیاں جلانے کے بعد بھی مذہب کی آڑ لے کر امر بالمعروف ونھی عن المنکر کے مقدس استعارے کے پیچھے چھپنے کے بجائے ریاست مدینہ کا راگ چار سال الاپنے کے بعد حقیقی ریاست مدینہ کے150  خواص میں کوئی ایک مثالی کردار کا ذکر کرتا۔ اگر مدینہ کی ریاست کے کچھ ہی خدوخال اپنائے جاتے تو طارق جمیل کے رونے دھونے کی ضرورت بھی نہ پڑتی مگر مقصد چونکہ کچھ اور ہوتا ہے اس لئے یہ ڈرامے سٹیج کئے جاتے ہیں۔ اگر کچھ کرنے میں وہ کامیاب رہتے تو  وہ اپنی آزاد خارجہ و داخلہ پالیسوں کے گن گاتے اور طیب اردوغان کی طرح غیرجمہوری قوتوں کو گلی محلوں میں گھسیٹتے مگر ایسا کچھ بھی ممکن نہیں کیونکہ اب ہاتھ میں کچھ بھی نہیں سارے پتے ھاتھ سے ایک ایک کھسکنے کے بعد اب کچھ باقی ہی نہیں ہے جو کھویا جا سکے۔ پاکستانی سیاست میں ہمیشہ سے ہی ایسی عبرتناک مثالیں قائم کی جاتی ہیں۔ اس بار صرف فرق اتنا ہے کہ گالیوں اور بدزبانی کو سیاسی کلچر کا مستقل عضو بنا کر اس مقدس عمل کو قابلِ کراہت بنا دیا گیا ہے۔ چونکہ اس ملک کی سول و ملٹری اشرافیہ کا بنیادی مقصد سیاست کو خودمختار بنانے سے روکنا ہوتا ہے، سیاست کو مسائل کے حل کے قابل بنانے سے روکنا ہوتا ہے، ہر برائی کو سیاست کے ساتھ نتھی کرنا ہوتا ہے اس کیلئے گورنر جنرل محمد علی جناح سے لے کر آج تک کچھ غیرسیاسی و غیرسنجیدہ مہروں کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ ضرورت پورا کرنے کے بعد ان کو اپنی اصل حالت میں واپس رسوا کر کے بھیج دیا جاتا ہے۔ اس طرح کے حالات بنانے کے بعد غیرسیاسی قوتوں کیلئے پچھتر سالوں سے، سیاسی خلا کو تخلیق کیا جاتا تھا اور پھر دس گیارہ سال کے بعد نئے جنم کیلئے درمیان میں ایک اور سیاسی وقفہ لولی لنگڑی جمہوریت کی شکل میں لیا جاتا تھا۔ مگر اب کی بار اے این پی، پی پی پی سمیت کچھ شاطر دماغوں نے مقتدرہ کے سارے کھیل کے مزے کو اٹھارہویں ترمیم کی شکل میں کرکرا کر دیا ہے۔ ان کی براہ راست تلویث کو  اتنا پیچیدہ اور مبہم کر دیا ہے کہ نہ جائے رفتن و نہ جائے ماندن، اب نہ نئی صراحی میں مشروب کو انڈیلا جا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی نیا ساغر و مینا نظر آتا ہے اس لئے بہتر آپشن ایک درمیانہ سیاسی بونا ہی ہو سکتا ہے۔ عمران نیازی سے کوئی دلچسپی نہیں مگر دل ان نوجوانوں پر افسردہ ہے جن کے جذبات کو سیاست کے مقدس نام پر برانگیختہ کیا گیا اور دو دہائیوں کے ان کے خوابوں اور ارمانوں کا بڑی ہوشیاری کے ساتھ خون کیا گیا تاکہ سیاست سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نوجوانوں کے دلوں میں بغض بھرا جائے۔ یہ پلان بڑی منظم منصوبہ بندی کے ذریعے عمران نیازی کی شکل میں پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا ہے۔
بنا کردند خوش رسمے در خاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقان ِ پاک طینت را (مرزا مظہر جان جاناں)