خارجہ پالیسی ہماری آزاد ہے

خارجہ پالیسی ہماری آزاد ہے

تحریر: عامر گمریانی
ابھی بہت ساری چیزیں تبدیل ہوتا دیکھیں گے ہم۔۔ آرمی کو کچھ عرصہ قبل گالیاں دینے والے اب اس کے گن گائیں گے جبکہ ابھی کچھ دن پہلے اس پر دل و جان سے فدا لوگ اس کی ایسی کی تیسی کریں گے۔ کچھ جذباتی لوگ نئے ولولے سے محب وطن بنیں گے اور ہمیں امریکہ کی غلامی کے طعنے دیں گے اس بات سے قطع نظر کہ جانے والے کو لانے والا بھی امریکہ ہی تھا۔ نواز شریف جس عزم اور ولولے سے سی پیک کو آگے بڑھا رہے تھے، اسے دیکھ کر اس کا جانا ٹھہر گیا تھا۔ امریکہ کی تب کی وزیر خارجہ ہیلری جب پاکستان آئی تھی تو کیا کھل کر سی پیک کو امریکی مفادات سے متصادم نہیں قرار دیا تھا؟ دلچسپ کردار ایک شہباز گل کا بھی ہے، نواز شریف حکومت کے دوران موصوف امریکہ میں کھلے عام سی پیک کے خلاف بولتے اور امریکنوں سے سی پیک ختم کرنے کی باتیں کیا کرتے۔ کپتان کے حامی  کل سے عجیب بھاشن بیچنے کی کوشش میں ہیں۔ کپتان کی آزاد خارجہ پالیسی کے باعث کپتان کو ہٹایا گیا۔ مطلب روس کا ایک دورہ ان کی آزاد خارجہ پالسی ہے۔ ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبہ جب سے یہ حکومت آئی ہے، مکمل ٹھپ پڑا ہے لیکن خارجہ پالیسی ہماری آزاد ہے۔ سی پیک کا ہم نے وہ حشر کیا ہے کہ چینی سرمایہ کار چیخنے لگے ہیں لیکن خارجہ پالیسی ہماری آزاد ہے۔ ایم بی ایس ہمیں جہاز دیتا ہے، اس میں ہم امریکہ جاتے ہیں اور جب واپسی کی راہ لیتے ہیں تو ہوا میں ہی ہمیں میسج آتا ہے، پیچھے پھر لیکن خارجہ پالیسی ہماری آزاد ہے۔ ہم واپس نیویارک اترتے ہیں اور جہاز دے کر اپنا بندوبست کرتے ہیں لیکن خارجہ پالیسی ہماری آزاد ہے۔ ترکی اور ملائشیا ہماری تجویز پر کانفرنس بلاتے ہیں لیکن سب کچھ طے ہونے کے بعد ہم آخری وقت میں اپنی ہی تجویز کردہ کانفرنس میں شرکت سے انکاری ہو جاتے ہیں لیکن خارجہ پالیسی ہماری آزاد ہے۔ کلبھوشن یادیو کو کونسلر تک رسائی کے لئے ہم مرے جا رہے تھے لیکن خارجہ پالیسی ہماری آزاد ہے۔ آئی ایم ایف کی شرمناک شرائط ماننے میں ہمیں کسی قومی غیرت کا احساس نہیں ہوتا لیکن خارجہ پالیسی ہماری آزاد ہے۔ پاکستانی جانباز بھارتی جہاز گرا کر پائلٹ کو قیدی بنا لیتے ہیں تو ہم اگلے دن اسے ہار پہنا کر روانہ کر دیتے ہیں لیکن خارجہ پالیسی ہماری آزاد ہے۔ انڈیا ہماری کمزور خارجہ پالیسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بدنام زمانہ قانون نافذ کرتا ہے لیکن خارجہ پالیسی ہماری آزاد ہے۔ ہم اسمبلی میں خطاب کرتے ہیں ؛ کیا کریں، انڈیا پر حملہ کر دیں؟ لیکن خارجہ پالیسی ہماری آزاد ہے۔ کشمیر کے معاملے پر ہمارا ردعمل جمعہ کی نماز کے بعد آدھا گھنٹہ دھوپ سینکنے تک محدود رہتا ہے لیکن خارجہ پالیسی ہماری آزاد ہے۔ ہم سعودی عرب کے پاؤں پڑ کر بھیک لیتے ہیں اور جب واپسی کرنی ہوتی ہے تو چین سے مانگ کر سعودیوں کو ادائیگی کرتے ہیں لیکن خارجہ پالیسی ہماری آزاد ہے۔ اور دنیا تو ایک طرف اسلامی ممالک میں کشمیر کے معاملے پر ہمارا کوئی ساتھی نہیں بچا لیکن خارجہ پالیسی آزاد ہے۔ ہماری حکومت میں درجنوں لوگ امریکہ سے آ کر کلیدی عہدوں پر فائز ہوئے تو کوئی بات نہیں لیکن جب ہماری اپنی نالائقیوں کے باعث ہماری حکومت چراغ سحری کی طرح ٹمٹمانے لگی تو امریکہ نے سازش کی۔ حد ہوتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ آپ کو وزیراعظم بنانے کے لئے مخالف جماعتوں کا ناطقہ بند کر دیتی ہے تو آپ خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ نواز شریف کو نااہل اور مریم نواز کو الیکشن سے باہر کر دیتی ہے تو ناچنے لگتے ہیں۔ تحریک انصاف کا ٹکٹ لو یا پھر نیب کی فائل جیسی پالیسی کے ذریعے آپ کو مختلف حلقوں میں امیدوار دیے جاتے ہیں تو سب اچھا ہے۔ آپ کے اتحادی گواہی دیتے ہیں کہ جنرلز ان کے بندے توڑ کر آپ کی جھولی میں ڈال رہے تھے تو کوئی مسئلہ نہیں۔ الیکشن ڈے بر آر ٹی ایس کی ناگہانی موت سے آپ کے ووٹ پورے ہوتے ہیں تو سب ٹھیک ہے۔ جہانگیر ترین کے جہاز میں لوگوں کو بھر بھر کر آپ کے پاس لایا جاتا ہے تو آپ کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ آپ خارجہ پالیسی اور سفارت کاری میں غلطیوں پر غلطیاں کرتے ہیں، آرمی اور آئی ایس آئی چیف آپ کا گند صاف کر کے تعلقات بحال کرتے ہیں تو آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا لیکن فوج آپ کے سر سے ہاتھ اٹھا کر آپ کو آپ کے حال پر چھوڑ دیتی ہے تو یک دم فوج غدار ہو جاتی ہے۔ مانا کہ سیاسی جنگ میں آپ کے سیاسی محاصرے میں اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ رہا ہے لیکن یہی اسٹیبلشمنٹ آپ کے لئے آپ کے مخالفین کا سیاسی نہیں بلکہ حقیقی محاصرہ کرتی آئی ہے۔ آپ جب منظور نظر نہیں تھے تب بھی یہاں سیاسی قیادت کو پھانسیاں دی گئیں، انہیں ہتھکڑیاں پہنا کر جہاز کی سیٹ سے باندھا گیا، ان پر بندوقیں تانی گئیں، انہیں جیلوں میں ڈالا گیا، جلا وطن کیا گیا۔ ملکی سیاسی قیادت نے جب اپنی غلطیوں سے سیکھا اور آپس میں کھیل کے کچھ اصول وضع کیے تو آپ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں کھیلنے لگے۔ آپ میں سیاسی بصیرت ہوتی اور آپ کو اقتدار کے علاوہ کچھ اور نظر آتا تو آپ دوسروں کی مدد حاصل کرنے کے بجائے سیاسی مخالفین کا مقابلہ کرنے خود میدان میں نکلتے۔ جن کندھوں پر آپ کی کھٹولی آئی تھی، انہی پر آپ کا جنازہ نکل پڑا ہے تو اس میں رونا کیسا؟ لکھا بہت جا سکتا ہے لیکن اس وقت تحریک انصاف کے معصوم اور مخلص کارکنوں کے دل دکھے ہیں اس لئے اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ آخری بات یہ کہ شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر کوئی بے وقوف ہی پھینک سکتا ہے۔