مالاکنڈ واقعہ انتظامی غفلت، سیکورٹی انتظامات نہیں تھے، میاں افتخار

 مالاکنڈ واقعہ انتظامی غفلت، سیکورٹی انتظامات نہیں تھے، میاں افتخار

پشاور(شہباز نیوز)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ ملاکنڈ واقعہ، انتظامیہ کی نااہلی تھی اور اپنی نااہلی چھپانے کیلئے حیلے بہانے کررہی ہیں۔ہمارے جلسے کیلئے سیکیورٹی کے خاطرخواہ انتظامات نہیں کئے گئے تھے، کیا انتظامیہ سے پوچھنے والا کوئی نہیں۔

 

باچاخان مرکز پشاور میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے میاں افتخارحسین نے کہا کہ 2010 سے آج تک جو سیکیورٹی تھریٹس ہیں، ہم جہاں بھی گئے ہیںپولیس، لیویز، ایف سی سمیت تمام سیکیورٹی اداروں نے مناسب سیکیورٹی دی، جس کیلئے ہم مشکور ہیں۔ ایسا کیوں ہوا کہ سخاکوٹ کی انتظامیہ نے نہ سیکیورٹی دی نہ ہی کوئی واک تھرو گیٹ لگایا گیا تھا۔ہم مانتے ہیں کہ جس کے پاس پستول تھی وہ مبینہ طور پر پاگل شخص تھا لیکن وہ جو کہہ رہا ہے اس سے کیوں توجہ ہٹائی جارہی ہے؟انتظامیہ جھوٹ بول رہی ہے کہ اس شخص کو لیویز نے گرفتار کیا، ہمارے اراکین نے انتظامیہ کے حوالے کیا،پستول کے حوالے سے بھی جھوٹ بولا گیا، ضلعی صدر اعجاز خان نے خود پستول سے میگزین نکالا اور انتظامیہ کو دیا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ملاکنڈ انتظامیہ نے معذرت یا رابطے کی بجائے اس واقعے کو ڈراما قرار دیا۔ایک غیرمتعلقہ اسسٹنٹ کمشنر (اے سی بٹخیلہ) نے واٹس اپ گروپ میں اس واقعے کے خلاف تشہیر کی ہدایات دیں۔ایسا تاثر دیا جارہا ہے کہ سخاکوٹ انتظامیہ وہاں پر ہونیوالے جرائم میں ملوث ہیں۔محمدزادہ کے کیس میں بھی اصل مجرمان کی بجائے ان کے کارندوں کو میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا۔معصومانہ اور سادہ مطالبہ یہ ہے کہ انتظامیہ تحقیقات کرائے، شاہ فیصل نامی شخص کو گرفتار کریں۔

 

میاں افتخارحسین نے مزید کہا کہ ہماری ہمدردی والدین کے ساتھ ہیںکہ اللہ تعالی نے انہیں مجذوب اولاد سے نوازا ہے لیکن والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کو خیال رکھیں کیونکہ اس ملک میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ہمدردی کی بنیاد پر اصل مسئلے سے توجہ ہٹانا کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائیگی۔

 

انہوں نے مطالبہ کیا کہ غیرجانبدار تحقیقات کرائی جائیں، جو حقائق ہیں، عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہوجائے۔ہم دہشتگردوں کے سامنے بھی کھڑے رہے تو اس قسم کے واقعات سے ڈرنے والے نہیں۔باچاخان کے سپاہیوں نے 1000 سے زائد رہنمائوں اور کارکنان کی قربانیاں دی ہیں۔