غداری کا شاہکار منصوبہ

غداری کا شاہکار منصوبہ

تحریر: عامر گمریانی
پاکستانیوں کی جذباتیت، معصومیت اور سادہ لوحی سے فائدہ اٹھانے کے لئے غداری کا شاہکار منصوبہ مارکیٹ میں کامیابی کے ساتھ داخل کر دیا گیا ہے۔ پشتو میں کہتے ہیں کہ جب تک سچ پہنچتا ہے، جھوٹ گاؤں کے گاؤں برباد کر چکا ہوتا ہے۔ پاکستانیوں کا حافظہ کمزور سہی لیکن کچھ واقعات ذہن پر ہمیشہ کے لئے نقش ہو جاتے ہیں۔ ریمنڈ ڈیوس نے دن دیہاڑے لاہور میں دو پاکستانیوں محمد فہیم اور فیضان حیدر کو قتل کیا تو شاہ محمود قریشی کو بھٹو بننے کا خیال سوجھا۔ موصوف اس وقت وزیر خارجہ تھے جبکہ اس کے سیاسی حریف یوسف رضا گیلانی وزیراعظم۔ وزرات خارجہ سے وزارت عظمی تک پہنچنے کے لئے شاہ محمود نے دبنگ سٹائل اپنا کر اپنی ہی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ وزارت خارجہ سے استعفی دے دیا اور عوامی جذبات ابھارنے کے واسطے اپنے قد سے دس دس گز لمبے بیانات دینے شروع کئے۔ بھٹو بننے کے لئے حالات واقعی سازگار تھے لیکن موصوف بھول گئے تھے کہ حالات کے ساتھ ساتھ بھٹو بننے کے لئے شخصیت میں بھی کچھ نہ کچھ ہونا چاہیے۔ مزار پر بیٹھ کر لوگوں پر پھونکیں مار کر  اور عورتوں کے بال قینچی سے کاٹ کر نوٹ جمع کرنے والا بھٹو کیسے ہو سکتا ہے؟ شاہ محمود نے لگتا ہے بہت صراحت کے ساتھ وہی آئیڈیا عمران خان کے دل و دماغ میں بٹھا دیا ہے۔ عمران کو بھٹو بننے کی چنداں ضرورت نہیں لیکن عدم اعتماد کی تحریک سے بچنے کے لئے عوام میں امریکی مخالف جذبات کو ہوا دینے کی اشد ضرورت تھی۔ یقیناً یہ خیال شاہ محمود کے چالاک ذہن سے ہی برآمد ہو سکتا تھا اور جب وزارت خارجہ بھی شاہ محمود کے ہاتھوں میں تھی تو یہ کھیل کھیلنا مزید آسان ہوا۔ جب سے کپتان کی حکومت بنی ہے، خارجہ محاذ پر شاہ محمود کے اسی ایک کام کو کپتان سراہ سکتے ہیں۔ خیال شاہ محمود کا تھا لیکن اس کے لئے منصوبہ بندی جدید سائنسی بنیادوں پر ہوئی ہے۔ پاکستانی نوجوانوں کے جذبہ حب الوطنی اور سادہ لوح ناخواندہ اور نیم خواندہ عوام کی معصومیت سے کھیلتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھنے کے لئے کپتان نے نہایت تیر بہ ہدف منصوبہ تیار کیا ہے۔ طریقہ وہی ہے کہ سازش سازش کا اتنی کثرت اور تواتر سے ذکر کرو کہ آپ کی اصل سازش کی طرف لوگوں کا دھیان نہ ہو اور لوگ اس جھوٹ کو سچ ماننے لگیں۔ باقی کام ڈاکٹر ارسلان جیسے میڈیائی ماہر سنبھال لیں گے۔ یادش بخیر عراق جنگ کے لئے فضا بنانے کے لئے امریکہ اور برطانیہ نے پروپیگنڈے کے اسی طریق کا خوب استعمال کیا تھا۔ جھوٹ اس کثرت سے بولو کہ لوگ اس کو بالآخر سچ سمجھنے لگیں۔ ڈبلیو ایم ڈی یعنی بڑے پیمانے پر تباہی کے ہتھیار لوگوں کا تکیہ کلام بنا، ہر اخبار، ہر چینل، ہر تقریر اور ہر محفل پر ڈبلیو ایم ڈی کا شور اٹھا جو بالآخر امریکی حملے کا جواز بنا۔ یہ الگ بات کہ عراق کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے بعد کہیں بھی بڑے پیمانے پر تباہی کے ہتھیار نہیں ملے۔ یہی فارمولہ وار آن ٹیرر کے لئے بھی بروئے کار لایا گیا۔ القاعدہ جیسی تنظیم کو دنیا کے واحد سپر پاور کے مقابلے میں لا کھڑا کیا اور افغانستان میں آگ اور خون کی وہ ہولی کھیلی گئی جس کی تپش سے پاکستان میں بھی ستر ہزار بے گناہ مارے گئے۔ تواتر سے جھوٹ بول بول کر اسے سچ تسلیم کروانے کی اس تھیوری کے پیچھے کہتے ہیں کہ امریکہ اور مغرب کی طاقتور ترین یہودی لابی تھی۔ پاکستان کے موجودہ حالات میں بھی یہی طریقہ بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ کپتان کا اسلام آباد جلسے سے پہلے سرپرائز کا کارڈ کھیلنا عوام میں اسی منصوبے کے اجرا کا نقط آغاز تھا۔ اس سے پہلے امریکی سازش کی پھکی میڈیا کے زریعے عوام کو دے دی گئی تھی۔ کپتان کا جیب سے خط نکال کر ہوا میں لہرانا اور واپس جیب میں ڈالنا حس سماعت کے بعد حس بصارت کو اس سازش میں شامل کرنے کی سعی تھی۔ اخبارات اور چینل پر خط کا کثرت سے ذکر، نیشنل سیکورٹی کمیٹی میں اس کو زیر بحث لانا، بعد ازاں اس خط کو بنیاد بنا کر تحریک عدم اعتماد کو خارج کرنا، اسمبلیاں تحلیل کرنا؛ ساری  چیزیں خط کے گرد ہی گھومتی رہیں۔ ایک خط کو بنیاد بنا کر اتنے بڑے بڑے فیصلے کرنے سے عوام میں خط کے متعلق تشویش کا پھیلنا باعث تعجب ہرگز نہیں۔ سپریم کورٹ کے حکم پر تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کو پورا دن کھینچنا اور آخری لمحات میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے استعفے، سپیکر قومی اسمبلی کا استعفی سے پہلے خط دکھانا اور تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد نئے وزیراعظم کے انتخاب سے پہلے ڈپٹی سپیکر کی قومی اسمبلی میں جذباتی تقریر کے دوران خط کا بار بار ہوا میں لہرانا، ساری کی ساری باتیں اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ کپتان نے اپنی آئندہ کی تمام سیاست خط کے زریعے کرنے کا پکا تہیہ کر رکھا ہے۔ آپ کپتان کے منصوبے کی داد دیں کہ لگ بھگ چار سال کی ناکام ترین حکومت کے بعد لوگ ان سے مہنگائی، بیروزگاری اور ناکام گورننس کے متعلق نہیں پوچھ رہے بلکہ ہر جگہ خط اور سازش کا بول بالا ہو رہا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے دن عدالت سے آئی ایس آئی چیف اور کپتان کے مربی جنرل پاشا امریکی سفیر ڈیوڈ کیمرون کو لمحہ بہ لمحہ آگاہ کرنے کے لئے موبائل فون سے میسجز پر میسجز کر رہے تھے۔ مظلوم خاندانوں کو دھونس اور دھمکی کے زریعے دیت کے قانون پر راضی کرنے والے بھی جنرل شجاع پاشا ہی تھے۔ آج وہی جماعت جو جنرل شجاع پاشا کے بل بوتے متبادل قیادت کے طور پر ابھری تھی، امریکہ کے خلاف مورچہ زن ہے اور اس کی مخالفت کرنے والے ہر سیاسی لیڈر، کارکن اور لکھاری کو غلامی کے طعنے مل رہے ہیں۔ آج کے پاکستان میں اگر آپ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں تو آپ محب وطن اور اگر آپ کپتان سے اختلاف رکھنے اور کرنے کی جرات کر رہے ہیں تو آپ جو بھی ہیں، ہیں غدار۔ چند دن پہلے پشاور میں خون کی ہولی کھیلی گئی تو اس وقت وزیراعظم صاحب کو توفیق نہیں ہوئی کہ پشاور آ کر اس شہر کی دلجوئی کریں لیکن اب اپنے سیاسی مفاد کے لئے ایک مرتبہ پھر پشاور آ رہے ہیں، پختونوں کے سامنے خط لہرانے، انہیں بیوقوف بنانے، ان کے جذبات سے کھیلنے۔۔ تاکہ ایک مرتبہ پھر وزیراعظم بن کر ثابت کریں کہ کپتان کبھی تھکتا نہیں، کبھی ڈرتا نہیں کبھی پیچھے ہٹتا نہیں 
کب تلک کان دھرے کوئی تری باتوں پر
شہر کا شہر تو غدار نہیں ہو سکتا