لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثہ اور منفی پروپیگنڈا

لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثہ اور منفی پروپیگنڈا

                                                         شجاعت خان احمدانی


سو جاؤ عزیزو کہ فصیلوں پہ ہر اک سمت
ہم لوگ ابھی زندہ و بیدار کھڑے ہیں\


قارئین کرام! موت جسم کو آتی ہے ہمت اور جذبے کو نہیں۔ پاکستانی فوج کی ہمت اور جذبے کو دنیا کی کوئی طاقت کبھی ختم نہیں کر سکتی۔ قوت ایمانی کے جذبے سے سر شار پاک فوج دکھ اور پریشانی کی ہر گھڑی میں ملک و قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔ وطن کی حرمت کی پاسدار پاک فوج سیاچن کے ٹھنڈے یخ  گلیشیئرز  سے لے کر سندھ کے تپتے ریگستانوں تک قوم کی خدمت اور ملکی  سلامتی کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہتی ہے۔2005  کا قیامت خیز زلزلہ ہو یا2010  کا تباہ کن سیلاب، کورونا وائرس ہو یا  ٹڈی دل کا حملہ یا پھر دوسری قدرتی آفات افواج پاکستان کے نوجوانوں نے عزم و حوصلے کے ساتھ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے لوگوں کو محفوظ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ قوم کی خدمت اور وطن کی حفاظت کرتے کرتے کئی فوجی جوان اپنے پیاروں سے بچھڑ کر شہادت کے رتبے سے فیض  یاب ہوئے لیکن وطن کی عزت و ناموس پر کبھی کوئی انگلی نہیں اٹھنے دی۔ پاکستان کی تاریخ پاک فوج کی جرات اور بہادری کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ حال ہی میں بلوچستان میں ہونے والی تباہ کن بارشوں نے تباہی مچا دی۔ بلوچستان کے  مجموعی34  اضلاع میں سے26  اضلاع ان طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں سے متاثر ہوئے جن میں لسبیلہ، جھل مگسی، کچھی، نوشکی، پنجگور، قلات، کوئٹہ، پشین اور قلعہ سیف اللہ شامل ہیں۔ بلوچستان میں سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے پاک فوج کے دستوں نے ریلیف آپریشنز شروع کیے۔ یکم اگست کو لسبیلہ میں پاک فوج کا ایک ہیلی کاپٹر جو سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف آپریشن کے بعد واپس کراچی جاتے ہوئے لاپتہ ہوا تھا وہ ہیلی کاپٹر حب ڈیم کے قریب خراب موسم کی وجہ سے موسی گوٹھ میں گر کر تباہ ہوا۔2  اگست کو اس ہیلی کاپٹرکا ملبہ ملا۔ اس حادثے میں پاک فوج کے چھے جوانوں نے جام شہادت نوش کی۔ شہید ہونے والوں میں کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی، ڈائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈز میجر جنرل امجد حنیف ستی اور انجینئرنگ کور کے بریگیڈیئر محمد خالد کے علاوہ عملے کے تین ارکان بشمول پائلٹ میجر سعید احمد، پائلٹ میجر محمد طلحہ منان اور نائیک مدثر فیاض شامل  تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کا تعلق 79ویں لانگ کورس سے تھا اور وہ پاکستان آرمی کی سکس آزاد کشمیر رجمنٹ کا حصہ تھے۔ جب موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ10  کور کمانڈ کر رہے تھے، اس وقت لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کے پاس بطور بریگیڈیئر ٹرپل ون بریگیڈ کی کمان تھی۔ اس کے بعد وہ امریکہ میں پاکستان کے سفارت خانے میں بطور ڈیفینس اتاشی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ امریکہ سے واپسی کے بعد لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی سٹاف کالج کوئٹہ کے کمانڈنٹ تعینات ہوئے جس کے بعد وہ ملٹری انٹیلی جنس یعنی ایم آئی کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر بھی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔ ایم آئی میں خدمات سرانجام دینے کے بعد وہ ایف سی بلوچستان ساؤتھ کے آئی جی تعینات ہوئے۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں ان کے ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا۔ لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی ہونے کے بعد انھیں کور کمانڈر 12 کور، جسے کوئٹہ کور بھی کہا جاتا ہے، تعینات کیا گیا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے33  سال ملک وقوم کی خدمت کی۔ انہوں نے دو بار تمغہ بسالت حاصل کیا۔ ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے ڈی جی کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد حنیف کا تعلق راولا کوٹ آزاد کشمیر سے تھا، میجر جنرل امجد حنیف نے1994  میں آزاد کشمیر رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا، شہید نے سوگواروں میں بیوہ ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کو چھوڑا ہے۔ شہید کمانڈر انجینئر12  کور بریگیڈیئر محمد خالد کا تعلق فیصل آباد سے تھا، بریگیڈیئر محمد خالد نے1994  میں20  انجنئیر بٹالین میں کمیشن حاصل کیا، شہید نے بیوہ، تین بیٹیوں اور تین بیٹوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔ شہید پائلٹ میجر سعید کا تعلق لاڑکانہ سے تھا، انہوں نے بیوہ، ایک بیٹی اور ایک بیٹے کو سوگوار چھوڑا ہے۔ ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے معاون پائلٹ میجر محمد طلحہ منان نے بیوہ اور دو بیٹوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔ شہید کریو چیف نائیک مدثر فیاض کا تعلق نارووال سے تھا اور انہوں نے بیوہ کو سوگوار چھوڑا ہے۔ اس افسوس ناک حادثے سے پوری پاکستانی قوم کو  بہت زیادہ دکھ ہوا۔ اس حادثے کے فوراً بعد کچھ شرپسند سیاسی پرجوش افراد نے اپنی  ذاتی اور سیاسی عداوت کو سامنے رکھتے ہوئے انتہائی گھٹیا اور من گھڑت پروپیگنڈا شروع کر دیا جس کا نہ ہی کوئی ثبوت ہے اور نہ ہی کوئی جواز۔ ان کے ایسے تضحیک آمیز اور غیرحساس تبصروں سے ہر محب وطن پاکستانی کا دل دکھا۔ جب پوری قوم ایک کرب ناک صورتحال سے گزر رہی تھی  تب اس طرح کے من گھڑت پروپیگنڈے اور گھناؤنی مہم سے ادارے، افسران، جوانوں اور خاص کر شہدا کے لواحقین کو بہت زیادہ اذیت اور تکلیف سے گزرنا پڑا۔ ایک طرف شہدا کے لواحقین اپنوں کی جدائی میں غم سے نڈھال تھے دوسری طرف ایسا  غلط پروپیگنڈہ  ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترداف تھا۔ افواج پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ مہم چلانے والے تحریک انصاف یوتھ ونگ کے رہنما منیب کیانی کو گزشتہ روز ایف آئی اے کی ٹیم نے گرفتار کر لیا تھا۔ ملزم نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ گزشتہ روز میں نے دو ٹوئٹس کیں جن میں ایک ٹوئٹ کو میں نے خود جنریٹ کیا جبکہ ایک کاپی پیسٹ کی۔ جہاں سے ٹوئٹ کاپی پیسٹ کی اس میں ایک پیج زرمنہ خان پی ٹی آئی، سبینہ کیانی پیج اور ایک عمران ریاض خان پیج تھا جس سے ساری معلومات لے کر ٹوئٹ جنریٹ کی۔ اس میں کچھ بھی سچ نہیں تھا اور میں نے بھی اس کی تصدیق بالکل نہیں کی تھی۔ اس نے اپنے کیے پر معذرت  اور شرمندگی کا اظہار کیا۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے بلوچستان میں ہیلی کاپٹر حادثے اور شہدا کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کرنے والے مزید دیگر عناصر کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے کریش ہونے کے بعد چھ شہید افسران کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کے خلاف تحقیقات اور کاروائی کیلیے ایف آئی اے نے جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے۔ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ایڈشنل ڈی جی کی سربراہی میں چار افسران پر مشتمل چار رکنی جے آئی ٹی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق ایڈیشنل ڈی جی سائبر کرائم ونگ محمد جعفر کی سربراہی میں جے آئی ٹی تحقیقات کرے گی، جس میں ڈائریکٹر آپریشن سائبرکرائم ونگ نارتھ وقار الدین سید، ایڈیشنل ڈائریکٹر ایاز، اور عمران حیدر بھی تفتیشی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔ ایسے عناصر کے خلاف ضرور کاروائی ہونی چاہیے اور ان کے  پیچھے کون لوگ ہیں سب کو پکڑ کر عوام کے سامنے لانا  چاہیے۔ پاکستان کے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کا صحیح استعمال کرنا چاہیے۔ انہیں فضول اور من گھڑت باتوں کو بغیر کسی جانچ پڑتال اور تصدیق کے کسی بھی صورت نہیں پھیلانا چاہیے۔ ہمیں سیاسی اور ذاتی مفادات کو ترک کر کے ایک محب وطن پاکستانی کی طرح ملک کی سلامتی کیلیے اداروں کے خلاف کبھی بھی ہرزہ سرائی نہیں کرنی چاہیے۔ یہ کسی ایک شخص کا وطن نہیں لاکھوں کروڑوں لوگوں کا وطن ہے۔ جب آپ افواج پاکستان کی قربانیوں کو بھلا کر  ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا چلائیں گے تو اس سے ملک دشمن قوتیں خوش ہوں گی اور آپ کے اس کردار سے کروڑوں پاکستانیوں کے دل دکھیں گے۔ جس طرح افواج پاکستان مشکل اور تکلیف کی ہر گھڑی میں قوم کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں ہمیں بھی چاہیے کہ دکھ کی ہر گھڑی میں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ آپ کو یاد رکھنا چاہیے ملک و قوم کی خاطر قربانیاں دینے والے قوم کے محسن ہوتے ہیں۔ اللہ پاک ہیلی کاپٹر حادثہ کے شہدا کے درجات بلند فرمائے اور پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائے۔ پاکستان زندہ باد!


دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت
میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی