نئی سوچ 

نئی سوچ 


                                                         محمد حسن مختار 
دنیا میں عقلمند وہ ہے جو دوسرے لوگوں کے تجربات سے فائدہ اٹھائے اور ان کی غلطیوں سے سیکھے۔ ایک کتاب لکھی گئی ہے ''نئی سوچ، نئی شخصیت'' جس کے مصنف محمد وقاص سائیکولوجسٹ ہیں۔ یہ کتاب مصنف کی زندگی کے تجربات اور علم کا نچوڑ ہے۔ وہ لوگ جو اپنی زندگی کو بدلنا چاہتے ہیں، جو اپنی سوچ کا دائرہ وسیع کرنا چاہتے ہیں اور جو اپنی شخصیت کو بہترین بنانا چاہتے ہیں یہ کتاب ان کے لیے ہے۔ اس کتاب کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد ایسے جواہرات اخذ کیے ہیں جو زندگی میں انقلاب لے آئیں۔ منتخب اقوال درج ذیل ہیں: 1۔ اگر انسان لوگوں کی تنقید کی وجہ سے رک جائے تو وہ زندگی میں آگے کیسے بڑھے گا۔ دنیا میں کوئی ایسا شخص نہیں ہو گا جس پر تنقید نہ کی گئی ہو۔ بلکہ انسان جتنا عظیم، بڑے  اور منفرد خیالات کا حامل ہو گا اس کے نکتہ چین بھی زیادہ تعداد میں ہوں گے۔ ان نکتہ چینوں کے الفاظ کی وجہ سے حوصلہ مند لوگ کبھی بھی اپنے راستے تبدیل نہیں کرتے۔ 2۔ صرف ایک واقعہ آپ کی زندگی کا تعین نہیں کر سکتا۔ مستقبل میں ہزاروں واقعات آپ کے منتظر ہوتے ہیں جن کو آپ نے اپنی مدبرانہ صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے اچھا اور خوشگوار بنانا ہے۔ 3۔ ضروری نہیں ہے کہ جو چیز ہماری زندگی میں آسائش مہیا کرے ہم اس کو نعمت سمجھیں۔ بعض دفعہ تکلیف دہ چیزیں بھی مثبت واقعات میں شمار ہوتی ہیں۔ 4۔ ہمارا ذہن ایک نوکر کی طرح کام کرتا ہے۔ ہم اس کی عادت جس طرح سے ڈال دیں گے وہ ویسے ہی کام کرے گا۔ 5۔ کوئی بھی مضبوط اور دیرپا کام راتوں رات ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے لیے وقت اور محنت دونوں چاہیے ہوتے ہیں۔ 6۔ انسان کو کبھی بھی ارادوں پر نتائج نہیں ملتے بلکہ عمل سے ملتے ہیں۔ 7۔ آپ اپنی عزت کو جتنا زیادہ سمجھتے ہیں آپ کی بیعزتی پہ آپ کو دکھ بھی اتنا زیادہ ہوتا ہے۔ 8۔ ایک کامیاب شخص کی سوچ لوگوں کی سوچ سے اونچی اور مختلف ہوتی ہے۔ 9۔ اس نے سوچا کہ اگر اس دکھ کی شدت کو کم کرنا ہے تو خوشیوں کی مقدار میں اضافہ کرنا ہو گا۔ 10۔ ہمیں بس یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جو ذات انسان سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت فرماتی ہو وہ کبھی بھی اس کے ساتھ زیادتی نہیں کرے گی۔ 11۔ دوسروں کو معاف کر دیں اس لیے نہیں کہ وہ معافی کے مستحق ہیں بلکہ آپ ذہنی سکون کے مستحق ہیں۔ 12۔ معاف کرنے سے انسان حال میں جینا شروع کر دیتا ہے۔ اگر وہ معاف نہیں کرے گا تو ماضی کی تلخ یادوں کے ساتھ چپکا رہے گا، وہ حال میں جینے کی کوشش میں ناکام ہو جائے گا۔ ماضی کی بری یادوں کی کڑواہٹ اس کو اپنی طرف کھینچ کے گی۔ 13۔ جتنا خود کو ذمہ دار سمجھیں گے اتنا خود پر کنٹرول ہو گا اور جتنا خود پر کنٹرول محسوس ہو گا اتنی خوشی بڑھے گی۔ 14۔ جو انسان اپنی توانائی استعمال کر کے دوسروں کا بھلا سوچتا ہے وہ ہر لحاظ سے اس انسان سے بہتر ہوتا ہے جو ایسا نہیں کرتا۔ 15۔ عظیم لوگوں کی سوچ ہی انھیں عظیم بناتی ہے کیوں کہ ان کی سوچ وہاں تک جاتی ہے جہاں تک عام بندہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔