نیوزی لینڈ کے پاس اتنی فورسز نہیں جتنی انہیں سکیورٹی دی تھی، وزیر داخلہ

نیوزی لینڈ کے پاس اتنی فورسز نہیں جتنی انہیں سکیورٹی دی تھی، وزیر داخلہ

وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو ملنے والے مبینہ تھریٹ الرٹ سے متعلق سوالات اٹھا دیے۔

 

لاہور میں کی جانے والی پریس کانفرس کے دوران وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ  تھریٹ الرٹ کا بتانے والے 5 ملک اس وقت کہاں تھے جب سکیورٹی ماہرین پاکستان کا دورہ کررہے تھے اور نیوزی لینڈ کی  ٹیم 4 دن سے راولپنڈی میں  پریکٹس کررہی تھی  تب کوئی مسئلہ نہیں تھا۔

 

شیخ رشید نے  نیوزی لینڈ ٹیم کی جانب سے سکیورٹی کو جواز بناکر سیریز ملتوی کیے جانے اعلان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ کے پاس  اتنی فورسز نہیں ہیں جتنی انہیں سکیورٹی دی تھی۔

 

 وفاقی وزیر داخلہ کاکہنا تھا کہ بھارت میں کورونا کی تباہی کی وجہ سے کوئی کرکٹ نہیں ہورہی، ایک پھلجھڑی پر بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ اسلامی انتہا پسندی ہے،ہم سے جو سلوک کیا جارہاہے وہ ٹھیک نہیں، ہماری قربانیوں کا احترام کیا جائے، ساری دنیا میں ہماری ایجنسیاں مضبوط ترین  اور اسمارٹ ایجنسیاں ہیں۔

 

نیوزی لینڈ ٹیم کی واپسی پر اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے  انھوں نے کہا کہ شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ ماریں۔

 

انھوں نے کہا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں، ایسے کاموں میں ایسا ہوتا ہے ،قوم کو افسوس ضرور ہے  لیکن ایک دن آئے گا کہ ساری ٹیمیں کھیلنے آئیں گی۔

 

خیال رہے کہ کچھ روز قبل نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے سکیورٹی خدشات کو جواز بناکر پاکستان کا دورہ اچانک ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا  جس کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز ملتوی کردی گئی تھی۔

 

بعد ازاں نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈیوڈ وائٹ نے اپنے بیان میں  کہا کہ انھیں مکمل اطمینان تھا اسی لیے ٹیم پاکستان بھیجی تھی تاہم  سب کچھ جمعے کے روز بدلا، ایڈوائزری تبدیل ہوئی اور صورتحال بدل گئی، تھریٹ لیول بدلا، اسی لیے دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔