خیبر پختونخوا کے میگا پراجیکٹ بی آر ٹی کی انکوائری قومی احتساب بیورو نے شروع کردی 

خیبر پختونخوا کے میگا پراجیکٹ بی آر ٹی کی انکوائری قومی احتساب بیورو نے شروع کردی 

 

قومی احتساب بیورو نے خیبر پختونخوا کے میگا پراجیکٹ بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے میں مبینہ بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کی انکوائری شروع کردی 

 

نیب نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا سے پشاور بس ریپڈ (بی آر ٹی ) کے ابتدائی خاکہ، اس میں ہونیوالی تبدیلوں اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ ہونیوالے معاہدہ کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ 

 

محکمہ ترقی و منصوبہ بندی خیبر پختونخوا کو موصول ہونیوالے مراسلے میں قومی احتساب بیورو (نیب) ننے ایڈیشنل چیف سیکرٹری سے بی آر ٹی کا تمام ریکارڈ طلب کرلیا ہے جس میں منصوبے کی پری فیزبلٹی، فیزبلٹی ، ڈونر ایجنسیوں کی تفصیلات، کنسلٹنٹ کے انتخاب کا طریقہ کار، اب تک کی جانیوالی ادائیگیاں اور انکی جانب سے موصول ہونیوالی رپورٹس طلب کی گئی ہیں

 

 نیب نے بی آر ٹی کے ورکنگ پیپرز، 2013سے لیکر 2022تک خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے تیار کی جانیوالی ابتدائی اور حتمی رپورٹس کی کابی بھی طلب کرلی ہے۔ 

 

پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کا پی سی ون، نظر ثانی شدہ پی سی ون، تکنیکی کمیٹی کے اجلاس، انتظامی اور تکنیکی منظوری دینے کے اجلاسوں کی روداد اور اجازت دینے کی تفصیلات بھی مانگی ہیں 

 

قومی احتساب بیورو نے صوبائی حکومت سے ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت بی آر ٹی کیلئے لئے جانیوالے تمام امدادی اداروں کے ساتھ ہونیوالے معاہدوں، قرضہ کی تفصیلات، پراجیکٹ کا معاہدہ اور دیگر تمام معاہدوں کی نقل بھی طلب کی ہے 

 

نیب نے ایشیائی ترقیاتی بینک سے پری فیزبلٹی، فیزبلٹی، پراجیکٹ قرض اور دیگر مدوں میں ملنے والی رقم کا احوال بھی مانگ لیا ہے پراجیکٹ امپلیمنٹیشن یونٹ، پراجیکٹ مانیٹرنگ یونٹ، پراجیکٹ سٹیئرنگ کمیٹی کا مکمل ریکارڈ اور اس میں شامل تمام ملازمین کی فہرست، انہیں فراہم کردہ گاڑیاں، پراجیکٹ کی فہرست اور تنخواہوں سمیت تمام وسائل کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔

 

 بی آر ٹی منصوبے کیلئے اگر کسی تکمیل کا سرٹیفکیٹ فراہم کیا گیا ہے تو اس کی نقل، مرمت کی تفصیلات، آئی ٹی سامان اور گاڑیوں کی خریداری سمیت تمام اشیاء کا ریکارڈ بھی فراہم کرنے کی تلقین کی گئی ہے

 

 قومی احتساب بیورو نے بی آر ٹی کیلئے قرضہ کی فراہمی کے طریقہ کار، خیبر پختونخوا پریکیورمنٹ رولز کے تحت اخراجات اور اگر کسی مد میں ان قواعد کو نظر انداز کیا گیا ہے تو اس کی وجوہات بھی پوچھی ہیں جبکہ منصوبے کی عبوری ادائیگیوں کا سرٹیفکیٹ کا ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے۔

 

محکمہ ترقی و منصوبہ بندی ذرائع کے مطابق قومی احتساب بیورو نے یہ ریکارڈ دو روز میں فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے تاہم یہ ریکارڈ اتنی جلدی فراہم نہیں کیاجاسکتا اس حوالے سے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور محکمہ ٹرانسپورٹ سے تمام ریکارڈ طلب کیاگیا ہے محکمہ ترقی و منصوبہ بندی، محکمہ ٹرانسپورٹ اور پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے پاس موجود مکمل ریکارڈ جلد نیب کو فراہم کردیا جائیگا 

 

واضح رہے کہ بی آر ٹی پر کام اکتوبر 2017میں شروع کیا گیا تھا جو اب تک جاری ہے تاہم مین کاریڈور مکمل ہونے کے بعد بس سروس کا افتتاح 13اگست 2020کو اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے کیا تھا۔