سوات میں طالبان کی آمد پر سوشل میڈیا پر نئی بحث

سوات میں طالبان کی آمد پر سوشل میڈیا پر نئی بحث


خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں طالبان کی آمد اور پولیس اہلکاروں کے اغوا کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ،

 

گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے آبائی علاقہ مٹہ تحصیل میں مسلح افراد نے دو سیکورٹی اہلکارسمیت ڈی ایس پی کو یرعمال بنایا تھا جو بعد ازاں جرگے کے ذریعے رہا کردئے گئے جس کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں نے سوات میں طالبان کی دوبارہ آمد اور حکومتی خاموشی پر آڑھے ہاتھوں لیا۔

 

سوشل میڈیا پر گزشتہ روز سے سوات میں طالبان کی آمد اور انکی سرگرمیوں کے حوالے سے بحث مباحثے پر تاحال صوبائی حکومت نے خاموشی اختیار کی ہے ۔

گزشتہ ہفتہ صوبائی اسمبلی اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے ایوان کو بتایا کہ اس وقت مختلف اضلاع میں دوبارہ طالبان کی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہے مگر حکومت اس حوالے سے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھارہی ہے 

 

عقیل یوسفزئی نے سوشل میڈیا پر تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوات اور دیر میں طالبان کانہ صرف گشت شروع ہوا ہے بلکہ پولیس اہلکارکو یرعمال بنایا گیا ہے ،صوبائی حکومت آب تک اس پوری معاملے پر لاتعلق ہے 

انہوں نے مزید بتایا کہ 2006 میںچپریال وادی ہی سے طالبانائزیشن کا آغاز ہوا تھا اور پیو چار کیمپ بھی اس علاقے میں تھا ،یہ علاقہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخو محمود خان کا حلقہ ہے ۔

طارق افغان نے یرعمال تین افراد کی ویڈیوں شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے طالبان سرگرمیوں پر خاموشی اختیا رکی ہے ،طالبان رہنماء ڈی ایس پی مٹہ سرکل سید خان نے سے پوچھ رہا ہے کہ آپ سے کسی نے ہمارے متعلق بات نہیں کی ؟


شاہنواز مشال نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سوات کے تحصیل مٹہ کے بالائی علاقوں میں طالبان کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے ،شام کے بعد عوام اپنی گھروں تک محدود ہوگئے ہیں ،سوات کے پہاڑی علاقوں کوز شور ،بر شور ،پیوچار ،نمل اور خوڑ سمیت گرد نواح میں طالبان کی رٹ قائم ہوئی ہیں۔

 

اس سلسلے میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان، سوات میں دہشتگردی کے واقعات پر حکومتی خاموشی مجرمانہ فعل ہے ۔سوات میں پاکستان کا جھنڈا جانوں کے نذرانے دے کر اے این پی نے دوبارہ لگایا تھا، اس بار ہٹایا گیا تو کون لگائے گا؟ 

سوات میں پولیس پر حملے، ڈی ایس پی کے اغوائ، جرگے کے ذریعے رہائی پر ردعمل دیتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ کیا ریاست اتنی کمزور ہوگئی ہے کہ اپنے ڈی ایس پی کو چھڑانے کیلئے دہشتگردوں پر جرگے کرائے جارہے ہیں؟ 

 

پختونخوا کی جنت نظیر وادی میں دہشتگردوں کی اتنی بڑی کارروائی صاحبان اقتدار کے منہ پر طماچہ ہے۔جو حکومت طالبان کو بھتے دیں، جان بچانے کی بھیک مانگے، وہ عوام کی کیا حفاظت کریں گے۔ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پختونخوا میں آگ لگادی گئی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ ہم عرصہ دراز سے کہہ رہے ہیں کہ طالبان گروہ منظم ہورہے ہیں لیکن کسی نے بات کو سنجیدہ نہیں لیا۔آج سب کچھ ثابت ہوگیا کہ سوات میں پیر کے روز پولیس پر حملہ ہوا اور ڈی ایس پی کو اغوا کیا گیا۔

 

 ایمل ولی خان نے کہا کہ وزیراعلی پختونخوا ہمت کرے اور اپنے حلقے میں جاری دہشتگردی پر خاموشی توڑ دیں۔زخمی پولیس افسر کی جلد صحتیابی کیلئے دعاگو ہیں، حکومت کو دلیری سے سامنے آنا ہوگا۔اگر حکومت یہ مجرمانہ خاموشی اختیار کرے گی تو پختونخوا کے عوام نئی آگ کا سامنا کریں گے۔

مقامی ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر ضلع سوات کے تحصیل مٹہ میں طالبان کی آمد اور سیکورٹی اہلکاروں کو یرعمال بنانے اور رہائی کے بعد آب تک صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا گیا جس کی وجہ سے مقامی لوگوں میں مایوسی پھیل گئی ہیں