ے نور راہوں میں ماری گئی نور مقدم

ے نور راہوں میں ماری گئی نور مقدم

تحریر: عامر گمریانی

نور مقدم کے لرزہ خیز قتل کی تفصیلات پڑھنا اپنے دل و دماغ کو خاردار تاروں سے گزارنے کے مترادف ہے۔ جتنا پڑھ سکتا تھا، پڑھ لیا، اب مزید پڑھنے کا یارا نہیں۔ رہ رہ کر خیال آتا ہے کہ اس بیچاری لڑکی پر کیا قیامت گزری ہوگی۔ کمرے میں بند جب اس نے خونی درندے کے ہاتھ میں پستول اور چاقو اور اس کی وحشی آنکھوں میں اپنی موت دیکھی ہوگی تو چیخ اس کے گلے میں ہی پھنس گئی ہو گی۔ اس نے کتنی منت سماجت کی ہو گی۔ گڑگڑائی ہو گی، پچھلے قدموں پیچھے ہٹی ہو گی، ایک دیوار تک پہنچ کر دوسری دیوار کی جانب بڑھی ہو گی۔ پھر شاید اس نے اپنے قاتل کے پیروں میں گر زندگی کی بھیک مانگی ہو گی۔ پہلے وار کے ساتھ اس کے گلے میں اٹکی چیخ باہر نکلی ہوگی اور پھر چیخوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا ہو گا۔ گھر کے مکین اور چوکیدار یہ تمام چیخیں سن رہے ہوں گے لیکن کسی میں اتنی جرات نہیں تھی کہ دروازے پر جا کر شور مچاتے اور ایک زندگی ضائع ہونے سے بچا لیتے۔
نور جب اپنے قاتل کی بے نور آنکھوں سے مایوس ہوئی ہوگی تو یقیناً اس نے اس بلی کی طرح اپنے قاتل پر حملہ کیا ہوگا، جو بند کمرے میں راہ فرار نہ پا کر کمرے میں موجود بندے کے گلے میں اپنے پنجے گاڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن کہاں وہ دیو ہیکل نشئی اور کہاں ایک ننھی جان۔ قاتل نے اس اٹھا کر زمین پر زور سے پٹخا ہو گا اور اچھل کر اس کے سینے پر بیٹھ کر ہاتھ میں پکڑا خنجر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا ہوگا۔ پھر اس نے یکایک خنجر بیدردی سے اس کے گلے پر کھینچا ہو گا، خون کی ایک دھار اٹھی ہو گی اور بیچاری نور نے درد سے بلبلا کر اپنا سر دائیں بائیں پٹخا ہوگا۔ درد کی شدت نے اس کے اعصاب میں طاقت بھر دی ہو گی اور شاید اس نے اپنے قاتل کو اپنے سینے سے ایک طرف گرا دیا ہو گا۔ خون کی ایک دھار قاتل کے چہرے پر بھی گری ہوگی۔ قاتل ایک طرف بیٹھ کر نور کے خون کا ذائقہ اپنی زبان پر محسوس کر رہا ہوگا، شاید خون کے ذائقے نے اس کا گرتا نشہ دوبارہ اٹھا دیا ہو۔
قاتل ایک طرف بیٹھ کر نور کے تڑپنے سے لطف اٹھا رہا ہوگا۔ نور بیچاری نے ہاتھ پیر مارے ہوں گے کہ جلد ہی اس اذیت سے چھٹکارا ملے۔ تھوڑی دیر پہلے وہ زندگی کی بھیک مانگ رہی تھی، اب وہ جلد از جلد زندگی کی ڈور ٹوٹنے کی توقع کر رہی ہوگی۔ اس اذیت سے جلد نجات حاصل کرنے کے واسطے اس نے اپنے پاو?ں زور زور سے اپنے ہی خون میں لت پت فرش پر پٹخے ہوں گے لیکن نجات کی گھڑی ابھی دور تھی۔ قاتل کو ابھی نور کی اذیت سے اور لطف اٹھانا تھا۔ وہ اٹھا ہوگا اور اپنے خنجر سے اپنے شکار کا سر اس کے دھڑ سے الگ کرنا شروع کیا ہوگا۔ اے میرے خدا، اے میرے خدا! کیا اس دھرتی پر انسانی شکل میں بھیڑیے بھیجنا اتنا ہی ضروری ہے؟
اور نہیں لکھا جاتا اس اندوہناک منظر پر۔ تفصیلات یہ ہیں کہ ظاہر جعفر نامی یہ بندہ ایک امیر کبیر خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ مقتولہ نور مقدم ایک سابق سفیر کی بیٹی تھی۔ دونوں خاندانوں میں کافی عرصے سے تعلق ہے۔ ظاہر جعفر امریکی شہری بھی ہے۔ انیس تاریخ کو اس نے امریکہ جانا تھا، نور اس سے ملنے اس کے گھر گئی۔ ظاہر نہ جانے کیوں مقررہ تاریخ کو امریکہ نہیں گیا اور ایک دن بعد یعنی بیس تاریخ کو اپنے ہی گھر نور مقدم کا اندوہناک قتل کر ڈالا۔ ظاہر کے والدین گھر پر نہیں تھے۔ انہیں گھر پر موجود نوکروں نے فون کر کے گھر پر پیش آنے والی صورتحال کا بتایا۔ بجائے پولیس کو فون کرنے کے انہوں نے ایک تھراپی ورکس نامی ادارے کو فون کیا جہاں ظاہر کلاسز لے رہا تھا۔ تھراپی ورکس والے گھر پہنچے تو ظاہر نے ان پر بھی حملہ کر دیا اور اس کے ایک بندے کو بری طرح زخمی کر دیا جسے انتہائی سنگین صورت حال میں ہسپتال پہنچایا گیا اور تاحال اس کی حالت نازک ہے۔ تھراپی ورکس کے دیگر اہلکاروں نے ظاہر کو قابو کر لیا۔
جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو پڑوس سے کسی بندے نے فون کر کے پولیس کو مطلع کیا، پولیس نے موقع پر پہنچ کر قاتل کو گرفتار کیا۔ سوشل میڈیا پر لوگ شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں کہ ظاہر اپنی دولت، خاندانی اثر و رسوخ اور امریکی شہریت کے بل بوتے اس کیس سے نکل جائے گا۔ اسلام آباد پولیس کے ایس پی انویسٹی گیشن کے مطابق پولیس تندہی سے اپنی تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے اور ہر قیمت پر قاتل کو اس کے جرم کی سزا دی جائے گی۔ ظاہر کی ذہنی حالت اور نفسیاتی مسائل کا ذکر بھی ہو رہا ہے لیکن ایس پی انویسٹی گیشن کے مطابق جس وقت اسے گرفتار کیا گیا وہ مکمل طور پر نارمل حالات میں تھا، اس لئے اس کی ذہنی حالت کو جواز بنا کر اس سے کسی قسم کی کوئی ہمدردی نہیں کی جا سکتی۔
یہاں سوالات اور بھی ہیں بالخصوص قاتل کے والدین کے متعلق۔ جب انہیں پتہ ہے کہ ان کے بیٹے کی ذہنی حالت درست نہیں تو اسے اکیلا چھوڑ کر کراچی کیوں گئے؟ یہ کیوں یقینی نہیں بنایا کہ اس کے کمرے میں پستول، چاقو یا ایسی چیز جس سے کسی کو قتل کیا جا سکے، نہ ہوں۔ اپنے پاگل بیٹے کو اپنی کمپنی کا برینڈ ایمبیسیڈر کیسے بنایا؟ جب اپنے بیٹے کی حفاظت کے لئے گارڈز ہائر کیے تو اپنے بیٹے سے دوسروں کو بچانے کے لئے انہی گارڈز کو ہدایات کیوں نہیں دی؟ جب گھر کے نوکروں نے والدین کو فون کر کے صورتحال سے آگاہ کیا تو انہوں نے فوری طور پر پولیس کو مطلع کرنے کے بجائے تھراپی ورکس والوں کو ہی فون کیوں کیا؟ والدین سے زیادہ اس بندے کے مسائل کے متعلق کون جانتا ہوگا؟ اس لئے یا تو معاملے کے اس پہلو کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے یا پھر قاتل کی طرح اس کے والدین کو بھی اپنی دولت پر گھمنڈ تھا کہ دولت کے بل بوتے صورتحال کو قابو میں رکھ سکیں گے۔
اس معاملے کا سب سے تکلیف دہ پہلو میرے لئے یہ ہے کہ کچھ لوگ اعتراض کر رہے ہیں کہ نور مقدم کس رشتے سے ظاہر کے گھر گئی تھی؟ ظاہر جیسے وحشی کو دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بیچاری نور پر اس سے پہلے کیا کیا گزری ہوگی؟ پاکستان جیسے مردوں کے معاشرے میں ایک عورت کو اپنی جان اور اپنی اور خاندان کی عزت بچانے کے لئے کون سے اسباب میسر ہیں؟ کیا ہماری ریاست میں قانون کا اتنا بول بالا ہے کہ آپ پولیس کی مدد لے کر ایسی صورتحال سے خود کو نکال سکتے ہیں؟ اس لئے ہمارے پاس نور مقدم کی مجبوری کو سمجھنے کے لئے سو دلائل موجود ہیں لیکن ظاہر نامی اس وحشی کا دفاع کوئی ذی شعور کس طرح کر سکتا ہے؟ آخر ہم کب یہ سوال اٹھانا شروع کریں گے کہ مردوں کو کس نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ خواتین کے ساتھ جس طرح چاہیں تعلقات استوار کریں اور جب مسائل پیدا ہوں تو سارا الزام خواتین پر دھر کر خود کو صاف بچا لے جائیں۔ آپ اگر اب بھی جان سے جانے والی نور مقدم پر سوالات اٹھا رہے ہیں تو صرف ایک لمحے کے لئے اپنی بیٹی یا بہن کو نور مقدم کی جگہ رکھ کر وہ مناظر یاد کریں جن کو میں نے تحریر کی ابتدا میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر آپ کی سوچ کا دھارا اب بھی تبدیل نہیں ہوا تو انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھ لیجیے، اپنے لئے۔
 

ٹیگس